سنیارٹی متاثر ہونے کے خلاف افسران کی درخواست کی سماعت

سنیارٹی متاثر ہونے کے خلاف افسران کی درخواست کی سماعت

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ رجسٹری میں سنیارٹی متاثر ہونے کے خلاف انجینئرنگ ورکس اینڈ سروسز افسران کی درخواست کی سماعت ،جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں محکمے بنائے ہی ختم کرنے کے لیے جاتے ہیں۔منگل کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سنیارٹی متاثر ہونے کے خلاف افسران کی درخواست کی سماعت ہوئی دوران سماعت جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ دیہی سندھ میں ڈیولپمنٹ کا ادارہ بنانے کا کیا جواز ہے،سندھ کے لوگ اب بھی موہنجوداڑو میں رہ رہے ہیں۔سندھ کے لوگوں کے نام پر کھربوں روپے خرچ کیے جا چکے،کل بھی ایک کیس سنا،108 ارب لگا کر بھی ایک گلاس صاف پانی مہیا نہیں کیا جا سکا،سندھ حکومت کے پاس کیا ان حقائق کا دفاع ہے،محکمے بنا کر ملازمین بھرتی پھر انہیں سر پلس پول میں ڈال دیا جاتا ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ سندھ ایرٹ زون 1994 میں دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے بنایا گیا,2003 میں محکمے کو کریشن کا گڑھ قرار دے کر ختم کر دیا گیا تھا،سندھ ایرٹ زون ختم کرنے ملازمین کو مختلف محکموں میں ضم کیا گیا،ملازمین ضم ہونے سے ان کی سنیارٹی متاثر ہو رہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر