تین سال بعد بچی کا خیال کیسے آگیا ،عدالت نے 3سالہ نور فاطمہ کو نانی سے لے کر والد کو دینے سے انکار کردیا

تین سال بعد بچی کا خیال کیسے آگیا ،عدالت نے 3سالہ نور فاطمہ کو نانی سے لے کر ...
تین سال بعد بچی کا خیال کیسے آگیا ،عدالت نے 3سالہ نور فاطمہ کو نانی سے لے کر والد کو دینے سے انکار کردیا

  

لاہور(نامہ نگار)ایڈیشنل سیشن جج واجد منہاس نے والد کی حبس بے جا کی درخواست خارج کرتے ہوئے 3سالہ بچی نور فاطمہ کونانی کی تحویل میں رہنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ کیسے باپ ہیں 3سال بعد بیٹی کا خیال آیاہے، باپ اکیلا بچی کی پرورش نہیں کرسکتاہے ،عدالت نے باپ کو گارڈین عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی ۔

’میں جہاز میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک ساتھ بیٹھی لڑکی نے ایسا شرمناک ترین کام کردیا کہ میں۔۔۔‘ جہاز میں سفر کرنے والی خاتون کے ساتھ لڑکی نے ہی ایسا کام کردیا کہ جان کر مَرد بھی شرما جائیں

عدالت میں صفدر نامی شخص نے اپنی بچی نورفاطمہ کے حصول کے لئے اپنی ساس اوربچی نور فاطمہ کی نانی رضیہ بی بی پر بچی کو اغوا کرنے کا الزام لگاکر بچی کی بازیابی کی درخواست دائر کررکھی تھی ،جس پرفاضل جج نے تھانہ گوالمنڈی پولیس کو مذکورہ بچی کو بازیاب کرواکر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا تھا،گزشتہ روز پولیس کی جانب سے بچی کو عدالت میں پیش کردیا گیا،عدالت میں نانی رضیہ بی بی نے موقف اختیار کیا اس کی بیٹی بینش کی شادی صفدر کے ساتھ ہوئی جس میں اس کے ایک بیٹی نور فاطمہ پیدا ہوئی،شادی کے بعد اس کے دامادصفدر نے بیوی کوگھر سے نکال دیاتھاجس پر اس نے ماں اور بچی کو اپنے پاس رکھ لیاتامہ بعد ازاںبچی کی ماں انتقال کر گئی ،لیکن اس کے باپ نے ایک بار بھی بچی کو ملنے کی کوشش نہیں کی ،اس نے محنت مزدوری کر کے بچی کو پالاہے،اب جب بچی بڑی ہوئی تو اسے لینے کی خاطر اغوا کرنے کا الزام لگا دیاہے،وہ کیسے اپنی نواسی کو اغوا کر سکتی ہے؟

عدالت میں رضیہ نے ثبوت پیش کئے اور مرحوم بیٹی کو یاد کرتے ہوئے روتی رہی۔عدالت نے باپ سے سوال کیا بچی کو لینے کا خیال کب آیا تو اس نے بتایا 3سال بعد جس عدالت نے برہمی کا اظہا رکرتے ہوئے قرار دیا کہ باپ بچی کی اکیلا پرورش نہیں کرسکتا، بچی نانی سے مانوس ہے،اغوا کئے جانے والے بچے کسی سے اتنے مانوس نہیں ہوتے جتنی نور فاطمہ نظر آرہی ہے۔فاضل جج نے بچی کو واپس نانی رضیہ بی بی کے حوالے کرتے ہوئے دائر حبس بے جا کی درخواست نمٹا دی ہے ۔

مزید :

لاہور -