’’ہم فضاؤں کے نگہبان‘‘ دشمن جارحیت کی غلطی نہ کرے،ایئر چیف مارشل!یوم پاکستان شاندار پریڈ ملائشیا کے مہاتیر محمد مہمان خصوصی،آذر بائیجان،سعودی عرب، ترکی، بحرین، سری لنکا اور چین کے فوجی دستوں کی شرکت

’’ہم فضاؤں کے نگہبان‘‘ دشمن جارحیت کی غلطی نہ کرے،ایئر چیف مارشل!یوم ...

یوم پاکستان کی پریڈ نرالے رنگوں کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یوں تو ہر سال یوم پاکستان منانے کی غرض سے مسلح افواج کی شاندار پریڈ منعقد ہوتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں شکر پڑیاں کے مقام پر واقع پریڈ گراؤنڈ میں ہونے والی یہ تقریب نہ صرف پاکستان،بلکہ پوری دُنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کے لئے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی، جبکہ کثیر الملکی فوجی دستوں کی اس پریڈ میں شرکت سے نہ صرف اقوام عالم کی جانب سے پاکستان کے لئے یکجہتی کا تاثر اُبھرتا ہے،بلکہ خطے اور دنیا بھر کے لوگ اس پریڈ کی طرف راغب ہونے لگے ہیں۔ اس پریڈ کی اس سال اہمیت پاک بھارت تناؤ اور بھارتی جارحیت اور اسے منہ توڑ جواب ملنے کے واقعات کے تناظر میں غیر معمولی تھی۔یوم پاکستان کی اس پریڈ میں ایک اہم ترین اسلامی ملک ملائیشیا کے دُنیا بھر میں مقبول رہنما وزیراعظم مہاتیر کی شرکت نہ صرف پاکستان کی ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی تھی،بلکہ اسلامی دنیاکا پاکستان اور مسلح افواج پر بھرپور اعتماد کا اظہار تھا، جبکہ وسطی ایشیا کے اہم اسلامی ملک آذر بائیجان اور اسلامی دُنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب کے فوجی دستوں کے علاوہ چین، ترکی ، بحرین اور سری لنکا کے دستوں کی شرکت خطے اور دُنیا بھر کے لئے ایک پیغام تھا کہ پاکستان آزمائش کی کسی گھڑی میں تنہا نہیں،بلکہ دوست ممالک اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں۔یوم پاکستان کی اس اہم پریڈ میں اس سال بیک وقت داخلی سطح پر استحکام و سلامتی اور خارجی سطح پر اس کی خواہش، لیکن ناقابل ِ تسخیر دفاعی صلاحیت کا مضبوط پیغام گیا۔

صدر عارف علوی نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے بجا طور پر ہندوستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان ایک حقیقت ہے بھارت اس حقیقت کو مان لے‘‘۔ پریڈ میں فخر سے سرشار فضائیہ نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔ اسلام آباد کی نیلگوں فضاؤں میں رنگین دھوئیں سے مصوری کے خوب جوہر دکھائے۔ بھارتی جہاز مار گرانے والی فضائیہ کے ائر چیف نے فلائی پاسٹ کے دوران کاک پٹ سے پیغام دیا کہ ’’ہم فضاؤں کے نگہبان ہیں، دشمن پاکستان کے خلاف جارحیت کی غلطی نہ کرے‘‘۔ 23مارچ کی اس سال کی پریڈ میں منفرد چیز کمنٹیٹروں کا رواں تبصرہ تھا، جنہوں نے نہ صرف تقریب کے ہر پہلو کو پورے سیاق و اسباق کے ساتھ پیش کیا،بلکہ خطے میں پاک بھارت تنازع کے محور کشمیر ایشو کو پوری طرح اُجاگر کیا، جبکہ پریڈ کے منتظمین نے بھی عمدگی کے ساتھ کشمیر کو سب سے آگے رکھا تاکہ اقوام متحدہ اور دُنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل پر مرکوز ہو سکے۔ درحقیقت 23مارچ کی اس سال کی پریڈ نے اقوام عالم کے سامنے پاکستان کا کیس موثر انداز میں پیش کیا، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ قائم ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ایک گفتگو کے دوران بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 23مارچ کے موقع پر پیغام کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے بھارتی انتخابات تک پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ انہوں نے برملا کہا کہ پاکستان کو چوکس رہنا ہو گا۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلی بار یہ ضرورت محسوس کی کہ وہ اسلام آباد میں وزارتِ عظمیٰ کی بیٹ کور کرنے والے صحافیوں، ریذیڈنٹ ایڈیٹروں اور بیورو چیف کے ساتھ اشتراک عمل کریں۔ لگتا ہے کہ اپوزیشن کے تیور دیکھتے ہوئے انہوں نے میڈیا سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیاہے، جبکہ شاید بڑھتی ہوئی مہنگائی،ڈالر کی قیمت اور پاور سیکٹر کی جانب سے بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے تناظر میں پلنے بڑھنے والے عوامی ردعمل کے تدارک کے لئے بھی میڈیا کو اعتماد میں لینا ضروری تھا،لیکن ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے میڈیا کے ساتھ اشتراک ایک مثبت پیغام گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی اِس پہل کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کے نصف درجن میڈیا منیجروں کو بھی ضرور جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بجا طور پر کہا کہ انہیں حکومت میں آنے پر ملکی خزانہ کی جو صورتِ حال ورثے میں ملی اس کے نتیجے میں ’’بیلٹ کو ٹائٹ‘‘ کرنا ضروری تھا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ’’اکانومی‘‘ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم نے نہایت صاف دِلی کے ساتھ میڈیا کے سامنے اکانومی کے گھمبیر معاملات رکھے تاکہ قوم کو حکومت کی مشکلات کا ادراک ہو سکے۔انہوں نے میڈیا کے نامساعد معاشی حالات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں باقی شعبوں میں معاشی بیلٹ ٹائٹ ہے تو میڈیا کو بھی اس صورتِ حال سے گزرنا ہو گا،لیکن وزیراعظم عمران خان کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ 22کروڑ کا ملک جہاں30فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہو اور سفید پوش طبقہ بھی مہنگائی اور بھاری یوٹیلٹی بلوں کے باعث اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہوں وہاں آپ صرف اپنی صاف دِلی اور شفافیت کا اظہار کر کے زیادہ دیر معاملات قابو میں نہیں رکھ سکتے۔اگر حکومت اپنی حکمت عملی اور طرز حکومت سے ایسے وسائل نہ پیدا کر سکے، جس کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچ سکیں، کیونکہ موجودہ حکومت میں ایک ٹیم ورک اور بروقت فیصلہ سازی کا فقدان عیاں نظر آ رہا ہے۔ موجودہ حکومت طویل عرصہ تک ماضی کی حکومتوں پر ملبہ ڈال کر عوام کو مطمئن نہیں کر سکتی۔عوام نئے پاکستان میں ’’ریلیف‘‘ کی منتظر ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے ساحل سے200کلو میٹر دور پاکستان کی آبی سرحد کے اندر ایشیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر ملنے کی خوشخبری سنائی ہے اور پاکستانی قوم سے دُعا کی بھی اپیل کی ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ملک کے لئے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے، لیکن ’’کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘‘ کے مصداق عوام کو بھاری گیس اور بجلی کے بلوں سے فوری کچھ نہ کچھ ریلیف چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پاکستان تحریک انصاف کے وژن کے مطابق کام کر رہے ہیں، لیکن پنجاب 12کروڑ عوام کا صوبہ ہے،جہاں طاقت کے کئی مراکز ہیں۔ صوبہ پنجاب میں مضبوط کمان کے بغیر مؤثر طرز حکمرانی قائم نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی بار بار بھرپور حمایت کے اظہار کے بعد امید ہے کہ اب پنجاب میں ایک مؤثر حکمرانی نظر آئے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے بطور کرکٹر اپنی کپتانی کے تجربہ کی روشنی میں کابینہ کے بعض کمزور ارکان کی بھی حمایت کی اب دیکھنا ہے کہ کرکٹ اور سیاست کے تجربات و محرکات کس قدر یکساں ثابت ہوتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس کا سارا زور درحقیقت شریف برادران کے لئے کوئی اور رعایت نہ برتنے پر تھا۔ان کا یہ بھی خیال تھا کہ اپوزیشن کا کوئی احتجاج کامیاب نہیں ہو سکتا اپوزیشن این آر او کے لئے احتجاج اور بلیک میلنگ کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت کے کیس کی سماعت سے ایک روز قبل میڈیا سے اشتراک کر کے یہ اہم پیغام دیا۔ اب دیکھنا ہے کہ ان کے اس پیغام کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں،جبکہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سابق صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ پیشی کے موقع پر ’’وارم اپ شو‘‘ کے بعد ٹرین مارچ کا آغاز کر چکے ہیں۔

ان سطور کے پریس میں جانے تک سپریم کورٹ سے خبر آ گئی۔فل بنچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیماری کے باعث

مزید : ایڈیشن 1