سٹیٹ بینک کی دوسری سہ ماہی رپورٹ اور پاکستان کی معیشت

سٹیٹ بینک کی دوسری سہ ماہی رپورٹ اور پاکستان کی معیشت

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی مالی سال کی دوسری سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت کی شرح نمو کا6.2 فیصد کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا اور امکان ہے کہ یہ شرح3.5 اور4فیصد کے درمیان رہے گی، مہنگائی میں اضافہ بھی متوقع ہے، افراطِ زر کی شرح میں6فیصد اضافے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکے گا اور یہ6.5 اور7.5 کے درمیان رہے گی، مالیاتی خسارہ اور جاری کھاتے کا خسارہ بھی قابو سے باہر رہے گا، مالیاتی خسارہ ہدف(4.9فیصد) کے مقابلے میں6اور 7فیصد کے درمیان رہے گا، جاری کھاتے کا خسارہ بھی4فیصد کے ہدف کے مقابلے میں5فیصد رہنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرعی اور صنعتی پیداوار میں کمی، معاشی استحکام کے لئے اٹھائے گئے سخت اقدامات اور پبلک سیکٹر کے اخراجات میں کٹوتی، مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں کمی کے بنیادی اسباب ہیں، روپے کی قدر میں کمی کے دوسرے مرحلے کے اثرات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے قرضوں کا حصول مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں اور افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔ برآمدات کا ہدف بھی موجودہ مالی سال کے دوران حاصل نہیں ہو سکے گا اور برآمدات27.9 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں25.5 اور27 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

شرح نمو میں کمی کے متعلق تو سٹیٹ بینک پہلے بھی آگاہ کر چکا ہے۔ البتہ پہلے کے مقابلے میں متوقع شرح مزید کم کردی گئی ہے، پہلی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مہنگائی اور افراطِ زر بڑھے گا۔ بجٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ بھی کم نہیں ہو سکے گا۔ روپے کی، جس انداز میں بے قدری ہوئی ہے اور آئندہ بھی اس کی شرح تبادلہ میں کمی کا جو امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سے درآمدی اشیا مہنگی ہو جائیں گی اور اس کا اثر براہِ راست صارفین پر پڑے گا،روپے کی شرح تبادلہ آئی ایم ایف کے مشورے پر کم کی گئی تھی اور نیا قرضہ ملنے سے پہلے روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید کمزور ہو گا تو اس کے اثرات وسیع تر ہوں گے۔اس سے پہلے جب روپیہ کمزور ہوا تو بعض حکومتی مشیروں نے اس پر یوں اظہارِ مسرت کیا تھا کہ اس سے برآمدات بڑھیں گی،لیکن سٹیٹ بینک کی اس تازہ رپورٹ نے اُن کی امیدوں اور خوش فہمیوں پر پانی پھیر دیا ہے اور کہا ہے کہ برآمدات کا ہدف حاصل نہیں ہو پائے گا، غالباً سوچ کا محور یہ تھا کہ روپیہ گرنے سے برآمدات خود کار طریقے سے بڑھ جائیں گی،لیکن ایسا نہیں ہوتا نہ ہی محض امید افزا بیانات جاری کرنے کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔اگر برآمدات بڑھانی ہیں تو اس کے لئے ایسے اقدامات بھی کرنے ہوں گے کہ دُنیا کی مارکیٹوں میں پاکستانی اشیا کی طلب میں اضافہ ہو اور ہماری اشیا بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت اور معیار کے حساب سے بھی مقابلہ کر سکیں۔ ایسا نہیں ہو گا تو خریدار کو اگر دوسرے ممالک سے اشیا سستی اور معیاری ملیں گی تو وہ اُنہیں ترجیح دے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد چین کا جو دورہ کیا تھا، اس سے واپسی پر یہ مژدہ سنایا گیا تھا کہ چین نے پاکستانی برآمدات بڑھانے کے لئے پاکستان سے مصنوعات درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،لیکن معلوم نہیں اس دورے کے فالو اَپ میں کوئی ایسے فیصلے کئے گئے تھے یا نہیں،جن سے برآمدات میں اضافہ ہوتا،بظاہر تو نہیں لگتا اور حکومت نے برآمدات بڑھانے کے لئے اگر کوئی اقدامات کئے تو ثمر آور نہیں ہوئے ، اگر ایسا ہوتا تو سٹیٹ بینک اپنی رپورٹ میں یہ نہ لکھتا کہ برآمدی ہدف حاصل نہیں ہو پائے گا۔ برآمدات میں اضافے کے لئے برآمدی صنعتوں کے لئے مراعات اور ترغیبات بھی ضروری ہیں اور صنعتوں کے لئے سستی بجلی اور گیس بھی تسلسل کے ساتھ میسر ہونی چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو اضافے کی امید نہیں رکھی جا سکتی، ویسے بھی گزشتہ کئی برس سے برآمدات میں کمی کا رجحان ہے،جس کا شاید درست تجزیہ کر کے مناسب اقدامات تجویز نہیں کئے گئے۔

موجودہ حکومت اگرچہ قرضوں کے حصول کے ہمیشہ خلاف رہی اور وزیراعظم عمران خان نے تو یہ انتہا پسندانہ اعلان بھی کر رکھا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں تو اس اعلان کا مضحکہ بھی اُڑاتی رہی ہیں، کیونکہ وزیراعظم نے یو اے ای میں خصوصی طور پر آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات کی، تاہم اُن کے وزیر خزانہ نے بھی آئی ایم ایف کے معاملے کو درست طور پر ہینڈل نہیں کیا۔ آئی ایم ایف کی ساری شرائط بھی مانی جا رہی ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی شرطیں نہیں مانیں گے،بجلی اور گیس کے نرخ بڑھائے گئے اور گیس بلوں کے معاملے پر تو پورے ملک میں ہا ہا کار مچ گئی،جس کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی بنائی گئی اور اب کچھ رقوم واپس کر کے اشک شوئی کی جا رہی ہے،لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو، گیس کی قیمتیں دوسری مرتبہ بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، بجلی کی نئی قیمتیں اتنی ہوشر با ہو گئی ہیں کہ اب لوگ یا تو بجلی کے بل دیں گے یا پھر اپنی دوسری ضروریات پوری کریں گے،محدود آمدنی والوں کو اس کا درست اندازہ اُس وقت ہو گا جب گرمی کے موسم میں بجلی کے بل بڑھیں گے۔ اندازہ ہے کہ اس پر گیس سے بھی زیادہ شور مچے گا،لیکن لگتا ہے حکومت کو اس کی چنداں پروا نہیں،کیونکہ کوئی ایسا اقدام بھی کیا نہیں جا رہا،جس سے مہنگائی کنٹرول ہو۔

بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ چھ ماہ میں لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہو گئے ہیں،جبکہ نئے وسائل پیدا نہیں ہو رہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب معیشت کی شرح نمو سات اور آٹھ فیصد کے درمیان ہو، موجودہ حالات میں اس کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا،بلکہ جو ہدف سال رواں کے بجٹ میں رکھا گیا تھا وہ بھی حاصل نہیں ہو پائے گا، ایسے میں کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ روزگار کے مواقع کیسے بڑھیں گے اور بے روزگاری کیسے ختم ہو گی، بے روزگاری کا براہِ راست تعلق غربت کے ساتھ ہے، جو اِسی صورت کم ہو سکتی ہے جب روزگار میسر ہوں۔اگر ایسا نہیں ہو گا تو غربت کم نہیں ہو گی،ہر گزرتے دن کے ساتھ غریبوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور جو لوگ خطِ غربت سے ذرا اوپر تھے وہ بھی نیچے سرک رہے ہیں،ایسے میں حکومت کیا غربت کا خاتمہ جادو کی کسی چھڑی سے کرے گی؟

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اُدھار تیل کا بڑا چرچا ہوا تھا۔ اوّل الذکر نے شاید معاہدے کے مطابق تیل دینا شروع کر دیا ہے،لیکن یو اے ای نے معذرت کر لی ہے اس کی وجہ یہ بنی ہے کہ حال ہی میں یو اے ای میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا جو اجلاس ہوا اس میں بھارت کو بھی بُلا لیا گیا اور سشما سوراج کا خصوصی طور پر خیر مقدم کرتے ہوئے یو اے ای کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب بھارت او آئی سی کا باقاعدہ رکن بن جائے گا۔یہ بالواسطہ طور پر پاکستان کے ’’بائیکاٹ‘‘ کا جواب تھا،ساتھ ہی اظہارِ ناراضی ادھار تیل دینے سے معذرت کے ساتھ ہوا،اب اس میں پاکستان کی ’’کامیاب خارجہ پالیسی‘‘ کس مقام پر کھڑی ہے اس کا جواب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ضرور دینا چاہئے،جنہوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کر کے صرف وفد بھیجنے پر اکتفا کیا تھا۔

مزید : رائے /اداریہ