نئی جوڈیشل پالیسی مسترد مقدمہ قتل کا جلد ٹرائل پر تحفظات ،نظرثانی کی جائے ،آل پاکستان وکلا نمائندہ کنونشن

نئی جوڈیشل پالیسی مسترد مقدمہ قتل کا جلد ٹرائل پر تحفظات ،نظرثانی کی جائے ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی) ملک بھر کی وکلا تنظیموں نے نئی جوڈیشل پالیسی کی مخالفت کر تے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ وکلا ء نے قتل کے مقدمہ کا چار روز میں فیصلے کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 28مارچ2019ء کوچیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کے بعد بھی معاملات درست نہ ہوئے تو4اپریل 2019ء کوبروز جمعرات ملک بھر میں وکلاء ہڑتال کریں گے۔ ہر صوبائی دارالحکومت میں آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن (بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

منعقد کیا جائے گا، اس حوالہ سے اگلا کنونشن کراچی میں ہو گا۔وکلاء نے جوڈیشل پالیسی بناتے وقت وکلاء نمائندوں کو بھی اجلاس میں شریک کرنے کا مطالبہ کیا ،لاہور ہائیکورٹ بارمیں پنجاب بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد ہونے والے آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن کے اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ ایسے اقدامات کو کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا جس سے عوام کی انصاف تک رسائی میں مزید مشکلات پیدا ہوں اور انتظامی اداروں کو عوام کے حقوق پامال کرنے کی کھلی چھٹی مل جائے۔نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں 22(اے)اور 22(بی)کے جوعدالتی اختیارات سلب کئے گئے ہیں ،عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کم کرنے کیلئے جوڈیشل پالیسی میں تبدیلی کی گئی اور عدالتوں کے اختیارات ایس پی کو دیدئیے گئے جو کہ غیر آئینی اقدام ہے ۔ وکلاء برادری اس کویکسر مسترد کرتی ہے اور جانشینی سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کا باقاعدہ ایک قانون موجود ہے جو ایک کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وکلاء برادری کو ماڈل کورٹس میں فوری انصاف کے حصول کیلئے چار دن میں ٹرائل مکمل کرنے کے اقدامات پرتحفظات ہیں جس سے انصاف کے قتل عام ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ معزز ایوان مزید مطالبہ کرتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی تعیناتی کیلئے موجودہ طریقہ کار بامعنی نتائج پیدا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ موجودہ آئینی صورتحال کے تحت جج صاحبان اکثریتی رائے کی بنیاد پر تعیناتی کا فیصلہ کرتے ہیں جس میں وکلاء تنظیموں کی موثر نمائندگی کو ناممکن بنا دیا گیا ہے اور پارلیمانی کمیٹی کو عملاً غیر موثر بنا کر ’’ججز کنسورشیم ‘‘ کے ذریعے اہلیت کو نظر انداز کر کے ذاتی من پسند اور خاندانی ترجیحات کی بناء پر تعیناتی کا عمل جاری ہے۔ لہٰذا ملک بھر سے آئی ہوئی وکلاء قیادت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر سے متعلق آئین کے آرٹیکل 175(اے (میں مناسب ترامیم کا مطالبہ کرتی ہے جس میں پارلیمنٹ، وکلاء اور عدلیہ کے مساوی نمائندوں پر مشتمل کمیشن اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کا فریضہ سر انجام دے۔ موجودہ طریقہ کار مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اس سلسلہ میں آئین میں کی جانے والی ترامیم اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں۔ وکلاء برادری عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کرتی چلی آئی ہے کہ ازخود نوٹس اورمفادعامہ کے مقدمات سے متعلق آرٹیکل 184(3) کے اختیارات کو استعمال کرنے کیلئے ایک جامع قانون مرتب کیا جائے اور آئینی ترمیم کے ذریعے متاثرہ فریق کو لارجر بنچ میں اپیل کا حق دیا جائے۔ مزید یہ کہ جج صاحبان کے خلاف آرٹیکل 209کے تحت کی جانے والی کاروائیوں کا ترجیحی بنیادوں پر فیصلہ کیا جائے کیونکہ طویل مدت تک ریفرنس زیر التواء رہنے کی وجہ سے سائلین شفاف انصاف کے حصول سے محروم رہتے ہیں۔وکلاء نمائندہ کنونشن کے اعلامیہ پر عمل درآمد کے لئے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں اسلام آباد بار کونسل، پنجاب بار کونسل، خیبر پختونخواہ بار کونسل، بلوچستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمینوں کے علاوہ صدر ،سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بھی شامل ہوں گے ۔ یہ کمیٹی حسب ضرورت سب کمیٹی پاکستان بار کونسل کو اپنے ساتھ شامل کریگی۔ مذکورہ کمیٹی کے تمام ممبران مورخہ 28 مارچ کو چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ پہلے سے طے شدہ ملاقات کریں گے ،28مارچ کو معاملات درست نہ ہونے پر 4اپریل کوملک بھر میں وکلاء ہڑتال کریں گے۔ ہر صوبائی دارالحکومت میں آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن منعقد کیا جائے گا۔ اس حوالہ سے اگلا کنونشن کراچی میں ہو گا۔جس کیلئے صدر کراچی بار نعیم قریشی نے تائید کی۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ بار کونسلز، ہائیکورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کیلئے بجٹ میں خصوصی گرانٹ مختص کرے۔ مزید یہ کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اگلے مہینے میں وکلاء نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کیساتھ ملکرایک اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں ججز کی تعیناتی کے عمل پرمختلف تجاویز لی جائیں گی اور ان تجاویز کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیاجائے گا۔اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ پاکستان کے وکلاء نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی ،آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے لئے جدوجہد کی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ وکلاء نے ان مقاصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قوانین کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کیلئے پارلیمنٹ کو وقتاً فوقتاً مناسب ترامیم کرنی چاہئیں لیکن کوئی ایسی ترمیم جو کہ آئینِ پاکستان میں دیئے گئے حقوق کے منافی ہو، اْنکومتاثر کرتی ہو قبول نہیں کی جا سکتی۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت انصاف ترامیمی بل یا مسودے تیار کرتے ہوئے بار کی اعلیٰ قیادت سے لازماً مشاورت کیا کریں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نظام انصاف کے تینوں بنیادی ستون، عدلیہ، عوام اور وکلاء جب تک ہم آہنگ ہو کر حصول انصاف کے لئے آگے نہیں بڑھیں گے تب تک اصل مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ پاکستان کے وکلاء انصاف کی فراہمی میں حائل مشکلات کا مداوا چاہتے ہیں اور اس کے لئے مناسب اصلاحات کے حق میں ہیں، بشرطیکہ ان اصلاحات کا مقصد سائلین کی آسانی اور اْن کے دْکھوں کا مداوا ہو، تقریب سے پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید امجد شاہ ،لاہورہائی کورٹ بار کے صدر حفیظ الرحمن چودھری اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنونشن سے پتہ چلتا ہے کہ تمام وکلا ء ایک پیج پر ہیں اور وکلا نے نئی جوڈیشل پولیسی کو پسند نہیں کیا،نئی جوڈیشل پولیسی بناتے وقت وکلا ء تنظیموں کے سربراہان کو شامل نہیں کیا گیا ،وکلا ء نے کہا کہ نئی جوڈیشل پالیسی کے تحت عدالتوں کا قتل کے مقدمات کا چار روز میں فیصلہ کرنا سمجھ سے بالا ترہے ،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سید امجد شاہ کا کہنا ہے نئی جوڈیشل پالیسی کیخلاف جمعرات کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی ملک بھر کی وکلا تنظیموں نے نئی جوڈیشل پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان سے نئی جوڈیشل پالیسی میں تبدیلی پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

وکلا نمائندہ کنونشن

مزید : ملتان صفحہ آخر