جو بھی دِکھتا ہے سب کا سب بکواس

جو بھی دِکھتا ہے سب کا سب بکواس
جو بھی دِکھتا ہے سب کا سب بکواس

  

ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے عوام اس سے لاتعلق ہیں، ان کے لئے غمی خوشی ایک برابر اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ سب کچھ ویسا نہیں ہے ، جیسا دِکھتا ہے ۔ سیاست کے سیاست ہورہی ہے ، سیاست عوام کی خدمت کا نام ہوتا تھا، اب خدمت کا تمغہ بکواس لگتا ہے ، نون لیگ کی حکومت اتنے کارہائے نمایاں سرانجام دے کر بھی ناکام ٹھہری اور پی ٹی آئی محض تھوک سے پکوڑے تل کر بھی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی ہے ، ایسے میں کون مانے گا کہ سیاست خدمت ہوتی ہے بلکہ خدمت تو خفت میں بدل جاتی ہے ۔ ایسے میں جناب عطاء الحق قاسمی کی وہ غزل یاد آتی ہے کہ

عاشقی واشقی ہے سب بکواس

ہوتی ہوگی کبھی یہ ، اب بکواس

کس قدر دوستی ہے دونوں میں

رہبری، رہزنی کے ڈھب بکواس

کوئی مطلب نہ ڈھونڈنا اس میں

میں نے کہہ جو دیا ہے سب بکواس

ایک یہ زاویہ بھی ہے صاحب

جو بھی دِکھتا ہے سب کا سب بکواس

کچھ نہ کچھ تو عطا ہوا ہوگا

کوئی کرتا ہے ورنہ کب بکواس

بلاول بھٹو ٹرین مارچ شروع کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ابا کی کرپشن بچانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں ، نواز شریف علاج کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ کرپشن بچانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں ، بھئی اگر کرپشن ہے تو ثابت بھی تو کریں، کچھ نکال کر بھی دکھائیں، مال مسروقہ کی ریکوری تو ہونی چاہئے یا محض زبانی جمع خرچ سے لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے رہیں گے۔ علیمہ خان کی کرپشن علیم خان کی گرفتاری میں بدل گئی ، عثمان بزدار کی نااہلی فیاض الحسن چوہان کی برطرفی پر منتج ہو گئی ، اللہ اللہ خیر سلہ!

اس طرح کب تک چلے گا کہ پنجاب میں میٹرو ٹرین بننے نہیں دی جارہی اور پشاور میں میٹرو بس بن نہیں پا رہی ، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور وزیر اعظم قوم کو خوشخبریوں پر لگائے ہوئے ہیں ، اگر تیل نکل بھی آیا تو بھی عوام اس کو پی کر پیٹ نہیں بھر سکیں گے ہاں البتہ گیس پر کڑاہیاں بھون کر ضرور کھائیں گے بشرطیکہ ان کے کاروبار چلتے ہوں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ کرپشن نہیں ہو رہی ہے ، ٹھیک ہے نہیں ہو رہی ہوگی مگر کیا صرف کرپٹ نواز شریف اور کرپٹ آصف زرداری کی ہی گرفتاری ہونی ہے ، وہ لاتعداد پٹواری ، ایس ایچ او اور کلرک بادشاہ کہاں ہیں جو کرپشن کا محرک ہیں، ان کی گرفتاریاں کیونکر عمل میں نہیں آرہی ہیں ؟

جس طرح نکل جائیے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ ملازمین کی ڈاؤن سائزنگ ہورہی ہے ، کارپوریٹ سیکٹر تو یہ بھی نہیں کہتا بلکہ بتاتا ہے کہ رائٹ سائزنگ ہو رہی ہے ۔ ایسے میں ہمارے ایک دوست ، جو نواز شریف دور میں ان کے کاموں کے مخالف رہے اور عمران خان کی قیادت کے گن گاتے رہے ، گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہ کے منتظر ہیں ۔ ان کا فون آیا اورکہنے لگے کہ ایک شعر سنانا ہے ، عرض کی سنایئے تو کہنے لگے

جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس دور کے ’عمران‘ سے کچھ بھول ہوئی ہے

مزید : رائے /کالم