قومی ہیرو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور

قومی ہیرو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور

پشاور( آن لائن )ترقی یافتہ معاشروں میں کھیلوں اور کھلاڑیوں کی سرپرستی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کرکٹ کے علاوہ تمام کھیل جس طرح سے نظر انداز ہو رہے ہیں انکی مثال نہیں ملتی،عالمی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں میں ہمارے قومی ہیروز نے ہمیشہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا لیکن بدلتے حالات نے وقت کا دھارا ہی بدل دیا اور آج بھی ملک میں کئی ایسے قومی ہیروز موجود ہیں جنہوں نے ملک کا نام توضرور روشن کیا لیکن اب حکومتی غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،ایسا ہی ایک قومی ہیرو جس نے نصف صدی باکسنگ کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا اور صدارتی ایوارڈ بھی حاصل کیا تاہم اب حالات کے جبر نے اسے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ پشاور کے ایک کچے مکان میں رہتے ہوئے 15 ہزار کی نوکری کر کے اپنے دن پورے کرنے پر مجبور ہے۔پشاور کے لیجنڈ باکسر لال سعید نے منیلا ،ہانگ کانگ ،کوالمپور اور دنیا بھر میں 50 سال تک ملک و قوم کا نام روشن کیا اور کئی ایوارڈ جیتے، آج حالات کے جبر نے ا نکی زندگی دکھوں سے بھر دی ہے اور وہ انتہائی کسمپرسی میں زندگی بسرکررہے ہیں جب کہ حکومتی سطح پر ان کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے،نصف صدی تک باکسنگ میں ملک و قوم کا نام روشن کرنیوالا عظیم قومی ہیرو لال سعید کو حالات کے جبر نے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔

لال سعید نے بین الاقوامی مقابلوں میں کئی ایوارڈز ملک کے نام کئے جبکہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا تھا ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی