مقبوضہ کشمیر میں زندگی کو قید ہوئے آج 236واں روز، آئے دن مشکلات میں اضافہ

مقبوضہ کشمیر میں زندگی کو قید ہوئے آج 236واں روز، آئے دن مشکلات میں اضافہ

  



 سرینگر(آئی این پی) مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کے مظالم جاری ہیں، وادی میں کرفیواورلاک ڈاؤن 236ویں روزمیں داخل ہو گیاہے۔مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیرانسانی لاک ڈاون اور مواصلاتی بندش کے باعث مسلسل 236 ویں رو ز بھی معمولات زندگی بدستور مفلوج ہیں۔ سڑکیں سنسان، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔قا بض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے گزشتہ ماہ 10 کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ بھارتی کابینہ نے کشمیر میں آبادکاری ایکٹ سمیت 37 قوانین کے نفاذکی منظوری بھی دیدی ہے، مودی سرکار نے علاقوں کے نام بھی تبدیل کرناشروع کردئیے۔ وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن اورپکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے۔ 8 لاکھ سے زائد کشمیریوں کوسخت پریشانیوں کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اب تک لگ بھگ 894 بچے شہید جبکہ 177 ہزار سے زائد یتیم ہوچکے ہیں۔ ہزاروں کشمیریوں سمیت مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت بھی جیلوں میں بند ہے۔وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔ دوسری جانب مودی سرکار کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہے کشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے۔واضح رہے 5 اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔یکم نومبر سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر

اسلام آباد (این این آئی)کرونا وائرس کے پھیلاؤکے خدشات کے پیش نظر پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی دینے کا مطالبہ کر دیا۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں صورتحال پر سخت تشویش ہے،مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلا ؤ کے خدشات کے پیش نظر شہریوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی دی جائے اور بھارتی حکومت فوری کمیونیکیشن لاک ڈاؤن ختم کرے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ دفتر خارجہ میں ایمرجنسی سنٹر مسلسل قائم کر رہا ہے،کرائسز مینجمنٹ سیل دفتر خارجہ تمام پاکستانی مشنز سے رابطے میں ہے جبکہ دنیا بھر میں مختلف ایئرپورٹس پر پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لئے پاکستانی مشن کام کر رہے ہیں،سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کے علاوہ بنکاک سے پاکستانی واپس لائے گئے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطوں کے حوالے سے بتایا کہ وزیرخارجہ نے ایران، مالدیپ، جرمنی، سپین ترکی کے سمیت مختلف وزرائے خارجہ سے فون پر رابطے کئے ہیں،وزیرخارجہ نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا،فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے بات چیت میں وزیرخارجہ نے ایران پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا،ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کرونا وائرس سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو چیلنج کا سامنا ہے،وزیرخارجہ نے سارک وزرا صحت کی جلد ویڈیو کانفرنس پر زور دیا ہے۔

دفتر خارجہ

مزید : ملتان صفحہ آخر /صفحہ آخر