17ویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

17ویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ
17ویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

  


منہاج سراج مذکور نے سہاک سے ضحاک لکھ کر ایک افسانوی شخصیت ضحاک تازی سے ان کو منسلک کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے اور افغانوں کی تاریخی روایات اور حقیقت کے خلاف ہے بلکہ ابن خلدون نے جو پانچ نام انبیاء علیہم السلام کے بیان کئے ہیں ۔ ان میں ایک نبی کا نام ’’غوریا‘‘ ہے۔ لہٰذا سلاطین غور کے متعلق یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نسبت انہی غوریا کی طرف ہے۔ الغور کی وادی بھی غوریا نبی سے منسوب ہے۔ اور غوری نسباً بھی ان ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ابن بطوطہ نے غوریا خاندان کے سلطان اور قاضیوں اور مشائخ سے سن کر اپنی کتاب میں یہ رائے قائم کی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ غوری نسل ضحاک سے نہیں بلکہ از نسل سہاک بادشاہ سے ہیں جو یعقوب ؑ کی نسل سے تھا اور شامبات اسرائیلی کے خاندان سے آرمینیہ کا حکمران تھا۔

مصنف پٹہ خزانہ تاریخ سوری کے حوالے سے لکھتا ہے کہ :

سولہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’یہ (غوری) امراء عرصہ دراز سے عالقہ غور، بالشتان اور بست میں آباد تھے اور یہ لوگ’’سور‘‘ نامی اس خاندان سے ہیں جو سہاک کی نسل سے ہیں۔‘‘

مصنف تاریخ پٹہ خزانہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس خاندان کی مادری زبان پشتو تھی اور ان میں پشتو زبان کے شعراء بھی موجود تھے۔ اس نے اپی تاریخ میں محمد سوری کے سلطان محمود غزنوی کے ہاتھوں گرفتار ہو کر مرنے پر شیخ اسعد سوری کا ایک مرثیہ بھی درج کیا ہے۔ شیخ اسعد اس کا قریبی رشتہ دار تھا اور اس جنگ میں اس کے ساتھ شریک تھا۔ متذکرہ بالا مرثیہ تاریخ پٹہ خزانہ میں درج ہے۔ واضح رہے کہ یہ مرثیہ ایک ہزار سال پہلے کا ہے۔

گستاؤلی بان تمدن ہند میں لکھتے ہیں کہ:

’’خاندان غزنوی نے ۹۹۶ء سے ۱۱۸۶ء تک غزنی اور لاہور میں حکومت کی، ۱۱۸۶ میں شہاب الدین محمد غوری نے ان کی جگہ لے لی اور ایک افغانی خاندان کی حکومت قائم ہوئی۔‘‘

’’شنسب بن حریق جو علاقہ غور کا رئیس تھا۔ حضرت علیؓ کے زمانہ میں مسلمان ہوا۔ اس کی اولاد افاغنہ شنسبی کہلائی۔انہیں میں لودھی، سوری وغیرہ افغان شامل ہیں۔ محمد سوری اسی شنسب کی اولاد سے تھا اور اس کی چھٹی پشت میں سیف الدین محمد سوری پہلا غوری بادشاہ بنا جس کے بعد علاؤ الدین حسین جہان سوز اور شہاب الدین محمد غوری وغیرہ بادشاہ بنے۔‘‘

تاریخ افغانستان (پشتو) کا مصنف احمد جان ص ۷۸ پر غوری خاندان کے متعلق لکھتا ہے کہ:

’’غوری خاندان کے حجرہ نسب پر منٹسٹوارٹ اتفنسٹن، ڈی جنگسر، پروفیسر ڈارن اور دوسرے قابل ترین مورخین نے بحث کی ہے ان کی غالب اور مضبوط رائے یہی ہے کہ غوری خاندان کی اصل و نسل پختون ہی ہے۔‘‘

یہی مورخ اسی کتاب میں ص ۹۵ پر مزید لکھتا ہے کہ :

’’چنگیز مغل کے مرنے کے بعد جس کی موت ۱۲۲۷ء میں واقع ہوئی کچھ عرصہ بعد افغانوں کی ایک نئی سلطنت غزنی میں قائم ہوئی اور اس سلطنت کے حکمران بھی غوری خاندان والے تھے۔ اس کا پہلا بادشاہ شمس الدین غوری اور اس کے بعد رکن الدین بادشاہ بنا اور اس کے بعد فخر الدین لیکن یہ تینوں بادشاہ مغلوں کے زیر اثر تھے اور ان کا چوتھا بادشاہ غیاث الدین غوری خود مختار بادشاہ بنا۔ اس کے بعد سب بادشاہان یعنی شمس الدین ، ملک حافظ، معزالدین، سلطان حسین اور غیاث الدین غوری(ثانی) آزاد اور خود مختار بادشاہ تھے۔ لیکن آخری بادشاہ سلطان غیاث الدین غوری کے زمانہ میں افغانستان کی آزادی اور بادشاہی دونوں بے موقع ختم ہوئیں۔ یعنی تیمور لنگ کے ہاتھوں ۱۳۸۴ھ میں۔‘‘

بحوالہ سالنامہ کابل ۱۳۱۵ھ ص ۳۶۶ اس مذکورہ غوری خاندان نے ۶۴۳ھ سے ۷۸۳ ھجری تک ہرات میں حکمرانی کی۔‘‘

واضح رہے کہ ابن بطوطہ اسی غوری سلطنت کے زمانہ میں ان کے ہاں ہرات وغیرہ میں آیا تھا اور اس کی اصلیت اور نسب کے بارے میں اس نے انہی سے دریافت کیا تھا۔

محمد حسین فاروقی اپنی تصنیف حکم التاریخ میں محمد غوری کا ذکرتے کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’غور کے تند خو اور قوی ہیکل افغان بہادروں اور دلاوروں کی مدد سے غزنی کو فتح کر لیا۔‘‘

اور آگے ص ۲۹۴ پر لکھتے ہیں:

’’خلجی نام قوم افغان ہے۔‘‘

عبدالقادر بدایونی اپنی تصنیف منتخب التواریخ میں لکھتے ہیں:

’’سلطان شہاب الدین محمد غوری کے سلسلہ امراء میں ایک اور شخص محمد بختیار غوری بھی تھا جو خلجی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ شخص بلاد غور کے اکابرین میں سے تھا وہ جملہ اوصاف حمیدہ کا مالک تھا۔ وہ سلطان محمد غوری کے دور حکومت میں قطلب الدین ایبک کے ہمراہ ہندوستان میں رہا جہاں سے اسے اودھ کی مہم سونپی گئی جس میں اس نے فتح حاسل کی اور بہادر منبر کی جانب بڑھا اور اسے بھی مسخر کر لیا۔ یہ پہلا مسلمان حکمران تھا جس نے بنگال پر چڑھائی کی اور ہندوؤں کی حکومت کا خاتمہ کیا ۔ ان فتوحات میں سلطان نے اسے شاہی خلعت سے نوازا۔‘‘

جاری ہے۔ اٹھارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان