سانحہ کرائسٹ چرچ: مثالی اظہار یکجہتی

سانحہ کرائسٹ چرچ: مثالی اظہار یکجہتی
سانحہ کرائسٹ چرچ: مثالی اظہار یکجہتی

  

دہشت گردی کی کسی جامع اور متفقہ تعریف کی عدم موجودگی، دہشت گردی کے اسباب اور ان کا تدارک کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف، جس جنگ کا آغاز نائن الیون کے بعد ہوا جلد ہی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں بدل گئی۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ اور نیٹو کی بلاجواز متعدد مسلمان ممالک; عراق، لیبیا اور شام میں تباہ کن فوجی مہمات، ہندوستان اور اسرائیل جیسے ممالک کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کی تحریکوں کو دبانے کے لیے بے دریغ ریاستی طاقت کا استعمال منفی پروپیگنڈے اور میڈیا وار نے اسلام کا نام دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔

غیرمسلم دہشت گردوں کی کارروائیوں کو انفرادی فعل، جبکہ مسلمان ہونے کی صورت میں مسلمانوں اور اسلام پر یلغار کر دی جاتی ہے۔ یہ پروپیگنڈہ مہم اتنی شدید اور مسلسل تھی کہ منفی پراپیگنڈے کے ذریعے میڈیا نے عوام کے دلوں میں یہ بات بٹھا دی کہ تمام دہشت گرد مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے حقوق اور جان و مال کے لئے احترام اور حساسیت معدوم ہو گئی۔

یہ پروپیگنڈہ گوانتاناموبے، ابو غریب، بگرام کیمپس تشدد، کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی، مغرب میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے باعث مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور پُرتشدد واقعات کا اضافہ سب سے بڑھ کر کرائسٹ چرچ جیسے اندوہناک واقعات کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔نیوزی لینڈ کے عوام نے وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی قیادت میں اہلِ اسلام کے دکھ میں تہہ دل سے شریک ہونے کا بے مثال عملی نمونہ پیش کرکے دہشت اور منافرت پھیلانے والے دہشت گردوں کو یہ واضح پیغام دیا کہ نیوزی لینڈ کے عوام رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر اس مشکل گھڑی میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا اسلامی لباس پہن کر متاثرین سانحہ کے لواحقین سے اظہار تعزیت، پارلیمنٹ سیشن کا تلاوت قرآن مجید سے آغاز، اذان جمعہ کا پورے ملک میں براہ راست براڈ کاسٹ اور مقامی خواتین کا مسلمان خواتین سے اظہار یکجہتی کے لئے سکارف ڈے منانے کا اعلان جیسے اقدامات نے متاثرین سانحہ کے لواحقین کی یوں ڈھارس بندھائی ہے کہ امام مسجد کا یہ کہنا بجا تھا کہ ہم دل شکستہ ضرور ہیں، لیکن ہمارے حوصلہ نہیں ٹوٹے۔

ان انسانیت اور امن دوست اقدامات کا مثبت اثر دنیا بھر کے ممالک کے عوام نے لیا ہے۔ کینیڈا، امریکا اور بیشتر یورپی ممالک میں مسیحی اور غیر مسلم مقامی باشندوں نے مساجد کا دورہ کرکے نہ صرف مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا، بلکہ نماز جمعہ کے دوران مسلمانوں کے لئے پہرے دار کی خدمات سرانجام دے کر منافرت پھیلانے والوں اور خوف کے بل بوتے پر اپنا ایجنڈا نافذ کرنے والے دہشت گردوں کے مکروہ عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر پُرامن بقائے باہمی اور مساوات پر مبنی عالمی معاشرے کی تعمیر کا سفر کٹھن ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

مزید : رائے /کالم