بہاولپور بورڈ ‘ قواعد سے ہٹ کر 128 ڈیلی ویجز ملازمین بھرتی کرنیکا انکشاف

بہاولپور بورڈ ‘ قواعد سے ہٹ کر 128 ڈیلی ویجز ملازمین بھرتی کرنیکا انکشاف

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)بہاولپوربورڈ بے ضابطگیوں اورکرپشن کی آماجگاہ بن گیامن پسند افراد کو نوازنے کیلئے کم درجہ ملازمین کااستحصال کیا جانا معمول بنالیاگیابرادری ازم نے پورے نظام کوتلپٹ کرکے رکھ دیابورڈ میں ڈیلی ویجز ملازمین کی بڑی تعداد بھرتی کی گئی ہے جن کی تعداد128 ہے ان میں کلرک، ڈیٹاانٹری آپریٹر، ریکارڈ لفٹر، بک بائنڈر، نائب قاصد، کمپیوزوغیرہ شامل ہیں لیکن ان (بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

کی بھرتی کیلئے کسی تعلیمی شرط کی پاسداری نہیں کی گئی جبکہ ان میں سے اکثرملازمین کولاہو رسیکرٹریٹ میں پابندکیاگیاہے اور تنخواہیں بہاولپوربورڈ سے اداکی جارہی ہیں اوران کے عہدوں میں بھی رووبدل کردیاگیاہے جبکہ میڑک فیل افراد کوکلرک اورڈیٹاانٹری آپریٹر بھرتی کیاگیاہے ان کی عمرکی بھی کوئی قیدنہیں اور60 سال سے اوپر کے افراد بھی بھرتی کرلیے گئے ہیں اس طرح قومی خزانے کونقصان پہنچایاجارہاہے ڈیٹاانٹری آپریٹر کیلئے کمپیوٹرڈپلومہ ہولڈر ہوناضروری ہے لیکن کسی کے پاس یہ ڈپلومہ نہ ہے بورڈ میں لائبریری سرے سے موجود نہیں لیکن لائبریرین موجود ہے اس کو فوٹوسٹیٹ مشینوں کاانچارج بنادیاگیااس نے سرکاری فوٹوسٹیٹ مشینوں کے پرز ے نکال کرانہیں ناکارہ کردیاہے اوراپنی پرائیویٹ فوٹوسٹیٹ مشین رکھ کران کے بل وصو ل کررہاہے لائبریرین کے پاس ڈاک ٹکٹوں کانظام بھی ہے اس نے فرینکلنگ مشین کوخراب کررکھاہے اورپرائیویٹ ڈاک کی ترسیل کرکے بورڈ کولاکھوں کانقصان پہنچارہاہے اس نے میٹرک رزلٹ کی ترسیل میں بھی لاکھوں کے گھپلے کیے ہیں وہ افسران کامنظورنظرہے اوراس نے مختلف مدات میں بورڈ خزانے سے لاکھوں روپے کی ایڈوانس رقوم حاصل کررکھی ہیں بورڈ کی کینٹین کاٹھیکہ اسٹیٹ برانچ کے کلرک نے اپناناناکے نام پرلے رکھاہے اوراس سے کینٹین کے کرایہ کی50 ہزار روپے ماہانہ رقم بھی وصول نہیں کی جارہی آڈٹ آفیسر بغیرتبادلہ کے دوبارہ ٹرانسفر گرانٹ وصول کرچکاہے بورڈ ملازمین کی ملی بھگت سے بعض سکولوں سے داخلہ فیس وصول کرکے ہڑپ کرلی جاتی ہے تحقیقات میں جوملازمین ملوث پائے گئے ان کیخلاف کاروائی نہ کی گئی ہے بورڈ انتظامیہ نے بغیرنقشہ اوربغیر ٹینڈر ایک ہال کمرہ 2017-18 میں تعمیر کرایااس پرکروڑوں لگادیئے لیکن کسی اتھارٹی سے اس کی منظوری نہیں لی گئی بورڈ کی سرکاری گاڑیاں بھی غیرمستحقین کے استعمال میں ہیں اوران کے پٹرول اورمرمت کی مدمیں لاکھوں ڈکار ے جارہے ہیں بعض ملازمین کونوازنے کیلئے انہیں غیرقانونی طورپربڑے گریڈوں میں ترقیاں دی جارہی ہیں لفافہ جات اسنادکی خرید میں255200 روپے، پریکٹیکل ایگرامز فائلوں کی خرید میں694000 ، کاغذوں کے رم خریدنے کی مدمیں54 لاکھ سے زائد رقم خوردبرد کی گئی ہے واقفان حال نے صورتحال کانوٹس لینے اوراعلی سطحی تحقیقات کرانے کامطالبہ کیاہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر