آئینی طور پر نگران وزیر اعظم کا تنازع 8روز سے زیادہ نہیں چل سکتا

آئینی طور پر نگران وزیر اعظم کا تنازع 8روز سے زیادہ نہیں چل سکتا

  

تجزیہ :سعید چودھری

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدنے کہا ہے کہ نگران سیٹ اپ کا معاملہ نومبر تک جاتا ہوا دیکھ رہا ہوں ،انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان خود نگران سیٹ اپ کا اعلان کریں ۔انہوں نے کہا کہ حکمران چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے پیچھے اس لئے پڑے ہیں کیوں کہ انہیں علم ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز کو سزا ہوگی تو یہ معاملہ اپیلوں سے ہوتا ہوا صدر مملکت کے پاس جائے گا اور اس وقت تک صادق سنجرانی یہ عہدہ سنبھال چکے ہوں گے ۔کئی مرتبہ وزیررہنے والے سیاستدان اور ایک پرانے پارلیمنٹیرین کا یہ بیان آئین کی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے لئے بھی حیرت کا باعث بنا ہے ۔قانونی حلقے حیران ہیں کہ شریف خاندان کی اپیلوں کے وقت چیئرمین سینیٹ کیسے صدر بن چکے ہوں گے ؟یہ تاثر غلط ہے کہ منتخب حکومت کی معیاد کے خاتمہ کے بعد نگران سیٹ اپ کے دوران صدر بھی اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوجائے گا،یا پھر 5سالہ عہدہ کی معیاد پوری ہونے کے بعد صدر فارغ ہوجائے گا۔آئین کے آرٹیکل 44میں واضح کیا گیا ہے کہ صدر 5سال کی مدت تک اپنے عہدہ پر فائز رہے گا تاہم صدر اپنی معیاد ختم ہوجانے کے باوجود اپنے جانشین کے عہدہ سنبھالنے تک اس عہدہ پر فائز رہے گا۔اگر اسمبلیاں تحلیل ہوجاتی ہیں ،بروقت الیکشن نہیں ہوپاتے اور نئے صدر کے انتخاب کے لئے الیکٹرول کالج (پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں)وجود میں نہ آسکے اور صدر کے الیکشن کا انعقاد ممکن نہ ہو تو موجودہ صدر اس وقت تک صدر رہے گا جب تک کہ نیاالیکٹرول کالج قائم نہ ہوجائے اوروہ نئے صدر کومنتخب نہ کرلے ۔صدر کے عہدہ کی معیاد 5سال ہے لیکن وہ اس وقت صدر رہیں گے جب تک کہ نیا صدر منتخب نہ ہوجائے ۔علاوہ ازیں آئین کے آرٹیکل 49کے تحت صدر ملک سے غیر حاضر ہوں یا کسی وجہ سے کارہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہوں یا پھر صدر کی وفات یاکسی اور وجہ سے یہ عہدہ خالی ہوجائے تو چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر کے طور پر کام کرتا ہے ۔موجودہ چیئرمین سینیٹ کی عمر 40سال کے قریب ہے جبکہ صدر کی اہلیت کی شرائط جو آرٹیکل41میں طے کی گئی ہیں ان کے تحت صدر کے لئے کم ازکم عمر45سال مقرر ہے ۔صادق سنجرانی تو قائم مقام صدر بننے کی آئینی اہلیت پر ہی پورا نہیں اترتے ،آئین کے آرٹیکل 49کے تحت اگر چیئرمین سینیٹ صدر کا عہدہ نہ سنبھال سکتے ہوں تو سپیکر قومی اسمبلی قائم مقام صدر کے طور پر کام کریں گے ۔آئین کے تحت اسمبلیاں تحلیل بھی ہوجائیں تو سپیکر کا عہدہ برقراررہتا ہے اور وہ آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں اورارکان اسمبلی سے حلف لیتے ہیں جس کے بعدنیا سپیکر منتخب کیا جاتا ہے ۔اسمبلیاں تحلیل بھی ہوجائیں اور صدر کی عدم موجودگی وغیرہ کی صورت میں قائم مقام صدر کی ضرورت بھی پڑجائے تو موجودہ آئینی صورتحال میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ہی قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالیں گے کیوں کہ صادق سنجرانی کم عمر ہونے کے باعث صدارت کا عہدہ سنبھالنے کی آئینی اہلیت نہیں رکھتے ۔آئین کے ہوتے ہوئے صادق سنجرانی سردست قائم مقام صدر یا پھر صدر کا عہدہ سنبھال ہی نہیں سکتے تو شیخ رشید کے بیان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ۔

جہاں تک چیف جسٹس پاکستان سے نگران سیٹ اپ کے اعلان کے بارے میں شیخ رشید کے بیان کا تعلق ہے تو اس سے بھی ان کی آئین سے لاعلمی کی عکاسی ہوتی ہے ۔نگران حکومت کے قیام میں سپریم کورٹ یا چیف جسٹس پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے ۔آئین کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اتفاق رائے سے کرتے ہیں ،آئین کے آرٹیکل224(اے)کے تحت اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کا اسمبلی کی تحلیل کے بعد 3روز تک نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہوتا تو سپیکر قومی اسمبلی فوری طور پر ایک 8رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے جو تحلیل شدہ اسمبلی کے ارکان یا سینیٹرز یا پھر دونوں پرمشتمل ہوگی تاہم شرط یہ ہے کہ اس میں اپوزیشن اور حکومت کے ارکان کی تعداد برابر ہوگی ۔وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی طرف سے اس کمیٹی کو 2،2نام بھیجے جائیں گے ،یہ پارلیمانی کمیٹی بھی3روز کے اندر اندروزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی طرف سے بھیجے جانے والے ناموں میں سے کسی ایک کو نگران وزیراعظم نامزد کرے گی،یوں یہ کام 6روز میں مکمل ہوجائے گا ۔اگر کمیٹی 3روز کے اندر نگران وزیراعظم نامزد نہیں کرتی تو پھر یہ معاملہ فوری طور پر الیکشن کمشن کے پاس چلا جائے گاجو 2روز کے اندر اندر مذکورہ ناموں میں سے کسی ایک کو وزیراعظم نامزد کرے گا اور الیکشن کمشن کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ آئین کے تحت وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر یا پارلیمانی کمیٹی نگران وزیراعظم کی نامزدگی میں ناکام رہتے ہیں اور معاملہ الیکشن کمشن کے پاس جاتا ہے تو بھی نگران وزیراعظم کے تقرر کا معاملہ 8دن کے اندر اندر مکمل ہوجاتا ہے ،یہی طریقہ کار نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کے لئے استعمال ہوگا ،آئین کے آرٹیکل224(اے)4کے مطابق نگران وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے تقرر تک موجود ہ وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ اپنے عہدوں پر قائم رہیں گے۔ان آئینی حالات میں شیخ رشید نگران سیٹ اپ کا معاملہ نومبر تک لٹکنے کی پیش گوئی کیسے کررہے ہیں ؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔شیخ رشید کہتے ہیں کہ" نگران سیٹ اپ کا معاملہ 60یا 90روز میں مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا اوریہ معاملہ نومبر تک جاتا ہوا دیکھ رہا ہوں"۔جب آئین میں نگران وزیراعظم کے تقرر کا تنازع حل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ 8روز دیئے گئے ہیں تو پھر 60یا 90روز کے اعداد انہوں نے کہاں سے لے لئے ؟اگر شیخ رشید جیسے گھاگ اور پرانے سیاستدان کی آئین کے حوالے سے معلومات اتنی پتلی ہیں تو پھر باقیوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔

مزید :

تجزیہ -