کیا انٹیلی جنس ایجنسیاں آپ کے واٹس ایپ پیغامات پڑھ سکتی ہیں؟ اب تک کی سب سے حیران کن خبر آگئی، جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

کیا انٹیلی جنس ایجنسیاں آپ کے واٹس ایپ پیغامات پڑھ سکتی ہیں؟ اب تک کی سب سے ...
کیا انٹیلی جنس ایجنسیاں آپ کے واٹس ایپ پیغامات پڑھ سکتی ہیں؟ اب تک کی سب سے حیران کن خبر آگئی، جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی حکومت پر پہلے تو صرف الزام تھا کہ یہ عام شہریوں کی جاسوسی کرتی ہے مگر اب اس نے سوشل میڈیا ایپ ’واٹس ایپ‘ پر شہریوں کے ذاتی نوعیت کے سوشل میڈیا پیغامات کی چھان بین کی خواہش کا علی الاعلان اعتراف بھی کر لیا ہے۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکرٹری داخلہ ایمبررڈ کا کہنا ہے کہ حکام کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ واٹس ایپ کے انکرپٹڈ پیغامات کی چھان بین کرسکیں کیونکہ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو دہشتگردوں کے روابط اور پھلنے پھولنے کا ذریعہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگرچہ حزب مخالف کے سیاستدانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس مطالبے کو غیر حقیقی اور غیر مناسب قرار دیا جارہا ہے تاہم سیکرٹری داخلہ بضد ہیں کہ دہشتگردی کا راستہ روکنے کے لئے یہ اقدام ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ”یہ بات مکمل طور پر ناقابل قبول ہے کہ حکومت اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ بنائے گئے پیغامات کو نہیں دیکھ سکتی۔ میں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رہنماﺅں کو 30مارچ کے روز ایک ملاقات کے لئے بلایا ہے تاکہ اس معاملے پر بات چیت کی جاسکے۔“

وہ ملک جس نے امریکہ کی ناک کے نیچے سے 800 کروڑ روپے چرالئے، کونسا ملک ہے؟ نام جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اگر حکومتی مطالبہ پورا نہ ہوا تو اس ضمن میں نئی قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے دھمکی کے انداز میں کہا کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں تعاون نہیں کرتیں تو حکومت کو قانون سازی کرنا پڑے گی۔

واضح رہے کہ امریکی سیکرٹری داخلہ کا یہ بیان اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ برطانوی دارالحکومت میں دہشتگردی کے تازہ ترین حملے کا ذمہ دار قرار دئیے جانے والے شخص خالد محمود نے حملے سے عین پہلے واٹس ایپ کا استعمال کیا تھا۔ برطانوی سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ غالباً وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی شدت پسند گروپ کے ساتھ رابطے میں تھا اور حملے کے وقت بھی ہدایات لے رہا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -