بھارت پلوامہ واقعہ کے بعد جارحیت نہ کرتا تو اس کو کیا فائدہ پہنچتا؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتادیا

بھارت پلوامہ واقعہ کے بعد جارحیت نہ کرتا تو اس کو کیا فائدہ پہنچتا؟ وزیر ...
بھارت پلوامہ واقعہ کے بعد جارحیت نہ کرتا تو اس کو کیا فائدہ پہنچتا؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتادیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ اگربھارت پلوامہ کے بعد جارحیت نہ کرتا ، ہم سے انگیج کرتا تو اس کو پتہ چلتا کہ پاکستان میں ایک نئی حکومت ہے جومسائل کاحل چاہتی ہے، دنیا کو پاکستان کے اقدامات میں خلوص دکھائی دیگا ۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ بھارتی ڈوزیئر کا جواب دیدیاہے ، پاکستان نیک نیتی سے آگے بڑھنا چاہتاہے ، ہم چاہتے ہیں کہ ہم الجھے نہ رہیں بلکہ آگے بڑھیں ، اگربھارت پلوامہ کے بعد جارحیت نہ کرتا ، ہم سے انگیج کرتا تو اس کو پتہ چلتا کہ پاکستان میں ایک نئی حکومت ہے جومسائل کاحل چاہتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت جو اقدامات اٹھارہی ہے ، دنیا کو ان میں خلوص دکھائی دیگا ، ہم آئیں بائیں شائیں کرنا نہیں چاہتے ، ہم مسئلے کاحل چاہتے ہیں، پلوامہ حملے میں پاکستان قصور وار تھا نہ ہے ، ہم پہلے سے پر اعتماد طریقے سے یہ کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیوں کرنی ہے ؟ نہ ہم مداخلت کرناچاہتے ہیں، دفتر خارجہ کی وضاحت کے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ گیاہے ، وزیر اعظم کے بیان کو اگر سیاق و سباق سے ہٹ کردیکھا جائے تو پھر کوئی مطلب لیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ زلمے خلیل زا د پاکستان آرہے ہیں ، ان سے بات ہوگی، زلمے خلیل زاد کو پتہ ہے کہ یہ معاملہ کتنا حسا س ہے اور ان کی بھی خواہش ہے کہ یہ معاملہ آگے بڑھے ۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام پارٹیوں کو آن بورڈ ہوناچاہئے ،نیشنل ایکشن پلان کے سیاسی حصہ پر اتفاق رائے کی ضرورت ہے، میں نے آصف زرداری کو خود فون کیا اور ان کاردعمل مثبت تھا لیکن کچھ اور لوگ ہیں جن کا میں نام نہیں لینا چاہتا ، ان کا خیال تھا کہ دفتر خارجہ جانا مناسب نہیں ہوگا جس پر میں نے کہا دفتر خارجہ نہ آئیں پارلیمنٹ میں مل لیں ، شہبازشریف کو بھی فون کیا اور تاریخ بھی ان کی مرضی سے رکھی لیکن وہا ں بھی کچھ لوگ ہیں جن کی وجہ سے یہ نہ ہوا ، یہ سیاست ہورہی ہے ،پیپلز پارٹی اور شہباز شریف کی جانب سے جواب آگیاہے کہ ہم ابھی تیار نہیں ہیں،جب اپوزیشن چاہے گی ہم بریفنگ دینے کیلئے تیار ہیں لیکن اب ہم ان کو زبر دستی تو بلا نہیں سکتے ، قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رویے پر وزیر اعظم کومایوسی ہوئی ہے ۔

مزید : قومی