مودی،یوگی گٹھ جوڑ اورپاکستان

مودی،یوگی گٹھ جوڑ اورپاکستان
مودی،یوگی گٹھ جوڑ اورپاکستان

  

بھارتی مسلمان ابھی نریندرمودی کے انتہاپسندانہ اقدامات اورمتعصبانہ رویوں کی تاب نہ لانے پائے تھے کہ اب مودی کی امداداورآشیرباد سے یوپی کی وزارتِ اعلیٰ ایک انتہائی تعصب پسندہندوکے سرپر سجا دی گئی ہے ۔ہندوستان کے ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتاپارٹی دوتہائی اکثریت حاصل کرکے اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوچکی ہے ۔اِس طرح بی جے پی مرکز کے ساتھ صوبے میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔یہ ریاستی انتخابات آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے اُتر پردیش میں منعقدہوئے تھے۔اُتر پردیش کی آبادی بیس کروڑ ہے۔جس میں بیس فی صدیعنی چارکروڑمسلمان ہیں،مگربی جے پی کی مسلم دشمن پالیسی کے تحت کسی بھی مسلمان انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری نہیں کیاگیا۔جس کے نتیجے میں بی جے پی کے 312منتخب اراکین اسمبلی میں سے کوئی ایک بھی مسلمان پارلیمان کارُکن نہیں ہے۔اگرچہ اِن انتخابات میں دیگرجماعتوں کے ٹکٹ پریوپی سے 25مسلمان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں،مگرحکومتی نمائندگی میں اُن کا کوئی کردار نہیں ہوگا،کیونکہ بی جے پی کی حکومت میں اُن کا کوئی نمائندہ شامل نہیں ہے۔

یوپی میں بھارتیہ جنتاپارٹی نے مسلمانوں کے خلاف جس متعصبانہ سلوک کا مظاہرہ کیاہے۔وہ اُس کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کا مکمل آئینہ دارہے۔بی جے پی نے یوپی کے ایک چوتھائی مسلمان ووٹرزکو نظراندازکرنے ہی پر بس نہیں کیا،بلکہ پارٹی نے رہی سہی کسر ایک چوالیس سالہ اِنتہا پسندہندو جوگی آدتیا ناتھ کو صوبہ یوپی کا وزیراعلیٰ منتخب کرکے نکال دی ہے۔یوگی وہ بدنامِ زمانہ شخص ہے کہ جومسلمانوں کے وجودہی کو بھارت میں برداشت کرنے کا رَوادارنہیں ہے۔ ٹھاکر اَجے سنگھ بشٹ عرف یوگی آدتیا ناتھ ایک دہشت گرد ہندو تنظیم آر ایس ایس کے نظریات کا پیروکارہے۔یہ یوگی ہی تھا کہ جس نے ہندوؤں کو تعصب کی راہ پر ڈالا اوروہ اُن پر زوردیتارہا کہ وہ مسلمانوں کے قبرستانوں پر قبضہ کریں،مسلمان خواتین کی نعشوں کی بے حرمتی کریں،ہندوؤں کومسلمانوں کے گھروں پر حملے کرنے اورنوجوان مسلمان بچیوں کو اِغواکرکے ہندومردوں کے ساتھ بیاہنے کی سرپرستی کی اوراِسے’’گھرواپسی‘‘کا نام دیا۔بابری مسجد کی شہادت میں یوگی کے گُرو مہانت اویدیاناتھ ہی کا ہاتھ کارفرماتھا۔یوگی کو مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے فکرلاحق ہے اوراُس کا یہ متعصبانہ بیان ریکارڈپر موجودہے کہ’’گوری اور گنیش کی مورتی دنیا کی کسی بھی مسجد میں رکھی جاسکتی ہے جب بھی کوئی ہندو وشوا ناتھ مندر میں حاضری دیتا ہے تو گنپتی میں مسجد اسے چِڑھاتی ہے اور اگر بھگوان نے مجھے موقع دیا تو میں دیوی، گوری اور گنیش کی مُورتی کو ملک کی ہر مسجد میں نصب کردوں گا۔‘‘نیزیہ بھی کہ ’’جو مسلمان اپنے آپ کو ہندو بنانا چاہتے ہیں۔ اُن کو ہم پاک کرنے کیلئے ہی نہیں ،بلکہ اُن کے لیے ہندوؤں میں ایک نئی ذات بھی بنانے کو تیار ہیں۔یوگا اور شنکر کو پسند نہ کرنے والے ہندوستان سے جا سکتے ہیں۔‘‘

بھارتی حکمرانوں کے شائننگ اِنڈیاکے دعوے ہواہوچکے۔فرقہ واریت اورتعصبات کا عفریت دندناتاپھررہا ہے اورہندوستان کا کثیرالمذاہب اورکثیرالثقافتی سماج اپنی جڑوں سے ہل چکاہے۔مودی ،یوگی اورامیت شاہ کی مثلث نے ہندوستان میں منافرت اورتعصبات کی جو فضاقائم کی ہے اورہندوتواکے لیے جن انتہاپسندانہ اقدامات کو بروئے کارلایاگیاہے ۔اِن حالات سے ہندوستانی مسلمانوں کو اَپنی بقااورتحفظ کے لیے شدیدخطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ہندوستانی مسلمان ہندواِنتہاپسندی کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ مرکزی اورصوبائی حکومتیں اُن کومٹانے کے درپے ہیں۔جب سے مودی اوراب جوگی برسراقتدارآئے ہیں۔مسلمانوں کی تجارت،ملازمتیں اوردیگرذرائعِ روزگارشدیدمتاثرہوئے ہیں۔مسلمان خواتین اوربچے ہندومنافرت پرستوں کے نشانے پہ ہیں۔کہیں گائے کے ذبح کرنے کے بہانے اورکہیں دیگرفرضی الزامات کے ذریعے مسلمانوں پر ظلم وتشددکے واقعات میں شدیدتیزی آئی ہے۔ہندوتصصبات کی آندھی ہے کہ مظلوم مسلمانوں کو اَپنی لپیٹ میں لیے جا رہی ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے اوراُن کا مستقبل ہندوجنونیوں کے خوفناک عزائم کے ہاتھوں یرغمال بن چکاہے۔

اِس خوفناک صورت حال میں جبکہ ہمارے مسلمان بھائیوں کا وہاں سانس لینابھی دُوبھرہوگیاہے۔ہمیں سوچناچاہیے کہ بحیثیت مسلمان اورپاکستانی کے ،ہم نے سفارتی سطح پر تو درکناراَخلاقی لحاظ سے بھی کیاکوئی صدائے احتجاج بلندکی ہے!کیاکسی کے پاس اِس سوال کا کوئی جواب ہے؟مذہبی جماعتوں کو ایک طرف رکھیں کہ مسلمانوں کے حق میں اُن کا فکروعمل تو معمول کا حصہ ہے ،مگرہمارے ملک کا لبرل اورسیکولرطبقہ ،جو اِنسانی حقوق کے نعرے کی آڑ میں قادیانی لابی اوردیگراقلیتوں کی حمایت میں شب وروزمصروفِ عمل رہتاہے ۔اُسے ہندوستان کے مودی اورجوگی کے مذہبی جنون وتعصب اورمسلمانوں کے خلاف ظلم وستم کے خلاف ابھی تک آوازبلندکرنے کی توفیق ہی نہیں ہوئی۔مسلمانوں کے لیے احتجاج کرنے سے اُن کے بیرونی آقا ناراض ہوتے ہیں۔مالی تعاون بند اوربیرونی دورے متاثرہوتے ہیں۔موم بتی مافیا سول سوسائٹی مہربلب ہے کہ ہندوستانی مسلمان اُن کے ایجنڈے میں شامل نہیں ،ہاں اگرہندودوستوں کے ساتھ بارڈرپر رقص کرناہو،یا بھارتی فوجیوں کے گلے میں ہارڈالنے ہوں تو موم بتی فیم آنٹیاں ہمہ وقت مستعدوتیارہوتی ہیں۔رہے حکمران!کہ انہوں نے تواَمیرشریعت سیّدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی اِس پیش گوئی کو اَپنے عمل سے سچاثابت کردیاہے کہ ’’ہندوستان میں مسلمان اورپاکستان میں اسلام باقی نہیں رہنے دیاجائے گا۔‘‘سرکاری سطح پر اِسلام سے انحراف اورسیکولرازم کے فروغ کے لیے نت نئے اقدامات روزکا معمول ہیں۔انڈیامیں مسلمان ذبح ہوتے ہیں اوریہاں حکمران ہندوؤں کے تہواردِیوالی اورہولی میں شریک ہوتے ہیں اورمحمدرفیع کے اندازمیں گلوکاری کا شغل فرماتے ہیں۔کلبھوشن جیسے انڈیاکے جاسوس کو عدالت کے کٹہرے میں لانے سے گبھراتے ہیں۔بھارتیوں کے کشمیریوں پرمظالم پر آنکھ بندکرلی جاتی ہے۔گزشتہ دس برس میں پاکستان کا بھارت سے تجارت میں خسارہ1710 ملین تک جاپہنچاہے اورتجارت کا شوق ابھی جاری ہے۔ہمارے وزیراعظم فرماتے ہیں کہ ہم نے گزشتہ الیکشن میں ووٹ بھارت سے دوستی کے نام پر لیے تھے۔حالانکہ عوام تو ہندوستان کے مظالم پراِقتداروالوں کے برعکس مؤقف رکھتے ہیں۔یادرکھیے کہ جب تک پاکستان ،ہندوستانی مظالم پر چپ سادھے رہے گا اوربرابری کی بنیادپر بات کرنے کی بجائے ،محض دوستی کی پینگیں بڑھانے کے لیے دوٹوک مؤقف اختیارنہیں کرے گا۔ہندوستانی مسلمانوں کا قتل عام جاری رہے گا ،بلوچستان میں رخنہ اندازی ہوتی رہے گی اورسی پیک منصوبہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں گی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -