ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں میں قبائلیوں کے مشوروں سے استفادہ کیا جائیگا: قلندر لودھی

ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں میں قبائلیوں کے مشوروں سے استفادہ کیا ...

خیبر (بیورورپورٹ)خیر پختونخوا کے وزیر خوراک حاجی قلندر خان لودھی نے کہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دس سالہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے مشاورت میں قبائلی عوام کی رائے، تجاویز اور مشوروں سے استفادہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور یہاں کے عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود کے حوالے سے ہر قابل عمل قدم اٹھانے کے لئے تیار ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خوراک نے ضلع خیبر کے سب ڈویژن باڑہ میں ضم شدہ اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے منگل کے روز منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اس امر کا اعلان کر چکے ہیں کہ وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا اپنے حصے کی تین فیصد رقم قبائلی ضلعوں اور عوام کی ترقی کیلئے ضرور دستیابی کو یقنی بنائیں گے وزیراعظم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ یہاں کی ترقی یہاں کے عوام کی مشاورت سے کی جائے صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمیں یہ موقع اس کی اہمیت کے مطابق استعمال کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ ضم شدہ اضلاع ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں ہمیں قبائلی عوام کے دکھ درد اور مصیبت کا احساس ہے اور قبائلی بھائیوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی رائے،مشورے اور تجاویز کو ضرور ریکارڈ کیا جائے گا انہیں زیر غور لایا جائے گا اور ان پر مناسب کارروائی کی جائے گی صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی ترقی و بہبود پر ایک ہزار ارب روپے اگلے دس سال کے دوران خرچ کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اس عمل کو دور بیٹھ کر بھی کیا جا سکتا تھا تاہم پاکستان تحریک انصاف کی حکومت، وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور اس خطیر رقم کے استعمال میں قبائلی عوام کی رائے، مشاورت اور تجاویز کو دس سالہ منصوبے میں شامل کیا جائے۔مشاورتی اجلاس میں خیبر سے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی ڈائریکٹر فوڈسعا دت حسن، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر محمود اسلم وزیر سمیت قبائلی عمائدین اور ہر شعبے فکر سے وابستہ مقامی افراد نے شرکت کی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر