پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کی پیشقدمی روکنے کیلئے ن لیگ کا جوابی سیاسی وار، ذوالفقار مرزا سے رابطے کا فیصلہ

پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کی پیشقدمی روکنے کیلئے ن لیگ کا جوابی سیاسی وار، ...
پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کی پیشقدمی روکنے کیلئے ن لیگ کا جوابی سیاسی وار، ذوالفقار مرزا سے رابطے کا فیصلہ

  

لاہور (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی اور پی پی پی کی پنجاب میں سیاسی پیشقدمی، ن لیگ نے سندھ اور کے پی کے میں جوابی سیاسی حملہ کی تیاری کرلی۔ ایم کیو ایم، فنکشنل لیگ کے ساتھ ساتھ سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا سے بھی سیاسی مدد لینے کا فیصلہ کرلیا گیا جبکہ موجودہ گورنر سندھ کی موجودگی میں مسلم لیگ ن میں صوبے میں نئی روح پھونک دی۔ خیبرپختونخوا میں جے یو آئی، جماعت اسلامی اور اے این پی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے امکانات بڑھ گئے۔

پیپلز پارٹی نے مجھے بائی پاس کر کے امریکیوں کو ویزے جاری کئے ، وزیر خارجہ کی مشاورت کے بغیر ایسے اقدامات پر جواب دینا ہوگا : شاہ محمود قریشی

روزنامہ خبریں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے عام انتخابات سے قبل پنجاب میں سیاسی پلیٹ فارم اور دھڑے بندی کی سیاست میں تیزی لئے جانے کے بعد جہاں مختلف افراد اور گروپوں کی طرف سے ان جماعتوں میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے وہیں مسلم لیگ ن نے بھی اس سیاسی حملے کی تیاری کا آغاز کردیا ہے اور پہلے مرحلے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے مقتدر صوبے سندھ میں انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے مختلف جماعتوں اور سیاسی افرادسے رابطے شروع کردئیے گئے۔

سندھ میں اس حوالے سے ایم کیو ایم کے ساتھ بات چیت کا جلد آغاز کردیا جائے گا، اسی طرح اندرون سندھ کچھ شہروں میں پیر صاحب آف پگارا کی جماعت فنکشنل لیگ سے بھی ن لیگ کی مدد کو تیار ہیں جبکہ ن لیگ سندھ کے اہم رہنماءکی جانب سے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا سے بھی رابطہ کیا گیا ہے جس کے بعد امید کی جارہی ہے کہ کچھ روز تک اس بارے میں اہم پیشرفت ہوگی اور چند اہم سندھی سیاسی رہنما ن لیگ میں شمولیت بھی اختیار کرسکتے ہیں۔

پنجاب کو زیادہ گیس کی فراہمی شریف خاندان کی الیکشن خریدنے کی کوشش ہے:عمران خان

دوسری طرف خیبرپختونخوا میں ن لیگ کے اتحاد مولانا فضل الرحمن صوبے کے ساتھ ساتھ فاٹا میں بھی اتحاد کے خواہشمند ہیں مگر ن لیگ کی صوبائی قیدات سولوفلائٹ کے حق میں ہے مگر وفاقی قیادت نہ صرف جے یو آئی بلکہ جماعت اسلامی کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خواہش کا اظہار کرچکی ہے۔ اسی طرح چارسدہ اور مردان سمیت کچھ علاقوں میں اے این پی کے ساتھ نشستوں کی ایڈجسٹمنٹ بھی کی جاسکتی ہے۔

مزید :

لاہور -