رحیمیار خان ‘ پرائیویٹ لیبارٹریاں لوٹ مار میں سب سے آگے ‘ غریب مریض دربدر

رحیمیار خان ‘ پرائیویٹ لیبارٹریاں لوٹ مار میں سب سے آگے ‘ غریب مریض دربدر

رحیم یارخان(بیورو رپورٹر)انتظامی افسران اورہیلتھ کمیشن کی کارکردگی زیرو‘ نجی لیبارٹریاں مریضوں سے منہ مانگی فیسیں وصول کر رہی ہیں جس کے نتیجہ میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے مسائل میں اضافہ ، شیخ زید ہسپتال میں تمام ٹیسٹوں کی سہولت ہونے کے باوجود مریضوں کے لواحقین پرائیویٹ لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کرانے پر مجبور، لیبارٹری مالکان کی جانب سے من مانے ریٹ مقررکر دیئے گئے۔ضلعی (بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

حکومت نے بھی ریٹ مقرر کرنے یا ان کی جانچ پڑتال کا کوئی نظام وضع نہیں کیا۔اس وقت شوگرٹیسٹ کیلئے مختلف لیبارٹریاں 50سے 370روپے تک وصول کررہی ہیں۔ بلڈ ٹیسٹ کی فیس 200 سے 500 روپے، یورین ٹیسٹ کی فیس 50سے 200 روپے، جگر کانظام چیک کرنے کی فیس 450سے 700روپے،لیپڈ پروفائل کی فیس 450سے700روپے اور گردوں کے امراض کی تشخیص کے ٹیسٹ کی فیس120سے 300روپے تک وصول کی جاتی ہے۔ شہریوں محمدصدام، یونس علی، غلام حیدر، محمدکامران، محمداسماعیل، محمدنظام، عابد علی، محمد شہباز، بلال اکرم، شہبازخان، رب نواز ودیگر نے اس صورتحال پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ ضلعی حکومت کو تمام لیبارٹریوں کے لئے ریٹ مقرر کرنے چاہیں اورہیلتھ کے کیئر کمیشن میں اس حوالے سے جو طریقہ طے کررکھا ہے اس پر عملدرآمد ہوناچاہیے شیخ زیدہسپتال ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں تمام ہسپتالوں میں تشخیصی ٹیسٹ کیلئے ایک جیسی فیسیں مقررکررکھی ہیں تاہم پرائیویٹ لیبارٹریاں اپنے اپنے معیار کے مطابق فیسیں وصول کرتی ہیں اور ان کا موقف یہ ہے کہ وہ ٹیسٹ میں استعمال ہونیوالی مشینری اور کٹس کے معیار کو مدنظررکھ کر یہ فیسیں مقرر کرتی ہیں۔ جبکہ محکمہ صحت ذرائع کے مطابق یہ ریٹ چیک کرنے کیلئے کوئی ریگولیٹری اتھارٹی موجودنہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ کٹس اور مشینری کے نام پر بھاری منافع کمانا درست نہیں۔عوامی شکایات پرکارروائی کی جارہی ہے جبکہ مریضوں اور لواحقین کے احتجاج پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پولیس کے حوالے کرکے مقدمات کااندراج کی سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا معمول بن چکاہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر