’مجھے شمالی کوریا بے حد پسند تھا، وہاں سیر کرنے گیا تو ایک دن سڑک پر غلط موڑ کاٹ لیا اور پھر جو دیکھا واقعی پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ۔۔۔‘ شمالی کوریا سے واپس آنے والے نوجوان نے ایسی بات بتادی کہ دنیا بھر کے لوگ ششدر رہ گئے

’مجھے شمالی کوریا بے حد پسند تھا، وہاں سیر کرنے گیا تو ایک دن سڑک پر غلط موڑ ...
’مجھے شمالی کوریا بے حد پسند تھا، وہاں سیر کرنے گیا تو ایک دن سڑک پر غلط موڑ کاٹ لیا اور پھر جو دیکھا واقعی پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ۔۔۔‘ شمالی کوریا سے واپس آنے والے نوجوان نے ایسی بات بتادی کہ دنیا بھر کے لوگ ششدر رہ گئے

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا ایک پراسرار قسم کی ریاست ہے جس کے شہریوں کے روزمرہ حالات کے متعلق بیرونی دنیا کچھ خاص نہیں جانتی۔ ایک برطانوی نوجوان سیاحوں کے ایک وفد کے ساتھ شمالی کوریا کی سیر پر گیا جہاں سیاحوں کی بس ایک غلط موڑ مڑ گئی اور دوسرے راستے پر چلی گئی۔ اس راستے پر ان سیاحوں نے ایسا کچھ دیکھ لیا کہ ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ شمالی کوریا کا دوسرا رخ تھا جو وہ ہمیشہ اپنے ہاں آنے والے سیاحوں سے چھپا کر رکھتا ہے اور انہیں کبھی ان راستوں پر نہیں آنے دیتا۔

دنیا کی بہترین نوکری، جس میں آپ کو پوری دنیا کی سیر کا موقع ملے گا اور ساتھ 10لاکھ روپے مہینہ تنخواہ بھی، بس شرط یہ ہے کہ۔۔۔۔

نوجوان کا کہنا تھا کہ ”جب ہماری بس غلط راستے پر گئی تو ہم نے دیکھا کہ درجنوں بچے زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور ان سے زبردستی ایک تعمیراتی منصوبے پر مشقت کروائی جا رہی تھی۔ مجھے شمالی کوریا بہت پسند تھا، اسی لیے میں اس کی سیر کو آیا تھا لیکن یہ ہولناک منظر دیکھ کر میں دہل کر رہ گیا۔ “ رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا پر ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے قبل ازیں بھی الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ وہاں بچوں سے جبری مشقت کروائی جاتی ہے، جس کا یہ نیا ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے عہدیدار رافیل وکنگ کا کہنا تھا کہ ”شمالی کورین حکومت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز میں خودپر انحصار نہیں کر سکتی۔ وہ اپنے لوگوں کو کھانا بھی نہیں دے سکتی۔ وہاں کلی طور پر محرومی، غربت اور بے بسی کا راج ہے۔“

مزید : بین الاقوامی