جان لیوا وباء کی صورت میں نماز گھر میں ادا ہو سکتی ہے، طاہرالقادری

جان لیوا وباء کی صورت میں نماز گھر میں ادا ہو سکتی ہے، طاہرالقادری

  



لاہور(خصوصی رپورٹ)قائد تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے باجماعت نماز جمعہ کی ادائیگی کے احکامات کے موضوع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا وباء اور قدرتی آفت کی وجہ سے جب انسانی جان کیلئے خطرات پیدا ہو جائیں تو میل ملاپ ترک کر دینا، فاصلے رکھنا اور خود کو محصور کر لینا نبوی تعلیمات کے عین مطابق ہے، نماز گھروں میں ادا کرنے کا حکم ہے، حضور نبی اکرم ؐ نے ایک موقع پر شدید بارش کی وجہ سے نمازیوں کو گھروں میں نماز کی ادائیگی کی تلقین کی اور اذان میں ”نماز کیلئے آؤ“ کے الفاظ کو نماز گھر اور جہاں ہو ادا کرنے کے الفاظ شامل کروائے، جس دین محمدیؐ کی تعلیمات میں نمازیوں کا کیچڑ میں لت پت ہونا یا گرنا گوارہ نہیں کیا گیا،وہاں انسانی جان کے خطرے کے پیش نظر ریلیف پر مبنی رہنمائی مہیا کیسے نہیں ہوسکتی۔ حدیث نبویؐ ہے کہ وباء کی صورت میں ایک دوسرے سے فاصلہ رکھو اور ایک نیزے جتنے فاصلے کا حکم دیا گیا،(نیزہ 6 تا 8 فٹ ہوتا ہے۔ طاعون کی وباء پر حدیث نبوی ؐہے جو جہاں ہے وہ وہیں خود کو محصور کر لے، سفر اور صحتمند لوگوں سے روابط ختم کر دے،صبر اور توکل کیساتھ اس تکلیف کو گوارہ کر لے، اسی میں اجر اور صحت ہے۔یہ بھی فرمایا اگر وبائی بیماری کے دوران کسی کی موت بھی واقع ہو جائے تووہ شہادت کا مرتبہ ہے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے ایک اور معتدل راستہ بھی موجود ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا فتوی ہے اگر امام کے علاوہ تین مقتدی ہوں تو نماز جمعہ ادا ہو جاتی ہے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے موذن، امام کے علاوہ دو اور لوگوں کو مسجد میں جانے کی اجازت دیدی جائے تو فرض ادا ہو جائے گااس کیلئے سپیکر میں اذان دینا بھی ضروری نہیں۔ اسلام نے 14سو سال قبل انسانیت کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کی، حکمتوں کو دریافت کرنا ہمارا کام ہے۔ جن طبی احتیاطوں کے حوالے سے کریم آقاؐ نے 14سو سال قبل گائیڈ لائن مہیا کی تھی،آج جدید طبی سائنس اس کی ضرورت و اہمیت کو تسلیم کررہی ہے اور اس کی توثیق کر رہی ہے۔

مزید : صفحہ آخر