سیاسی موسم گرما، بلاول بھٹو کا ٹرین مارچ ’’کاروان بھٹو‘‘ شروع!

سیاسی موسم گرما، بلاول بھٹو کا ٹرین مارچ ’’کاروان بھٹو‘‘ شروع!

ڈائری ۔ کراچی۔ مبشر میر

چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی دھواں دھار پریس کانفرنس کے بعد اب ٹرین مارچ سیاسی ماحول کو مزید گرمانے کا باعث بنے گا۔ ٹرین مارچ کو ’’کاروان بھٹو‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو کراچی سے گزشتہ روز شروع ہوا۔ اس دوران پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ امسال 4 اپریل کوبانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پارٹی پاور شو کرے گی۔ لاڑکانہ میں بڑا اجتماع منعقد ہوگا۔ یوں پیپلز پارٹی متوقع خطرات کے پیش نظر کارکنوں کو متحرک اور فعال کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

اسی دوران وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی نیب میں پیش ہوئے ، انہوں نے نیب کو ہر طرح سے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ انہیں کہا گیا تھا کہ سکرنڈ، خوشگی، پنگریو اور ٹھٹھہ شوگر ملز کا ریکارڈ لے کر حاضر ہوں۔ ان پر الزام ہے کہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں معروف بزنس ہاؤس اومنی گروپ کو اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔

اندرون سندھ سے دو ہندو نوعمر لڑکیوں کے مبینہ اغواء اور پھر نکاح کے حوالے سے متضاد بیانات اور اطلاعات نے ابہام پیدا کررکھا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی جاری ہونے والی تصاویر میں ان کو خوش و خرم دکھایا گیا ہے۔ اندرون سندھ کے کئی اضلاع میں اسی نوعیت کے واقعات اکثر و بیشتر منظر عام پر آتے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کانوٹس لیا ہے۔ اسی حوالے سے ٹوئیٹر پر ٹوئیٹ وار بھی دیکھنے کو ملی ، جس میں وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری اور بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کے درمیان لفظی جنگ ہوئی۔ مذہبی اقلیتوں کے معاملے میں دونوں ممالک میں ریکارڈ خوش آئند تو کجا باعث ندامت ہے۔ اس لیے الزامات کی بجائے اپنے اپنے ملک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ بھارتی الیکشن کے قریب آتے ہی پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور حملے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کراچی میں مولانا تقی عثمانی، دارالعلوم کورنگی کے صدرنشین اور اسلامی بینکنگ کے شریعہ ایڈوائزر پر حملہ ہوا۔ گارڈز کی شہادت ہوئی، علامہ صاحب محفوظ رہے۔

سماجی طور پر اندرون سندھ کی صورتحال بہت خطرناک ہے۔ ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغواء کا معاملہ ضلع میرپور ماتھیلو میں پیش آیا اور اسی ضلع کی ایک مسلمان لڑکی نے پسند کی شادی کی اور اپنے ہی قبیلے کے نوجوان کو اپنی رضامندی سے اپنا شوہر تسلیم کیا، لیکن قبیلے کے افراد نے اسے پکڑ کر کاری قرار دیا اور اس کے بھائی نے پستول کے فائر سے اسے قتل کردیا۔ عجیب بات ہے کہ اس پر کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ کیونکہ اس پر کسی بھارتی وزیر نے ٹوئیٹ نہیں کیا۔

اندرون سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے بہت سے اضلاع میں خواتین بہت ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ کاروکاری کی رسم کے تحت مسلمان لڑکیوں کی گردن ماری جاتی ہے اور غیر مسلم لڑکیوں کو مسلمان کرکے گھر میں رکھ لیا جاتا ہے۔ ایک ہی طرح کے عمل یعنی رضامندی کی شادی کے دو مختلف قسم کے فیصلے نام نہاد جرگے سناتے ہیں، جس پر سیاسی راہنما بھی خاموش رہنا بہتر خیال کرتے ہیں۔

تھرکول سے بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی ہے، جو خوش آئند ہے ، چینی کمپنی نے پاکستانی کمپنی کے ساتھ مل کر کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن تھرپارکر میں بچوں کی اموات کم نہیں ہوئیں۔ اس ہفتے بھی تین بچے لقمۂ اجل بن گئے، تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ لیکن سندھ حکومت کے اقدامات کارگر ثابت نہیں ہورہے۔ بچوں کی اموات کا سلسلہ سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے دور میں نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد انتخابات بھی ہوئے اور سید مراد علی شاہ دوبارہ وزیراعلیٰ سندھ منتخب ہوگئے، لیکن تھر کے بچوں کی قسمت میں پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اموات کی شرح کم نہیں ہوتی۔ سندھ کی وزارت صحت اور خاص طور پر وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے لیے یہ آج بھی ایک چیلنج ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ٹرین مارچ اور 4 اپریل کے جلسہ کے بعد اس طرف بھی رُخ کریں کیونکہ تھرپارکر کے بچے بلاول بھٹو زرداری کے ایک عرصے سے منتظر ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے وزیراعلیٰ سندھ سے چار ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے کہ تھرکول اتھارٹی میں اربوں روپے کی کرپشن کیس میں آڈٹ رپورٹ ابھی تک کیوں پیش نہیں کی گئی۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آپ لوگ شفاف طریقے سے ترقیاتی کام بھی نہیں کرسکتے، یوں تھرکول میں اچھی خبروں کے ساتھ ساتھ سوالیہ نشان بھی جڑے ہوئے ہیں۔

احتساب عدالت نے 28مئی 2014 جب وزیراعظم میاں نوازشریف تھے، آصف زرداری کو پولو گراؤنڈ اور ارسس ٹریکٹرریفرنس سے بری کردیا تھا۔ یوں آصف زرداری کے لیے ایک اور پریشانی کا باب دوبارہ سے کھل گیا ہے۔سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ بھی نیب میں پیشی سے پہلے ضمانت قبل از گرفتاری کروارہے ہیں ۔بریت کے خلاف نیب کی اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں 18اپریل کو سنی جائے گی۔

عوامی جمہوریہ چین سے حکومت پاکستان نے 15ارب یوآن قرض لیا ہے جو 2ارب 10 کروڑ ڈالر کے برابر ہیں، اور زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 81کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں۔ رقم پاکستان کے مرکزی بینک کو موصول ہوگئی ہے۔ وزیرخزانہ اسد عمر کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی فائنل اسٹیج پر ہیں۔ اس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ ملکی معیشت پر بہتر اثر پڑے گا اور اسٹاک ایکسچینج سے مندی کے بادل چھٹ جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ کراچی کے قریب آف شور ڈرلنگ سے تیل اور گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہونے کے امکانات روشن ہیں جو پاکستانی معیشت کو عروج کی بلندیوں تک پہنچادیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ثمرات عام عوام تک کیسے پہنچیں گے کیونکہ مہنگائی سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1