پارلیمانی رہنماؤں کی مشاورتی کانفرنس

پارلیمانی رہنماؤں کی مشاورتی کانفرنس

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی جنگ کوئی حکومت نہیں صرف قوم لڑ سکتی ہے، وائرس کے خلاف کامیابی میں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے شامل ہوں گے اور مل کر ہی یہ جنگ جیتنا ہو گی،سیاسی قیادت کی رائے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں، سیاسی قائدین کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا پہیہ روکنے والے لاک ڈاؤن پر دوبارہ غور کرنا ہو گا۔سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے صوبائی سطح پر مختلف قسم کا لاک ڈاؤن کیا ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ صوبوں کا اختیار ہے،خوف اور گھبراہٹ میں کئے گئے فیصلوں کے مثبت نتائج نہیں آتے،ہم نے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کا درست فیصلہ کیا تھا،چین سے کورونا کا ایک بھی کیس پاکستان نہیں آیا۔یہ اُن زائرین کے راستے آیا جو ایران گئے ہوئے تھے، وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار پارلیمانی رہنماؤں کی کانفرنس سے وڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کیا۔

وزیراعظم نے اپنا خطاب ختم کیا تو آف لائن ہو گئے،کانفرنس میں شریک پارلیمانی رہنماؤں کا اُن سے کوئی رابطہ نہ رہا تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اُن کا یہ انداز پسند نہیں کیا اور کانفرنس سے واک آؤٹ کر گئے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اِس اجلاس میں بیٹھنا تک گوارہ نہیں کیا،حالانکہ پاکستان کو تاریخ کی سب سے بڑی وبا کا سامنا ہے۔اگر وزیراعظم کی سنجیدگی یہ ہے تو ہم اجلاس میں نہیں بیٹھیں گے،کیا وزیراعظم کو اتنا بھی احساس نہیں کہ یہ مشاورتی اجلاس ہے اور ہم سوچنے بیٹھے ہیں کہ مل کر قوم کو کیسے بچائیں، ہم یہاں سیاست کرنے تو نہیں آئے۔شہباز شریف نے بعد میں ایک ٹویٹ میں بھی کہا لگتا ہے وزیراعظم اپوزیشن کی بات نہیں سننا چاہتے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی واک آؤٹ کے بعد وڈیو لنک پریس کانفرنس سے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کورونا کے خلاف اقدامات کریں، وزیراعظم اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے وڈیو لنک خطاب میں اپوزیشن کی تجاویز کے خیر مقدم کی بات کی، لیکن وہ یہ تجاویز سامنے آنے سے پہلے ہی خود آف لائن ہو گئے،اپوزیشن رہنما نے اس کا یہ مطلب لیا کہ وزیراعظم اپنی بات کہہ کر رخصت ہو گئے ہیں،جس پر انہوں نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا اور یوں ایک اہم مشاورتی اجلاس بظاہر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ وزیراعظم اگر آن لائن موجود رہتے تو کیا یہ مشاورتی اجلاس کسی نتیجے پر پہنچ پاتا،لیکن یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کرتی اور جب کبھی ایسی کسی مشاورتی مجلس کا اہتمام کیا جاتا ہے تو لگتا ہے کہ مارے باندھے کا تکلف کیا جا رہا ہے ورنہ حکومت، اپوزیشن کے ساتھ فاصلہ رکھنے ہی کی کوشش کرتی ہے ایسی نیم دلانہ مشاورتوں سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے،ویسے بہتر تھا کہ وزیراعظم اس مشاورتی اجلاس میں خود تشریف لاتے تاکہ اپوزیشن لیڈروں کو احساس ہوتا کہ کوئی اُن کی باتیں سننے میں سنجیدہ ہے اور مشاورتی اجلاس بُلا کر محض گونگلوؤں سے مٹی نہیں جھاڑی جا رہی،لیکن گر کسی وجہ سے وہ بنفس ِ نفیس اجلاس میں نہیں آ سکتے تھے تو کم از کم آن لائن موجود رہتے،لیکن انہوں نے اس تکلف کی بھی ضرورت محسوس نہ کی، ایسے مشاورتی اجلاس کا کیا فائدہ؟

وزیراعظم نے یہ تو بالکل درست کہا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ حکومت نہیں، قوم جیت سکتی ہے،لیکن قوم کو متحد کرنے کی ذمہ داری بھی تو حکومت پر عائد ہوتی ہے، اس وقت عمران خان کی قیادت میں کئی جماعتوں کی،جو مخلوط حکومت قائم ہے اس کا اپنا حال یہ ہے کہ کبھی ایک جماعت کو شکایت پیدا ہوتی ہے اور کبھی دوسری کو،ایک اتحادی جماعت تو کئی ماہ کی ناراضی کے بعد اب کہیں جا کر دوبارہ شامل ِ حکومت ہونے پرراضی ہوئی ہے۔اس دوران اتنی پیش رفت ہوئی کہ اس جماعت کے ایک مزید وزیر کو شامل ِ حکومت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اگر اتنی سی بات تھی تو یہ پہلے بھی ہو سکتی تھی،لیکن اس جماعت نے بڑے بڑے مطالبے کر کے بالآخر نسبتاً ایک چھوٹے معاملے پر بات ختم کر دی۔اسی طرح باقی اتحادی جماعتوں کو کبھی کبھار شکایت پیدا ہوتی رہتی ہے،لیکن وہ کبھی حکومتی منصب چھوڑ کر باہر نہیں نکلیں۔

پارلیمینٹ کے دو ایوانوں کی پوزیشن یہ ہے کہ ایوانِ بالا میں تو حکومت اقلیت میں ہے اور کوئی بھی بل اپوزیشن کے تعاون کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا،قومی اسمبلی میں بھی حلیف جماعتوں کا تعاون نہ ہو تو حکومت کوئی بل منظور نہیں کرا سکتی، اس لحاظ سے یہ حکومت مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہے۔ البتہ اس کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی متحد نہیں ہیں اور کبھی کبھار اگر ان میں اتحاد نظر آتا ہے تو یہ بھی وقتی ثابت ہوتا ہے،جس کا سب سے بڑا مظہر سینیٹ میں اُس وقت دیکھا گیا جب چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی،حالانکہ نمبر گیم اپوزیشن کے حق میں تھی اور اپوزیشن جماعتوں کو واضح برتری حاصل تھی،لیکن وہ اپنی ایک تحریک بھی کامیاب نہ کرا سکیں اس ناکامی کا فائدہ بہرحال حکومت ہی کو ہوا۔

جہاں تک قومی اسمبلی کا تعلق ہے حکومت کا اپوزیشن کے متعلق رویہ شروع ہی سے جارحانہ رہا، ہر اجلاس میں وزراء اور اپوزیشن کے بعض ارکان کی تو تکار دیکھنے میں آئی،وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ وہ وقفہ سوالات میں ہر ہفتے سوالوں کا جواب دیا کریں گے،لیکن اس کے بعد وہ اسمبلی کے اجلاس میں کم کم ہی دیکھے گئے۔شہباز شریف کو پہلے تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے سے صاف انکار کر دیا گیا،لیکن جب اپوزیشن جماعتوں نے سخت طرزِ عمل اختیار کیا تو بعد از خرابی ئ بسیار یہ مطالبہ ماننا پڑا،اب تو شہباز شریف خود ہی یہ عہدہ چھوڑ چکے ہیں،لیکن بطور قائد حزبِ اختلاف بھی اُن کے کردار کو دِل سے تسلیم نہیں کیا جا رہا،جہاں جہاں آئین میں قائد حزبِ اختلاف سے مشاورت کی پابندی ہے اسے بھی بس طوعاً و کرہاً ہی نبھایا جا رہا ہے، سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کے معاملے نے اسی مشاورت کے مسئلے پر ہی طول کھینچا اور جب چیف الیکشن کمشنر نے صدر کے نامزد کردہ ارکان کا حلف لینے سے انکار کر دیا اور اعلیٰ عدالتوں نے بھی بار بار ہدایت کی کہ یہ معاملہ پارلیمینٹ ہی میں حل کیا جائے، تب کہیں جا کر یہ مسئلہ حل ہوا، اور الیکشن کمیشن تشکیل پایا۔یہ سب کچھ اسی لئے ہوتا رہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ معمول کی ورکنگ ریلیشن شپ بھی قائم نہیں رکھ رہی، ایسے میں قوم کو متحد کرنے کا خواب کیسے شرمندہئ تعبیر ہو گا؟

مزید : رائے /اداریہ