ملتان میں فلور مل سیل‘ دیگرشہروں میں آٹے کا بحران جاری

ملتان میں فلور مل سیل‘ دیگرشہروں میں آٹے کا بحران جاری

  



ملتان‘مخدوم رشید‘ خانیوال‘ شاہ جمال‘ دائرہ دین پناہ‘ راجن پور (سپیشل رپورٹر‘ کورٹ رپورٹر‘ نمائندگان پاکستان) محکمہ خوراک نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مخدوم رشید میں کارروائی کرتے ہوئے مہنگے داموں آٹا فروخت کرنیوالی فلور مل کو سیل کردیا۔ جنوبی پنجاب کے دیگر(بقیہ نمبر7صفحہ12پر)

شہروں میں آٹے کا بحران بدستور برقرار ہے دوسری جانب مختلف سیل پوائنٹس پر شہریوں کا رش میں دیکھنے میں آرہا ہے تفصیل کے مطابق محکمہ خوراک کا ضلعی انتظامیہ کے افسران کے ہمراہ ناجائز منافع خوری میں ملوث فلور ملز کے خلاف کریک ڈاون،اس ضمن میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ملتان ملک ممتاز وینس نے اپنی ٹیم اے ایف سی سید ندیم عباس شاہ اور فوڈ گرین انسپکٹر چوہدری مزمل،اسسٹنٹ کمشنرصدر شہزاد محبوب کے ہمراہ گزشتہ روز سندھو فلور ملز پر چھاپہ مارا اورفلور ملز کے مالک چوہدری گلزار کو موقع پر گرفتار کر لیا جب کہ ڈپٹی کمشنر عامر خٹک خود بھی موقع پر پہنچ گئے۔ فلور مل مالک آٹابغیر ریکارڈ کے دکانداروں کو فروخت کر رہا تھا،جبکہ20 کلو گرام وزن کے آٹے کا تھیلا1160 میں فروخت کیا جارہا تھا۔انتظامیہ اور پولیس کو دیکھ کر مل کا منیجر بھاگ نکلا۔فلور مل کو سیل کر دیا گیااورفلور مل میں موجود 1837 آٹے کے تھیلے قبضے میں لے لئے گئے ہیں۔10 کلوگرام وزن کے1397 تھیلے مل میں موجود تھے جبکہ قبضہ میں لئے گئے بیگ میں 20 کلوگرام وزن کے 440 تھیلے بھی شامل تھے۔فلور ملز کا ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔اس موقع پرڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے محکمہ خوراک کو انکوائری کا حکم بھی دے دیا ہے۔ڈپٹی کمشنرعامر خٹک نے کہا ہے کہ گندم اور آٹے کی ہیراپھیری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث پورے مافیا کو بے نقاب کیا جائے گا، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھر پور ایکش کا حکم دے دیا گیا ہے، عامر خٹک نے مزیدکہا کہ ضلع کے 42 پرائس مجسٹریٹ کو فیلڈ میں اتار دیا گیا ہے، ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کا مال ضبط کرکے نیلام کر دیا جائے گا،قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہو سکتا۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک عامرخٹک آٹے کی مارکیٹ میں خودساختہ قلت بارے میڈیا رپورٹس پرگزشتہ روز خود میدان میں نکل پڑے۔انہوں خونی برج کے قریب واقع میراں فلور مل پر چھاپہ مارا اور اسے سیل کر دیا۔مل کو ذخیرہ اندوزی کرنے اور اوور چارجنگ پر سیل کیا گیا۔اے سی سٹی عابدہ فرید، اے صدر شہزاد محبوب اور ڈی ایف سی بھی ہمراہ تھے۔ ڈپٹی کمشنرعامر خٹک نے عوام الناس کی سہولت کے لیے میڈیا کو آٹے کے سیل پوائنٹس کی تفصیل جاری کردی ہے۔پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو جاری کء گء لسٹ میں 600 دوکانوں کی تفصیل شامل ہے۔ لسٹ میں دوکان کاایڈریس اورفراہم کئے جانے والے آٹے کے تھیلوں کی تعداد،آٹا فراہم کرنے والی فلور مل کا نام اور گندم کا سرکاری کوٹہ شامل ہے۔اس کے علاوہ فوکل پرسن کا نام اور موبائل نمبر بھی لسٹ میں درج ہے۔تحصیل ملتان سٹی میں 355 اور صدر میں 185 دوکانیں بطور سیل پوانٹس ڈیکلئر کی گء ہیں۔تمام دوکانوں سے 10 کلوگرام وزن کے آٹے کا تھیلا 402 روپے میں دستیاب ہو گا۔تحصیل شجاع آباد اور جلالپور پیروالا میں 60 دوکانیں سیلز پوائنٹ کے طور پر مقرر کی گء ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی ڈائریکٹر لائیوسٹاک نے بھی گوشت کی فراہمی کے حوالے پلان جاری کر دیا۔پلان میں ضلع بھر کے قصاب، انکے موبائل نمبر اور فوکل پرسنز کی تفصیل شامل ہے۔شہری آٹے کے سیلز پوائنٹس کی تفصیل ڈپٹی کمشنر ملتان کی فیس بک سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنرسٹی و ایڈمنسٹریٹر عابدہ فرید نے غلہ منڈی کا دورہ کیا اور ہول سیل ڈیلرز سے ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سٹاک رجسٹر کو اپ ڈیٹ رکھا جائے، مارکیٹ کے عملہ کو کسی بھی وقت اسٹاک رجسڑ چیک کرنے کی اجازت ہو گی، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس بارے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں،یسکیو1122 کے ذریعے دو مرتبہ جراثیم کش پانی کے ذریعے غلہ منڈی کو واش کیا گیا ہے، غلہ منڈی میں تھرمل سکینر کاونٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ڈیلرز نے انہیں بتایا کہ اشیائے ضروریہ کا غلہ منڈی میں وافر سٹاک موجود ہے، اشیائے ضروریہ کی دوسرے اضلاع اور صوبوں سے سپلائی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں،سبزی اور پھل بھی وافر مقدار میں سبزی منڈی پہنچ رہے ہیں اورتمام اشیائے ضروریہ کی سیل و پرچیز کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔دوسری طرفاسسٹنٹ کمشنرشجاع آباد مبین احسن بھی ان ایکشن رہے۔انہوں نے مہنگے داموں آٹا فروخت کرنیوالے کو موقع پر گرفتار کر لیااوردفعہ 144 کی خلاف و رزی پر بھی 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ کریانہ سٹورز چلانے والے تاجروں نے کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کا بھی بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کردیا خانیوال کے مین علاقے پرانا خانیوال اندرون، لاہور موڑ،پرانا کارخانہ، ہیبت کوٹ،بلال کالونی، چاہ نیازی والا، فضل ٹاؤن، چک نمبر19،چک 17سمیت دیگر علاقوں میں عوام کو کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے آٹے کے سیل پوائنٹس ختم کرکے کریا نہ سٹورز پر فراہمی کے ایک ہی دن بعد آٹا دکانداروں نے نایاب کردیا دکانداروں کی جانب سے بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت12سو روپے سے بھی زیادہ وصول کی جانے لگی جبکہ دس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت470روپے تک وصول کی جارہی ہے کریا سٹورز مالکان کی جانب سے اپنی دکانوں کی بجائے نزدیکی گوداموں میں آٹے کے تھیلے رکھے جارہے ہیں اور صرف ایسے ہی گاہکوں کو آٹا فراہم کیا جارہا ہے جو کریانہ کی دیگر اشیاء کی خریداری کرکے اس کے ساتھ آٹا خریدلیں صرف آٹا خریدنے کیلئے آنیوالوں کو کریانہ کی دکانوں سے آٹا نہ ہونے کا بتاکر واپس بھجوایا جارہا ہے دوسری جانب آٹا چکیوں پر بھی کوٹہ بند ہونے کا بتاکر 65روپے فی کلو تک فروخت کئے جانے سے عوام کی جیبیں کاٹی جارہی ہیں علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سخت پابندی کے باوجود آٹا سیل پوائنٹس اورمفت کھانا تقسیم کی جگہوں عوام کا رش۔کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیئے حکومت پنجاب نے دو سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر کے قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیکر گرفتاری کے احکامات دیئے ہوئے ہیں با وجود اس کے چوک ملا نوالا کے مقام پر آٹا سیل پوائنٹ اور چوک احمد موہانہ کے مقام پر مفت کھانا تقسیم کئیے جانے کی جگہ پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلے نہ رہنے کی وجہ سے شاید افراتفری کی فضاء نہ پیدا ہو جائے شہریوں محمد رفیع اللہ،محمد واجد،عمران احمد،محمد عمر،دیگر نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئیکہا کہ اسطرح کی صورتحال سے وائرس کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہونے کا خطرہ صورتحال کے بر وقت ادراک نہ ہونے اور بڑھتی بے روزگاری کی وجہ سے افرا تفری پھیلنے کا اندیشہ ہے ارباب اختیار منظم میکنزم بنائیں۔ دائرہ دین پناہ میں میڈیا کے نمائندوں نے دالیں،گھی،چینی،آٹا وغیرہ کے ریٹ بڑھنے پر مقامی دوکانداروں سعید احمد،محمد رمضان،،ظفراقبال،رحیم بخش،ریاض حسین نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں اور آڑھتیوں نے چینی کے کٹے کے ریٹ 300 روپے۔،دالیں 500 سے 800 تک فی کٹا،گھی 100 روپے فی پیٹی،مرچ200 روپے فی کلو ریٹ بڑھا دیئے ہیں جس کی وجہ سے حکومتی ریٹ لسٹ پر بیچنے سے قاصر اور مہنگے داموں خرید کر کم ریٹ پر کیسے بیچ سکتے ہیں اسی طرح آٹا فروخت کرنے والوں نے 25کلو تھیلی 1380 روپے بیچ رہے ہیں جبکہ حکومتی ریٹ 1610 فی من آٹا ریٹ ہے اسی طرح آٹاچکی مالکان نے بھی غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے آٹا فی من2000 روپے فروخت کر رہے ہیں اس مصیبت کی گھڑی میں ذخیرہ اندوزوں اور آڑھتیوں نے ریٹ بڑھا کر غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا رہے ہیں شہریوں و عوامی سماجی حلقوں کا گورنر،وزیر اعلیٰ پنجاب،کمشنر ڈیرہ غازی خان،ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غریب عوام کو حکومتی ریٹ لسٹ پر اشیاء خوردنوش مل سکے۔ کورو ناوائرس کے باعث لاک ڈاؤن پر ناجائز منافع خوروں کی چاندی، چینی، آٹا،دالیں،لال مرچ سمیت اشیاء کے نرخ

خودساختہ بڑھا دیئے، منافع خور تاجر وں نے وزیراعظم عمران خان کی اپیل بھی مسترد کردی، شہری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں پر سراپاء احتجاج، ڈپٹی کمشنر سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس پر مشتمل ٹیموں کو شہری ودیہاتی علاقوں میں بھیج کر اشیاء کی کنٹرول نرخوں پر فروخت کویقینی بنا نے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق راجن پور شہر کے علاوہ نزدیکی قصبات جاگیر گبول،کوٹلہ نصیر، کوٹلہ عیسن، کوٹلہ گانموں، کوٹلہ مالیم، عاقل پور،فتح پور اور دیگر شہروں فاضل پور،حاجی پور میں تو تاجروں نے کئی گناء نرخ بڑھا کر خودساختہ قیمتیں مقرر کرلیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے کا تھیلا ایک ہزار سے 12 سوروپے،چینی 80سے 90 روپے فی کلو،دال مونگ 2 سوروپے کلو،پسی ہوئی لال مرچ ساڑھے 4 سوروپے فی کلوفروخت کی جارہی ہے جس سے شہریوں کا ماہا نہ گھریلو بجٹ شدید طور پر متاثر ہورہا ہے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر راجن پورسے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کوفعال کر نے کا مطا لبہ کیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر