اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 113

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 113
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 113

  

ایک دفعہ حضرت ابو الحسن نوریؒ نے ایک دہکتا ہوا انگارہ ہاتھ میں لے کر مسل دیا۔ جس کی وجہ سے آپ کا ہاتھ کالا ہوگیا۔ اسی دوران خادمہ نے آپ کے سامنے دودھ اور روٹی لاکر رکھی۔ آپ نے ہاتھ دھوئے بغیر کھانا شروع کردیا۔

آپ کے اس فعل سے خادمہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ انتہائی بدتمیزی کی بات ہے ابھی وہ اسی خیال میں کھڑی تھی کہ باہر سے شاہی سپاہیوں نے آکر خادمہ کو یہ کہتے ہوئے گرفتار کرلیا کہ اس نے فلاں شخص کا زیر جامہ چرایاہے۔ اس لیے تجھے کوتوال کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خادمہ کو زدوکوب بھی کرنا شروع کردیا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا ’’اس کو مت مارو، تمہارا زیر جامہ ابھی مل جائے گا۔‘‘

چنانچہ اسی وقت ایک شخص نے زیر جامہ سپاہیوں کے حوالے کردیا اور وہ خادمہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ نے خادمہ کو فرمایا ’’میری بدتمیزی ہی تیرے کام آگئی۔‘‘

یہ سن کر خادمہ نے اپنا سر جھکالیا۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 112 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب حضرت جلال الدین سرخ بخاریؒ ہندوستان آرہے تھے تو اثنائے سفر میں ایک ساتھی نے آپ کو اشرفیوں کی ایک تھیلی دی اور کہا ’’میں یہ تھیلی ہندوستان جاکر آپ سے واپس لے لوں گا۔ ‘‘

اتفاقاً راستہ میں قزاقوں نے لوٹا تو وہ تھیلی بھی ان بدبختوں کے پاس چلی گئی۔ جب آپ ہندوستان پہنچے تو آپ کا وہ ساتھی جو اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ اس کی تھیلی ڈاکوؤں نے لوٹ لی تھی آزمائش کے طور پر آپ سے سخت تقاضا کے ساتھ اپنی اشرفیوں کی تھیلی طلب کرنے لگا۔

آپ اسے ساتھ لے کر دریا کے کنارے پر تشریف لے گئے پھر دریا میں ہاتھ ڈال کر من و عن وہی تھیلی نکال کر اسے دے دی۔ وہ شخص آپ کی یہ کرامت دیکھ کر آپ کی عظمت اور بزرگی کا دل و جان سے قائل ہوگیا۔

***

ایک دہریہ نے اپنے تین سوال مشتہر کیے اور ان کے ساتھ اعلان کیا کہ میرے ان تین سوالوں کا جواب جو کوئی عالم دے دے تو میں خدا کی ہستی پر ایمان لے آؤں گا۔ اس کے سوال یہ تھے

۱۔ خدا کو جب کسی نے دیکھا نہیں تو پھر کلمہ میں اشھد ان لا الہ الااللہ پڑھ کر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ بغیر دیکھے کے گواہی کیوں؟

۲۔ جو کرتا ہے خدا کرتا ہے پرھ کسی گناہ پر بندہ مجرم کیوں جبکہ کرنے والا خدا ہے۔

۳۔ شیطان ازروئے قرآن آگ سے بنا ہے اور خدا اسے دوزخ میں ڈالے گا، ت واس کا کیا بگڑسکتا ہے کیونکہ اگر دوزخ میں آگ ہے تو شیطان خود بھی آگ ہے پھر آگ آگ میں ڈال دی جائے تو آگ کا کیا نقصان؟

کئی دنوں تک اس کے سوالوں کا جواب کسی سے بن نہ پڑا۔ وہ دین و مذہب کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے لگا۔ اتفاقاً ایک روز شہر سے باہر نکلا تو باہر میدان میں ایک مجذوب بیٹھے دکھائی دئیے۔ ان کے پاس مٹی کے بڑے برے ڈھیلے پڑے تھے۔

اس بزرگ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا ’’سنا ہے کہ آپ کے کچھ سوال ہیں اور آپ کو گلہ ہے کہ کسی نے ان کا جواب نہیں دیا۔

دہریہ نے جواب دیا ’’جواب کوئی کیا دے گا میرے سوال ہی لاجواب ہیں۔‘‘

اس بزرگ کے پوچھنے پر دہریہ نے اپنے تینوں سوال دہرائے۔

بزرگ نے سوالوں کو سن کر جواب دیا ’’میں دوں ان سوالوں کے جواب۔‘‘

دہریہ نے اثبات میں سر ہلایا تو بزرگ نے ایک بہت بڑا مٹی کا ڈھیلا اٹھایا اور دہریہ کے سر پر دے مارا، دہریہ کا سر پھٹ گیا۔ وہ اسی وقت قاضی کے روبرو جاپیش ہوا اور سارا واقعہ سناتے ہوئے کہا ’’اسے میرے سوالوں کا جواب دینا نہیں آیا۔ اسی لیے مجھے زخمی کرڈالا۔‘‘

قاضی نے اسی وقت بزرگ کو اپنی عدالت میں بلوا بھیجا۔ جب وہ عدالت میں حاضر ہوگئے تو قاضی نے ان سے پوچھا ’’تم نے اس کے سر پر ڈھیلا کیوں مارا ہے؟‘‘

آپ نے فرمایا ’’میں نے اس کے تینوں سوالوں کا جواب دیا ہے۔‘‘

قاضی نے پوچھا ’’وہ کیسے؟‘‘

آپ نے فرمایا ’’وہ ایسے کہ اس کا پہلا سوال یہ تھا کہ خدا کو دیکھے بغیر اس کی گواہی کیوں دی جاتی ہے؟ اب میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیوں صاحب میں نے جو آپ کو ڈھیلا مارا ہے تو آپ کے سرپر کیا ہوا ہے؟‘‘

دہریہ بولا ’’میرا سر پھٹ گیا ہے اور سر میں سخت درد ہورہی ہے۔‘‘

آپ نے پوچھا ’’جو درد ہورہا ہے اس کی گواہی کون دے گا؟‘‘

وہ بولا ’’میں خود گواہی دیتا ہوں کہ میرے درد ہورہی ہے۔‘‘

بزرگ بولے ’’یہ درد تم نے دیکھی ہے۔‘‘

اس نے نفی میں جواب دیا اور بولا ’’درد کو دیکھا تو نہیں لیکن محسوس تو ہورہا ہے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’خدا ہم نے دیکھا تو نہیں لیکن وہ اپنی قدرتوں سے معلوم تو ہورہا ہے ۔ُ‘‘

اس پر دہریہ نے اقرار کیا کہ اس کا پہلا سوال حل ہوگیا ہے۔

بزرگ پھر بولے کہ ’’تمہارا دوسرا سوال یہ تھا کہ جو کرتا ہے خدا کرتا ہے، بندے کا تعلق کیا۔ اگر یہی بات ہ ے تو پھر تم نے مجھے عدالت میں کیوں بلوایا۔ ڈھیلا بھی خدا نے مارا ہے میرا کیا قصور ہے؟‘‘

دہریہ بولا ’’میرا دوسرا سوال بھی حل ہوگیا لیکن میرا تیسرا سوال ابھی باقی ہے۔

آپ نے جواب دیا ’’اس سوال کا جواب بھی دیا جاچکا ہے۔ تمہارا سوال یہ تھا کہ شیطان بھی آگ اور دوزخ بھی آگ پھر ایک آگ کا دوسری آگ میں پڑ کر کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ پھر انہوں نے دہریہ سے سوال کیا ’’تم کس چیز سے بنے ہو؟‘‘

وہ بولا ’’مٹی کا بنا ہوا ہوں۔‘‘

آپ نے فرمایا اور یہ جو ڈھیلا میں نے تم کو مارا تھا کس چیز کا تھا۔‘‘

اس نے جواب دیا ’’یہ مٹی کا بنا ہوا ہے۔‘‘

بزرگ بولے ’’بس جس طرح مٹی نے مٹی کو لہو لہان کردیا ہے اسی طرح آگ بھی آگ کا بیڑہ غرق کردے گی۔‘‘

اس پر دہریہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اقرار کیا کہ اس کے تینوں سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔ اس لیے میں سچے دل سے مسلمان ہوتا ہوں۔

***

حضرت حاتم اصمؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میری جماعت کی نماز جاتی رہی۔ اس کے افسوس کرنے کے لیے میرے پاس صرف ابو اسحاق بخاریؒ ہی تشریف لائے۔ حالانکہ اگر میرا بچہ مر جاتا تو افسوس کے لیے ایک ہزار آدمی سے زیادہ آتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے نزدیک دنیا کی مصیبت کے مقابلہ میں دین کی مصیبت کوئی وقعت اور اہمیت نہیں رکھتی۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 114 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے