ہائی کورٹ کے حکم پرپولیس وردیوں کی سلائی کی مد میں7سال بعد درزیوں کو رقم ادا کردی گئی

ہائی کورٹ کے حکم پرپولیس وردیوں کی سلائی کی مد میں7سال بعد درزیوں کو رقم ادا ...
ہائی کورٹ کے حکم پرپولیس وردیوں کی سلائی کی مد میں7سال بعد درزیوں کو رقم ادا کردی گئی

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پولیس یونیفارم کی سلائی کے43لاکھ کی عدم ادائیگی کیس میںآئی جی پنجاب پولیس نے 7 سال بعدکانسٹیبل کی یونیفارم کی سلائی کے 43لاکھ کی رقم کے فنڈزجاری کردیئے،لاہورہائیکورٹ نے بروقت ادائیگی نہ کرنے پراظہار برہمی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس مشتاق احمد سکھیرا کے خلاف دائرتوہین عدالت کی درخواست نمٹا دی ۔

چینی یونیورسٹیز میں اردو پڑھانے کا اعلان کردیا گیا

جسٹس سید کاظم رضا شمسی نے افتخاروغیرہ کی درخواستوں پرسماعت شروع کی تودرخواست گزاروں نے موقف اختیارکیا کہ انہوں نے فیصل آبادسمیت دیگرشہروں کے پولیس کانسٹیبل اورہیڈکانسٹیبلوں کی یونیفارم کی 2010ءسے 2016ءتک سلائی کی ہے اورسلائی کے معاوضے کی رقم 34لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ درخواست گزاروں کا کہناتھا کہ انہیں سلائی کی رقم کی ادائیگی نہیں کی جارہی۔عدالت نے بھی آئی جی پنجاب پولیس کو14دسمبر2016 کوآئی جی سلائی کی رقم کے فنڈز کے کیلم کی تصدیق کرکے ادائیگیوں بارے 2ہفتوں میں فیصلہ کرنے کاحکم دیا تھا لیکن عدالتی حکم پرابھی تک عمل درآمد نہیں کیاگیا۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی پنجاب کو پولیس یونیفارم کی سلائی کی رقم کی ادائیگی نہ کرنے پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔

لیگل انسپکٹراے ڈی ڈھکو نے آئی جی پنجاب کی جانب سے جواب داخل کرواتے ہوئے سلائی کی رقوم کے فندز ریلیز کرنے بارے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ لیگل انسپکٹرنے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس یونیفارم کی سلائی کی مد میں سی پی اوفیصل آباد کو18لاکھ 40ہزار940، ایس پی،پی ایچ پی فیصل آباد کو 10لاکھ 39 ہزار838روپے اورسی ٹی او فیصل آباد کو 4لاکھ 99ہزار304روپے کے فنڈز ریلیز کردیئے گئے ہیں۔ اس طرح دیگراضلاع کے پولیس افسران کو بھی فنڈز ریلیز کردیئے گئے ہیں۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزاروں کے کلیم کی تصدیق ہوتے ہی انہیں ادائیگیاں کردی گئی ہیں۔ اس لئے آئی جی پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی جائے۔عدالت نے سلائی کی رقم کی برقت ادائیگی نہ کرنے پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے آئی جی پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی ہے۔ 

مزید :

لاہور -