فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ اکتالیسویں قسط

فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ اکتالیسویں قسط
فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ اکتالیسویں قسط

  

’’گلنار‘‘ کی شوٹنگ دیکھنے کے لئے ہم قمر زیدی کے ساتھ شاہ نور اسٹوڈیو پہنچے۔ وہاں سبھی سے ہماری یاد اﷲ ہو چکی تھی۔ سب سے ملتے ملاتے ’’گلنار‘‘ کے سیٹ پر پہنچ گئے۔ یہ لکھنؤ کی ایک قدیم نوابی حویلی کا سیٹ تھا جس پر حقیقت کا گمان گزرتا تھا۔ ’’گلنار‘‘ کی کہانی اردو کی معروف مثنوی ’’زہرعشق‘‘ سے اخذ کی گئی تھی۔ فلم کے ہدایت کار امتیاز علی تاج جیسے فاضل اور تجربہ کار ادیب تھے۔ مکالمے شوکت تھانوی نے لکھے تھے جو لکھنؤ سے بخوبی واقف تھے اور وہاں اکثر آمدورفت رہا کرتی تھی۔ پھر شوکت حسین رضوی بھی موجود تھے جو لکھنؤ ہی کے تھے۔ یوں تو وہ اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے۔ اس زمانے میں فلمیں سوچ سمجھ کر اور تحقیق کے بعد بنائی جاتی تھیں۔ پھر اس فلم سے متعلق حضرات تو مستند اور معتبر لوگ تھے۔ اس لئے ’’گلنار‘‘کے سیٹ پر بالکل حقیقت کا گمان گزرتا تھا۔ حویلی ایسی کہ جیسے سچ مچ کوئی دیو لکھنؤ کی کسی حویلی کو اٹھا کر لے آیا ہے۔ بارہ دریاں، محرابیں کھڑکیاں‘ دروازے، جھاڑ فانوس‘ تخت پوش‘ قالین ہر چیز بالکل اصل نظر آتی تھی۔

چالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سیٹ پر نور جہاں موجود تھیں مگر پہچانی نہیں جا رہی تھیں۔ چست پاجامہ‘ کلیوں دار کرتہ‘ اس پر مخمل کی کوٹی‘ لمبی چوٹی کمر پر لہراتی ہوئی‘ پیروں میں سلیم شاہی جوتی۔ یوں لگتا تھا جیسے پرانے نوابوں کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ کنیزیں‘ مامائیں‘ مغلانیاں دست بستہ کھڑی تھیں۔ ایک جانب بڑا سا تخت بچھا ہوا تھا جس پر قالین اور تخت پوش تھا۔ ہر طرف قالین‘ سفید برف جیسی چاندنیاں اور گاؤ تکیے نظر آ رہے تھے۔ تخت پوش پر ببو بیگم قدیم لکھنؤ لباس میں ایک بڑے سے چاندی کے پاندان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔

منظر یہ تھا کہ وہ پان بنا رہی ہیں کہ نور جہاں آکر آداب بجا لاتی ہیں اور پھر کوئی بات کرتی ہیں۔ امتیاز علی تاج صاحب نے سین کو اوکے کر دیا۔ دوسرے سین کی تیاری شروع ہوئی تو اس وقفے میں شوکت حسین رضوی صاحب بھی سیٹ پر آ گئے۔ ایک لحاظ سے وہ اس فلم کے مشیروں میں شامل تھے اور فلم میں خالص لکھنؤ ماحول پیدا کرنے کے سلسلے میں رہنمائی کیا کرتے تھے۔ ان کے اور شوکت تھانوی صاحب کے مابین فقرے بازی شروع ہو گئی۔ شوکت صاحب بہت بڑے مزاح نگار تھے اور انتہائی سنجیدہ چہرہ بنا کر بہت مذاحیہ باتیں کر جاتے تھے اور لوگ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے۔ وہ بہت حاضر جواب اور فقرہ بازی کے فن کے امام سمجھے جاتے تھے۔ ان میں اور ببو بیگم میں چوٹیں جاری رہتی تھیں مگر ہم نے اگر کبھی شوکت تھانوی صاحب کو لاجواب ہوتے ہوئے دیکھا تو ببو بیگم کے سامنے۔ وہ بڑی فراخدلی سے ان کے اچھے فقروں کی داد بھی دیا کرتے تھے۔

قمر زیدی صاحب نے ہمارا بھی تعارف کرایا۔ شوکت تھانوی صاحب سے ہماری ملاقات تھی مگر امتیاز علی تاج سے ملنے کا وہ پہلا موقع تھا۔ وہ بہت بڑی شخصیت تھے۔ جامہ زیب اور خوب صورت‘ سرخ و سفید رنگت‘ مناسب ناک نقشہ‘ درمیانہ قدو قامت‘ شائستگی اور اخلاق و آداب ان پر ختم تھا۔ غالباً یہ امتیاز علی تاج کی آخری فلم تھی۔ بعد میں انہوں نے کوئی فلم ڈائریکٹ نہیں کی۔ چند سال کے بعد ان کے اپنے گھر میں کسی نے انہیں قتل کر دیا۔ آج تک قاتل کا سراغ ملا نہ ہی یہ معلوم ہوا کہ تاج صاحب جیسے شریف‘ مرنجاں و مرنج او ربے ضرر آدمی کو قتل کرنے کا سبب کیا تھا۔ چلتے چلتے یہ بھی بتا دیں کہ ریڈیو کی مشہور اناؤ نسریا سمین طاہر ان ہی کی صاحب زادی ہیں جن کی نعیم طاہر سے شادی ہوئی ہے۔ اردو کی ایک نامور اور صاحب طرز ادیبہ حجاب امتیاز علی تاج صاحب کی بیگم تھیں۔ بقید حیات ہیں۔ لکھنا لکھانا انہوں نے بند کر دیا ہے۔ زیادہ وقت بلیوں کی پرورش میں گزارتی ہیں جن کی تعداد درجنوں میں ہے۔

’’گلنار‘‘ کے سیٹ پر سنتوش صاحب کو بھی دیکھا۔ وہ بھی چوڑی دار سفید پاجامہ اور انگر کھا زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ’’گلنار‘‘ بہت محنت‘ لگن اور کافی سرمائے سے بنائی گئی تھی مگر شاید موضوع کی وجہ سے زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ مگر پھر ایسے لوگ اور ایسا ماحول کسی اور فلم کے سیٹ پر دیکھنا نصیب نہ ہوا۔

’’گلنار‘‘کی فلم بندی کے زمانے میں ہی ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سارے ملک میں سنسنی پھیلا دی۔ اخبارات میں بھی خبریں شائع ہوئیں مگر اس کے اثرات بہت دور رس اور انتہائی افسوس ناک ثابت ہوئے۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہندوستان کا پہلا دورہ کر کے واپس آئی تو اس میں اوپننگ بیٹسمین نذر محمد کی بہت واہ واہ ہو رہی تھی۔ نذر محمد نے ٹیسٹ میچ میں اوپننگ کرنے کے بعد آخری کھلاڑی تک کے ساتھ کھیلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا اور پھر بھی آؤٹ نہیں ہوئے تھے۔ ہر طرف ان کے کھیل کی دھوم تھی۔ وہ فضل محمود کی طرح قومی ہیروبن گئے تھے۔ خوش شکل اور مردانہ شخصیت کے مالک تھے۔ باتیں بہت دلچسپ کرتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موسیقی کے دلدادہ تھے اور خود بھی بہت سریلے تھے۔ سننے میں آیا کہ میڈم نور جہاں کی ان سے ملاقات ہوئی تو یہ سلسلہ باقاعدہ ملاقاتوں تک پہنچ گیا یہاں تک کہ دوسری جگہوں پر بھی ملاقاتیں ہونے لگیں۔

ایک روز میڈم نور جہاں ان سے ملاقات کے لئے گئی ہوئی تھیں کہ کسی کھوجی نے شوکت صاحب کو خبر دے دی۔ شوکت صاحب آگ بگولا ہو کر مخبر کے ہمراہ گئے۔ اس گھر پر پہنچے تو میڈم نور جہاں وہاں موجود تھیں مگر نذر محمد کا نام و نشان تک نہ تھا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ شوکت صاحب کے گرجنے کی آواز سنی تو نذر محمد نے مکان کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی اور اپنا ایک بازو تڑوا بیٹھے۔ اس طرح پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک مایہ ناز کھلاڑی سے محروم ہو گئی۔ نذر محمد ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بجائے جراحوں اور پہلوانوں کے چکر میں رہے جس کی وجہ سے بازو کی ہڈی ہمیشہ کے لئے خراب ہو گئی اور وہ پھر کرکٹ نہ کھیل سکے۔ البتہ انہوں نے اپنے فرزند مدثر نذر کی صورت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایک نامور کھلاڑی کا تحفہ ضرور پیش کر دیا۔

اب شوکت صاحب اور نورجہاں کا قصہ سنئے۔ شوکت صاحب نے اس مکان میں نورجہاں کو پالیا مگر نذر محمد موجود نہ تھے۔میڈم نور جہاں نے اپنی صفائی میں یہ کہا کہ وہ اپنی عزیز سہیلی سے ملنے کے لئے آئی تھیں لیکن شوکت صاحب کا دل صاف نہ ہوا۔ انہوں نے برا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور غصے میں نورجہاں کو وہیں چھوڑ کر واپس چلے آئے۔ اگلے ہی روز نذر محمد کا بازو ٹوٹ جانے کی خبر بھی عام ہو گئی۔ اس زمانے میں دنیا بہت سمٹی ہوئی تھی۔ ہر بات پل بھر میں عام ہو جایا کرتی تھی۔ میڈم نور جہاں تو اس واقعے کی تردید ہی کرتی رہیں مگر شوکت صاحب کو یقین نہ آیا۔ وہ غصے میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے واپس لوٹ گئے اور سب کو بتادیا کہ وہ نور جہاں کی صورت تک نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس حالت میں نور جہاں کے شاہ نور اسٹوڈیو واپس آنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ ’’گلنار‘‘کے فلم ساز میاں احسان جو اس گھرانے کے بہت پرانے دوست بھی تھے نور جہاں کو اپنے گھر لے گئے۔ ’’گلنار‘‘ کی شوٹنگ رک گئی۔ شاہ نور اسٹوڈیو میں میڈم نور جہاں کے گانوں کی صدا بندی بھی بند ہو گئی۔ اس وقت تک وہ شاہ نور کے علاوہ کسی اور اسٹوڈیو میں گانا ریکارڈ نہیں کراتی تھیں۔ اس طرح جو تھوڑا بہت فلمی کام ہو رہا تھا وہ بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ شادی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ نور جہاں گھر سے باہر رہائش پذیر تھیں۔

چند دن تو بندش جاری رہی پھر متعلقہ لوگوں نے اور خاص طور پر امتیاز علی تاج صاحب نے شوکت صاحب کو سمجھایا کہ اس طرح تو دوسرے لوگوں کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ شوکت صاحب نے نور جہاں کو شوٹنگ اور ریکارڈنگ کے لئے شاہ نور اسٹوڈیو آنے کی اجازت تو دے دی مگر گھر کے دروازے ان پر بند ہی رکھے۔ اس طرح نور جہاں کا شاہ نور اسٹوڈیو میں آنا جانا شروع ہو گیا مگر شوکت صاحب ان سے بے تعلق ہی رہے۔ انہوں نے نور جہاں کی موجودگی میں ’’گلنار‘‘ کے سیٹ پر جانا ترک کر دیا۔ جب نور جہاں کے گانے کی صدا بندی ہوتی تو وہ ریکارڈنگ ہال سے دور دور ہی رہتے مگر یہ بے رخی زیادہ عرصے نہ چل سکی۔

شوکت حسین رضوی اور نورجہاں کی ازدواجی زندگی میں آئندہ جا کر جو خرابیاں پیدا ہوئیں یہ واقعہ اس کا سنگ بنیاد بنا اور پھر رفتہ رفتہ فاصلے پیدا ہوتے چلے گئے۔ شوکت صاحب اپنی خودداری اور ضد کے ہاتھوں مجبور تھے۔ ادھر میڈم نور جہاں کو ہمدردوں اور دوستوں کے روپ میں ایسے لوگ مل گئے جنہوں نے ان دونوں کے درمیان ایسے حالات پیدا کر دیے کہ نوبت مقدمہ بازی اور بد ترین الزام تراشی تک پہنچ گئی۔ قصور وار کون تھا؟ اس کا فیصلہ ہم اور آپ تو نہیں کر سکتے۔ دونوں کے پاس شکایات کا انبار اور الزامات کا پلندا موجود ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ شوکت صاحب واقعی نور جہاں کے عشق میں گرفتار تھے۔ سنا ہے کہ کسی زمانے میں وہ بھی شوکت صاحب سے سچا عشق کرتی تھیں مگر شوکت صاحب کی حالت ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ وہ بجھ سے گئے تھے۔ خاموش اور مغموم رہنے لگے تھے۔ جس وقت نورجہاں شاہ نور اسٹوڈیو میں آتی تھیں تو شوکت صاحب ادھر ادھر ہو جاتے تھے مگر پھر بڑی بے چینی کے ساتھ ’’گلنار‘‘کے سیٹ کے باہر گھومتے نظر آتے۔ اگر نور جہاں کے گانے کی صدا بندی ہوتی تو شوکت صاحب ریکارڈنگ ہال کے آس پاس ہی پائے جاتے۔ اس اثنا میں بعض مشترکہ دوستوں نے نورجہاں کی جانب سے صفائی پیش کرنی شروع کر دی تھی اور نورجہاں کے پیغام بھی شوکت صاحب کو پہنچانے لگے تھے مگر شوکت صاحب روٹھے ہی رہے۔

ایک رات ’’گلنار‘‘کی شوٹنگ جاری تھی۔ میڈم نور جہاں کے کام میں وقفہ آیا تو وہ تازہ ہوا کھانے کے لئے سیٹ سے باہر نکل کرباغ میں پہنچ گئیں۔ وہاں قالین بچھے ہوئے تھے۔ تھک ہار کر لیٹیں تو آنکھ لگ گئی۔

شوکت صاحب حسب معمول چاروں طرف بولائے بولائے پھر رہے تھے۔ نور جہاں کو باغ میں سوتے ہوئے دیکھا تو ایک بار تو نظر انداز کر کے چلے گئے مگر پھر وہیں منڈلانے لگے۔ آخر نہ رہا گیا تو نور جہاں کے پاس پہنچ گئے۔ انہیں جھنجوڑ کر بیدار کیا اور پوچھا ’’یہاں فرش پر کیوں لیٹی ہو؟‘‘

نورجہاں نے جوا ب نہ دیا مگر آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔

شوکت صاحب نے پھر پوچھا ’’نورجہاں‘ یہاں کیوں لیٹی ہو؟‘‘

نور جہاں بے اختیار اٹھ کر شوکت صاحب سے لپٹ گئیں اور رونے لگیں ’’میاں‘ مجھے معاف کر دو ‘‘

شوکت صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ انہیں گلے لگالیا اور پھر گود میں اٹھا کر گھر کے اندر لے گئے۔

یہ واقعہ ہمیں لقمان صاحب نے سنایا تھا۔ وہ اب مرحوم ہو چکے ہیں مگر وہ کہتے تھے کہ وہ اس واقعے کے عینی شاہد تھے۔ وہ شوکت صاحب کے پرانے اسسٹنٹ تھے اور بمبئی میں ان دونوں کے گھر میں بھی رہ چکے تھے۔ شوکت صاحب اور نورجہاں کے حقیقی دوستوں کی طرح وہ بھی ان کی علیحدگی سے پریشان تھے۔ اس منظر کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنی خوشی برداشت نہ کر سکے شاعر نے کہا ہے۔

بڑامزہ اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہو کر

مگر ملاپ کا یہ مزہ دیر پا نہ ثابت ہوا۔ ایک بار ان دونوں کے درمیان بے اعتمادی کی جو لکیر پیدا ہو گئی تھی وہ وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ علیحدگی‘ مقدمہ بازی اور طلاق تک نوبت پہنچ گئی۔

جاری ہے۔ بتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -