مسند اقتدار بھی کیا شے ہے، مطالبات کے جواب میں وعدے، جوایفا نہ ہوں!

مسند اقتدار بھی کیا شے ہے، مطالبات کے جواب میں وعدے، جوایفا نہ ہوں!

ایسا کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا، برسراقتدار آنے والے حضرات کی تاریخ ہی یہ ہے کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر بروقت کارروائی نہیں کرتے اور جان بوجھ کر تاخیر روا رکھتے ہیں جس کی وجہ سے مظاہرین کا احتجاج طویل ہو جاتا اور شہریوں کی پریشانی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ مقتدر حضرات وعدے بھی نہیں نبھاتے اور جب یقین دہانی کراکے مظاہرہ ختم کرادیتے ہیں تو پھر اس پر عمل نہیں کرتے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ جونہی کوئی مسئلہ پیدا ہو متعلقہ حکام اور وزارت اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرکے متاثرین کے نمائندوں سے تفصیل سے بات کرے اور ان کو قائل کرے تاکہ کسی ایسے مظاہرے کی نوبت ہی نہ آئے جس کی وجہ سے عوام دشواری میں مبتلا ہوں۔

پنجاب بھر کی لیڈی ہیلتھ وزیٹرز نے سابقہ وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں فیصل چوک میں دھرنا دے دیا، جو چار روز سے زیادہ جاری رہا، یہ چوک ایک ایسا مرکزی ہے کہ اس کے بند ہونے سے شہر شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور ٹریفک بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ کہ بوجھ متوازی سڑکوں پر منتقل ہوتا ہے۔ حسب روایت وزارت صحت کی طرف سے نہ صرف توجہ نہ دی گئی بلکہ ہماری توقع کے خلاف وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اسے سیاسی قرار دے دیا، یہ زیادہ قبل افسوس بات ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد ان کو بلا کر بات کرنے کی بجائے سیاست کہہ کر ٹال گئیں اور میڈیا میں وضاحتیں دیتی رہیں، دھرنا مظاہرین (خواتین) نے بھی اس وقت تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا جب تک مطالبے منظور نہیں ہوتے۔ چنانچہ ڈیڈلاک کی کیفیت ہوگئی۔ خواتین بچوں سمیت سردی میں پڑی رہیں غالباً وزارت صحت کا یہ تصور تھا خود ہی تھک کر دھرنا ختم کردیں گی۔ لیکن شہریوں کی اس پریشانی پر غور نہ کیا گیا جو ٹریفک کے دباؤ کی وجہ سے ہو رہی تھی۔ پانچ روز کے بعد غالباً وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے مظاہرین کے نمائندہ وفد کو 90شاہراہ پر بلایا، ان سے مذاکرات کئے، اس ملاقات میں متعلقہ وزیر صحت کو نظر انداز کیا گیا اور وزیر قانون نے پھر سے یقین دہانیاں کرائیں جن کی بناء پر لیڈی ہیلتھ وزیٹرز نے دھرنا ختم کیا اور خواتین جو بچوں سمیت تھیں اپنے اپنے شہروں کو لوٹ گئیں۔ دیکھئے یقین دہانیاں کب عمل پذیر ہوتی ہیں؟

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی صحت والی گتھی جوں کی توں ہے اور محترم نے کسی ہسپتال جانے سے جو انکار کیا اس پر قائم ہیں، صوبائی حکومت کی طرف سے اس صورت میں جو ممکنہ اقدامات ہوسکتے ہیں وہ اٹھائے جارہے ہیں، اور طبی امداد مہیا کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ مسلم لیگ (ن) اور حکومت کے درمیان مکالمہ بازی بھی جاری ہے اور جماعت کی طرف سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر علاج میں کوتاہی برت رہی ہے۔ اس اثناء میں ایک نیا سکینڈل سامنے آیا۔ جب سوشل میڈیا پر یہ احتجاج کیا گیا کہ سابق وزیراعظم کی نہ صرف لیبارٹری رپورٹ تبدیل کی گئی بلکہ اس پر نازیبا کلمات بھی لکھ دیئے گئے۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ متعلقہ لیبارٹری (چغتائی لیبارٹری) کی ویب ہیک کرکے یہ شرارت کی گئی اس کی تحقیقات کرائی جائے گی جبکہ لیبارٹری کے ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ عمل لیبارٹری کا نہیں، کسی ٹوئیٹر اکاؤنٹ والے کا ہے جس نے رپورٹ پیسٹ کرکے الفاظ لکھے۔ لیبارٹری کے مطابق اب یہ ہٹا دیئے گئے اور معذرت بھی کی گئی ہے۔ بہرحال حکومت پنجاب نے اب عام ملاقاتوں پر پابندی عائد کی کہ ان کے مطابق بلاول بھٹو کی ملاقات کے بعد سے یہ سلسلہ سیاسی ہوگیا ہے اور سابق وزیراعظم بہرحال سزا یافتہ قیدی ہیں، خود وزیراعلیٰ نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت اب جیل قواعد کے مطابق مراعات دے گی اور ہفتے میں ایک روز اہل خانہ ملاقات کریں گے۔ یوں مولانا فضل الرحمن کی وہ خواہش دل میں رہ گئی کہ وہ محمد نوازشریف سے ملاقات کریں اور ایک متحدہ اپوزیشن کی خواہش پوری کرلیں۔

بہرحال اس عرصہ میں مریم نواز کی طرف سے مسلسل والدکی بیماری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور احتجاج کیا کہ ان کو ملنے نہیں دیا جاتا اس لئے ان کے پاس محمد نوازشریف کی خیریت اور بیماری سے متعلق معلومات کا کوئی ذریعہ نہیں۔ انہوں نے بالآخر کوٹ لکھپت جیل کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔ جواب میں صوبائی حکومت اور انتظامیہ نے بات نہ بڑھنے دی اور مریم نواز کو سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج سمیت ملنے کی اجازت دے دی گئی۔

اس عرصہ میں مسلم لیگ (ن)کے کارکن مشتعل ہوئے اور یوم پاکستان کے موقع پر جیل کے باہر قائد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے زبردست مظاہرہ کیا اور نعرہ بازی کی، بعض پرجوش کارکنوں نے ریل گاڑی بھی روک لی جو پولیس اور بعض سنجیدہ کارکنوں کی مداخلت سے جانے دی گئی تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرکے پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے۔

موسم نے کروٹ لی۔ تھوڑی تاخیر سے سہی بہار کا موسم آگیا، نئے پھول پتے نکل آئے۔ سبزہ بہار دکھا رہا ہے، اس سلسلے میں جشن بہاراں کی روائتی تقریبات بھی شروع ہوگئیں۔ پی ایچ اے نے نہر کو خوبصورت فلوٹوں اور روشنیوں کے ذریعے سجایا اور جیلانی پارک میں پھولوں کی نمائش بھی کی۔ شہریوں نے بھی بڑی دلچسپی لی۔

یوم پاکستان کی تقریبات کے حوالے سے بھی شہر اقتدار میں قومی پریڈ کے بعد لاہور میں بھی یوم پاکستان کے حوالے سے تقریبات ہوئیں۔ گورنر ہاؤس میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اعزازات تقسیم کئے تو مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ہوئی۔ پروقار تقریب کو شہریوں کی بھاری تعداد نے دیکھا۔ غروب آفتاب کے وقت واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب میں بھی بڑا جوش اور ولولہ تھا اور شہریوں کی بہت بڑی تعداد اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتی رہی۔

مزید : ایڈیشن 1