وکلاءہڑتال کلچر کو مکمل طور پر ترک کر دیں تاکہ سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

وکلاءہڑتال کلچر کو مکمل طور پر ترک کر دیں تاکہ سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی ...
وکلاءہڑتال کلچر کو مکمل طور پر ترک کر دیں تاکہ سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ وکلاءہڑتال کلچر کو مکمل طور پر ترک کر دیں تاکہ سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے،ان خیالات کااظہار انہوں نے راولپنڈی ڈویژن کے وکلاءرہنماﺅں نے ملاقات کے دوران کیا، اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج محمد فرخ عرفان خان، رجسٹرار سید خورشید انور رضوی اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی شکیل احمد بھی موجود تھے۔

شہر قائد میں رینجرز کی کارروائی، ایم کیو ایم لندن کے 4ملزمان گرفتار

ملاقات کرنے والے وفد میں وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل ملک عنائت اللہ اعوان، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل سید عظمت بخاری، ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن راولپنڈی بنچ کے صدر ظفر محمود مغل، نائب صدر بلال رضا، ضلعی بار ایسو سی ایشن راولپنڈی کے صدر سجاد اکبر عباسی، جنرل سیکرٹری عرفان نیازی، اٹک بار ایسو سی ایشن کے صدر ملک اسرار احمد، چکوال بار ایسو سی ایشن کے صدر امجد حسین، سیکرٹری نثار احمد اصغر اور جہلم بار ایسو سی ایشن کے صدر راجہ عتیق عالم شامل تھے۔ وکلاءرہنماﺅں نے وکلاءاور سائلین کی اسانی اور جلد و معیاری انصاف کی فراہمی کےلئے چیف جسٹس کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا اور اس حوالے سے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی عدالت عالیہ کی اولین ترجیح ہے، وکلاءفراہمی انصاف کے نظام کو مزید موثر بنانے کےلئے ہمارے شانہ بشانہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاءہڑتال کلچر کو مکمل طور پر ترک کر دیں تاکہ سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ تحصیل بار ایسو سی ایشن کی سطح پربھی اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ہڑتال کرنے کی بجائے بیٹھ کر حل کیا جائے، معاملہ تحصیل سطح پر حل نہ ہونے کی صورت میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سربراہی میں قائم گڈ ورکنگ کمیٹی کے سامنے رکھا جائے،انہوں نے کہا کہ اگر ضلعی سطح پر بھی مسئلہ حل نہ ہوتو پنجاب بار کونسل کے توسط سے ہم سے رجوع کیا جائے ، میرے دروازے ہمہ وقت کھلے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میرا یقین ہے کہ ہمارا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے سے ہم بیٹھ کر گفتوشنید سے حل نہیں کر سکتے۔

آئی سی ایم ایس سکول سسٹم کے نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ،طلباءوطالبات کے لئے 300سکالر شپ کا اعلان

وکلاءقیادت نے چیف جسٹس کی تجویز سے اتفاق کیا۔بعد ازاں چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ڈسٹرکٹ کورٹس راولپنڈی کا دورہ کیا اور وہاں موجود ضلعی عدلیہ کے ججز اور سٹاف سے ملاقات کی، چیف جسٹس نے ججز و سٹاف کے مسائل سنے اور انہیں حل کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی،چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ کورٹس کے سبزہ زار میں پودا بھی لگایا۔

مزید : لاہور