کئی ذہنوں پر نواز شریف کے بیرون ملک ’’فرار‘‘ کا خوف اب بھی سوا ر ہے

کئی ذہنوں پر نواز شریف کے بیرون ملک ’’فرار‘‘ کا خوف اب بھی سوا ر ہے
کئی ذہنوں پر نواز شریف کے بیرون ملک ’’فرار‘‘ کا خوف اب بھی سوا ر ہے

  

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اگرچہ یہ رہائی محض چھ ہفتوں کے لئے طبی بنیادوں پر ہوئی ہے اور یہ مدت گزرنے کے بعد ان کی دوبارہ گرفتاری ہو جائیگی تاہم جن گراؤنڈز پر رہائی ہوئی ہے اگر وہ موجود رہتی ہیں یعنی ان کی صحت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ مزید کچھ عرصہ جیل سے باہر رہ کر اپنا علاج کرائیں تو اس میں توسیع بھی ممکن ہے، توسیع ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، یا وہ وجوہ موجود رہتی ہیں یا نہیں جن کی بناء پر توسیع کی درخواست کی جائے اس بارے میں تو ابھی سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ بعض لوگوں کو یہ غم ابھی سے کھائے جا رہا ہے کہ نواز شریف ملک سے فرار ہو جائیں گے حالانکہ ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے، نہ صرف عدالت نے یہ حکم جاری کیا ہے کہ وہ باہر نہیں جا سکتے بلکہ پہلے سے ان کا نام ای سی ایل میں موجود ہے اس میں ’’فرار کے خوف و خدشے‘‘ کی بنیاد کیا ہے یہ تو وہی جانیں جنہیں اس کیفیت سے گزرنا پڑ رہا ہے، لیکن جہاں تک نواز شریف کے ٹریک ریکارڈ کا تعلق ہے وہ ان حضرات کے خدشات سے کوئی لگا نہیں کھاتا، یہاں ذرا رک کر ان حالات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے جن میں نواز شریف لندن سے واپس آ ئے جہاں ان کی اہلیہ بستر مرگ پر تھیں، وہ بے ہوش تھیں اور بات چیت نہیں کر سکتی تھیں، انہیں اس حالت میں چھوڑ کر نہ صرف نواز شریف واپس آئے بلکہ ان کی بیٹی مریم نواز بھی ساتھ آئیں، ان کے داماد پہلے سے یہاں موجود تھے والد اور بیٹی کو لاہور کے ہوائی اڈے پر گرفتار کر کے اڈیالہ جیل پہنچایا گیا، کیپٹن(ر) صفدر نے راوپلنڈی میں جلوس نکال کر خود گرفتاری دی۔نواز شریف جب بیٹی کے ساتھ لندن سے چلے تھے تو انہیں سو فیصد یقین تھا کہ انہیں ائیرپورٹ سے ہی گرفتار کر لیا جائیگا اور باہر نہیں آنے دیا جائیگا، یہی ہوا ، ممکن ہے لندن میں انہیں ایسے مشورے بھی دیئے گئے ہوں کہ وہ یقینی گرفتاری سے بچنا چاہتے ہیں تو واپس نہ جائیں کسی نہ کسی نے یہ بھی کہا ہو گا کہ انہیں اپنی اہلیہ کو اس حالت میں چھوڑ کر واپس نہیں جانا چاہئے لیکن وہ واپس آئے اور جیل چلے گئے ۔ اس دوران الیکشن ہوئے جس کا نتیجہ سب کو معلوم ہے اور یہ ایسا نتیجہ تھا جس کا ادراک نواز شریف کو بھی تھا وہ کوئی اس امید پر واپس نہیں آئے تھے کہ پھولوں کی کوئی سیج ان کے لئے سجائی جائیگی ان کے راستے میں کانٹے ہی کانٹے تھے اگر کسی کو یہ خیال ہے کہ نواز شریف اس امید پر واپس آ گئے تھے کہ ان کی پاکستان میں موجودگی کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اتنی نشستیں مل جائیں گی کہ وہ حکومت بنا سکے تو یہ خام خیالی ہے، وہ ایک ایسی بازی کھیلنے کے لئے آئے تھے جو پہلے ہی ہاری جا چکی تھی اور اس کھیل کے آخری ایکٹ کے چند مناظر باقی تھے جن میں انہیں اپنا کردار ادا کرنا تھا سو انہوں نے کیا، البتہ جب تک نواز شریف واپس آ کر گرفتار نہیں ہو گئے اس وقت تک بھی یہ کہنے والے بہت تھے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے ذرا اور پیچھے جائیں تو نواز شریف جب بطور وزیر اعظم علاج کے لئے لندن گئے تھے تو بھی کہا گیا تھا کہ اب وہ واپس نہیں آئیں گے بہت سے چینل مسلسل یہی راگ الاپ رہے تھے بلکہ یہ تک کہا گیا کہ انہیں تو دل کا عارضہ ہی نہیں اور جس نام کے ہسپتال کا ذکر کیا جا رہا ہے اس نام کا تو کوئی ہسپتال ہی اس پتے پر موجود نہیں، پھر جب آپریشن ہو گیا اور دوران آپریشن ایک بڑی خطرناک پیچیدگی بھی پیدا ہوئی جس پر قابو پانے کے لئے ڈاکٹروں کو بڑی محنت کرنا پڑی اس کے باوجود جب وہ ہسپتال سے فارغ ہو کر اپنی رہائش پر منتقل ہوئے تو ایک سنیٹر سیاستدان نے یہ تک کہہ دیا کہ وہ جس طرح چل رہے تھے اس طرح تووہ شخص نہیں چل سکتا جس کا بائی پاس ہوا ہو، بہت سے دانشور یہ دعوے کرتے رہے اور ان سب کے علی الرقم نواز شریف صحت یاب ہو کر واپس آئے اور اپنی ذمے داریاں دوبارہ سنبھالیں۔

28جولائی 2017ء کو نوا زشریف کو نا اہل قرار دے دیا گیا جس کے بعد لاہور میں ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی ہو گئی۔ تو اس پر ان کی اہلیہ نے کاغذات نامزدگی داخل کئے وہ کوئی مہم نہ چلا سکیں اور ایمرجسنی میں لندن چلی گئیں بعد میں وہ منتخب ہوئیں اور اپنی جیتی ہوئی نشست پر حلف بھی نہ اٹھا سکیں اس پورے عرصے میں ان کی بیماری شدید تر ہوتی رہی لیکن یہ کہنے والے بھی تھے کہ کلثوم نواز کو کوئی بیماری نہیں یہ سیاسی ڈرامہ ہے، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف بیمار تھیں بلکہ اسی بیماری سے بالآخر سفر آخرت پر روانہ ہو گئیں۔ اب طبی بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت ہوتی ہے تو یہ ایک وقتی اور محدود مدت کے لئے ملنے والا ریلیف ہے اس عرصے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کے مقدمے کی سماعت اگر ہوئی تو کیس کا فیصلہ میرٹ پر بھی آ سکتا ہے، فیصلہ اگر ان کے حق میں آیا تو موجودہ ریلیف مستقل ہو سکتا ہے تاہم اگر اس عرصے میں فیصلہ نہیں ہوتا یا ان کے خلاف آ جاتا ہے تو پھر دوبارہ گرفتاری تو یقینی ہے ان حالات میں نہ جانے یہ خوف و خدشہ کیوں ہے کہ وہ فرار ہو جائیں گے شاید ان کے ذہن میں جنرل پرویز مشرف کا کیس ہو جن کے خلاف مقدمہ زیر سماعت تھا اور اب تک چل رہا ہے لیکن وہ علاج کے لئے باہر چلے گئے، انہوں نے خود ایک بار کہا تھا کہ ان کی بیرونی ملک روانگی کے لئے جنرل(ر) راحیل شریف نے کردار ادا کیا تھا۔وہ جب سے گئے ہیں کبھی واپس نہیں آئے حالانکہ ایک وقت میں انہیں سپریم کورٹ نے یہ آپشن دیا تھا کہ انہیں ائیرپورٹ سے عدالت حاضری تک گرفتار نہیں کیا جائے گا لیکن پھر بھی انہوں نے آنے کا رسک نہیں لیا، جس دن نواز شریف کی ضمانت پر رہائی ہوئی اسی دن شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم لاہور ہائیکورٹ نے جاری کیا جس کے خلاف حکومت سپریم کورٹ میں جانا چاہتی ہے لیکن ہائی کورٹ کا حکم تو نافذ العمل ہو گیا ہے سپریم کورٹ اگر اس پر عملدرآمد نہیں روکتی تو ان کا نام ای سی ایل سے نکالنا پڑے گا،شہباز شریف کے معاملے پر وفاقی حکومت کو مسلسل ہزیمتوں کا سامنا ہے، اگلا سیاسی منظر کیا ہو گا، پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

فرار کا خوف

مزید : تجزیہ