علماء کو عصری علوم سے لیس ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے :مولانا عبدالغفور حیدری

علماء کو عصری علوم سے لیس ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے :مولانا عبدالغفور حیدری

پشاور(سٹاف رپورٹر) سینٹ کے ڈپٹی چیئر مین اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولاناعبدالغفور حیدری نے جامعہ عثمانیہ پشاور کے زیر انتظام العصر ہائی سکول کے آٹھویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینِ اسلام ہر گز عصری علوم کے خلاف نہیں بلکہ اسلام نے توحصولِ علم کا حکم دیا ہے ۔تمام انبیا ئے کرام انسانیت کو تعلیم سکھلانے کے لیے آئے تھے تویہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اسلام تعلیم دینے کے مخالف ہے ۔البتہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ضروری ہے آج بدقسمتی یہ ہے کہ عصری تعلیمی ادارے صرف اعلی تعلیم دینے میں کوشاں ہیں اور تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے ڈگریوں کے حامل لوگ قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت پر صحیح تلفظ نہیں کرسکتے ۔اگر حکومتی سطح پر پر دینی علوم کے حصول کا کوئی جامع پروگرام ہوتا تومدراس کی ضرورت نہ ہوتی ۔ مدارس تواس لیے قائم کیے گئے ہیں کہ جس نظریے کے تحت ہم نے پاکستان کو حاصل کیا اسی کا تحفظ ہوجائے ۔پاکستان بنانے کا مقصد ایک فلاحی ریاست کا قیام تھا جہاں اسلام کے بنیاد پرہمارا نظامِِ تعلیم ہوگا،نظامِ عدل ہوگا ۔اسلام کا معاشی نظام ہوگا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم نے اس نظریے کو پس پشت ڈالا ہوا ہے ہمار اعدالتی نظام انگریز کا چھوڑاہوا فرسودہ نظام ہے جہاں فوری انصاف ممکن نہیں آج لوگ اسی کے لیے ترس رہے ہیں ۔ لاالہ الا اللہ کا نعرہ ایک پورا نظامِ حیات ہے ۔اگر ہمارا تعلیمی نظام اسلامی خطوط پر استوار ہوتا توآج ہم اس مشکلا ت میں نہ ہوتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ آج بدقسمتی سے ہمارے عصری تعلیمی ادارے اعلی تعلیم تودے رہے ہیں لیکن وہ تعلیم نہیں دے رہے ہیں جس سے فرد کا اصلاح ہوجائے حالانکہ ترقی کا دارومدار صرف تعلیم پر نہیں بلکہ جب تک فرد کا اصلاح نہ ہوجائے وہ تعلیم بے کار ہے یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں روز بروز بگاڑ زیادہ ہوتا جارہا ہے اگر بچو ں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ہوجائے تووہ بڑے ہوکر ملک وقوم کے لیے روشنی بن جاتے ہیں ۔آج ملک میں رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں دینی علوم اور تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ملک سے کرپشن اور خیانت ختم کرنے کا واحد علاج یہی ہے کہ بچوں کی صحیح تربیت کی جائے۔انہوں نے العصر ایجوکیشن سسٹم کی کارکردگی کوسراہا اور اس کا قیام ایک مثبت قدم قراردیتے ہوئے کہا کہ العصر سکول نے آج اس پروپگینڈہ کوغلط ثابت کرکے دکھا دیا کہ مولوی عصری تعلیم کے خلا ف نہیں ۔ تقریب سے العصر ہائی سکول کے چئیر مین اور جامعہ عثمانیہ پشاور کے مہتمم مفتی غلام الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ العصر ہائی سکول دینی وعصری علوم کا حسین امتزاج رکھنے والا ادارہ ہے ۔یہاں اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔بچوں کے روشن مستقبل اور مثالی انسان بنانے کے خواب کی تکمیل سے ہم کبھی بھی غافل نہیں ۔ انہوں نے والدین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں پرا ثرانداز ہونے والے تین چیزیں ہیں ۔گھر ، سکول اور معاشرہ ۔ یہ ایک تکون ہے تب کام چلے گا جب تینوں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پورے کرے رہے ہو ۔تقریب سے العصرسکول کے پرنسپل میاں اقبال شاہ ، وفاق المدارس کے صوبائی ناظم مولانا حسین احمدنے بھی خطاب کیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر