کورونا اور کرفیو، دونوں خطرناک؟

کورونا اور کرفیو، دونوں خطرناک؟
کورونا اور کرفیو، دونوں خطرناک؟

  



اس وقت ملک میں کرفیو لگانے کے لئے جس شخص پر سب سے زیادہ دباؤ ہے، وہ کوئی اور نہیں وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ وہ ہیں کہ مسلسل اس دباؤ کو برداشت کئے جا رہے ہیں، ٹال رہے ہیں لکین دباؤ ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے کیونکہ کرونا وائرس کے کیسز بڑھتے جا رہے ہیں یوں تو پورا ملک لاک ڈاؤن ہے تاہم رضا کارانہ طور پر لوگ گھروں میں نہیں بیٹھ رہے۔ ہر شہر میں کچھ ایسے علاقے ضرور ہیں جہاں عوام کی آزادانہ نقل و حمل جاریہ ے اور باہمی اختلاط کی وجہ سے وہ مقصد حل نہیں ہو پا رہا جو لاک ڈاؤن سے درکار ہے۔ اب 22 کروڑ انسانوں کو ایک حکم کے ذریعے بزور طاقت گھروں میں مقید کر دینا کوئی آسان کام نہیں بالغرض فوج اور پولیس کے ذریعے ایسا کر بھی لیا جاتا ہے تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ یہ وہ سوال ہے جو وزیر اعظم عمران خان بھی بار بار پوچھتے ہیں۔ یہ معاملہ زندہ انسانوں کا ہے، جنہوں نے زندہ رہنے کے لئے اپنی ضروریات بھی پوری کرنی ہیں۔ اب تک کے شواہد کے مطابق دنیا کے کسی ملک میں کرونا وائرس سے بچنے کے لئے طویل کرفیو کا آپشن استعمال نہیں کیا گیا البتہ سختی ضرور کی گئی ہے کہ لوگ بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں، پیرس، روم، نیو یارک، ریاض، میونخ اور دیگر عالمی شہروں کی سڑکیں ویران ضرور ہیں مگر کرفیو کا باضابطہ نفاذ نہیں کیا گیا۔ اس کے پچیھے گویا منطق یہ ہے کہ کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو خوراک اور ادویات کے جو مسائل پیش آ سکتے ہیں، ان سے بچا جائے۔ کوئی حکومت بھی اتنی بڑی آبادی کو گھروں میں بٹھا کر ان کی خوراک بہم نہیں پہنچا سکتی، اس لئے ہر جگہ سبزی، پھل، کریانے اور ادویات کی دکانوں کو کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترقی یافتہ ممالک کے عوام چونکہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں، اس لئے حکومت کے احکامات کی پابندی بھی کرتے ہیں، کیونکہ یہ بات انہیں اچھی طرح سمجھ آ چکی ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ ان کے مفاد میں ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ لوگ ابھی تک کرونا وائرس کو ایک مذاق سمجھ رہے ہیں۔ وہ اسے کبھی امریکہ کی سازش قرار دیتے ہیں اور کبھی یہ الزام لگاتے ہیں کہ حکومت صرف غیر ملکی امداد ہڑپ کرنے کے لئے یہ ڈرامہ کر رہی ہے۔ انہیں اس بات کی ذرا پروا نہیں کہ دنیا میں 20 ہزار سے زائد افراد کرونا وائرس کی وجہ سے لقمہئ اجل بن چکے ہیں اور متاثرین کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، انہیں اس بات کی بھی کوئی پرا نہیں کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہ وقت بھی آ سکتا ہے جب کرونا وائرس کے مریضوں کو ہسپتالوں میں رکھنے کے لئے جگہ تک موجود نہ ہو۔ پولیس اور انتظامیہ ڈنڈا لے کر عوام کے پیچھے پڑی ہے کہ وہ احتیاط کریں، گھروں میں رہیں، صرف اشد ضرورت کے وقت باہر نکلیں مگر یہاں تو لوگ عام دنوں سے بھی زیادہ تعداد میں باہر نکل آتے ہیں بغیر کسی کام کے بازاروں اور گلی محلوں میں گھومتے ہیں ایسا تو اب دنیا میں کہیں بھی نہیں ہو رہا، جیسا ہم کئے جا رہے ہیں اس سے ظاہر ہے منفی نتائج برآمد ہو رہے ہیں پہلے جو کیسز صرف باہر سے آنے والوں تک محدود تھے اب مقامی افراد کی کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی اطلاعات بھی روزانہ آ رہی ہیں۔ اس طرح تو خطرہ بڑھتا جائے گا اور یہ سلسلہ نجانے کہاں جا کے رکے گا، سندھ حکومت نے تقریباً کرفیو جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے مگر پھر بھی چونکہ باقاعدہ کرفیو نافذ نہیں کیا ہے، اس لئے سڑکوں پر آمد و رفت بھی جاری ہے اور عوام جہاں موقع ملتا ہے بڑی تعداد میں دھما چوکڑی جمانے نکل آتے ہیں وزیر اعظم عمران خان نے بالکل صحیح کہا ہے کہ کرونا سے حکومت نہیں صرف قوم لڑ سکتی ہے۔ حکومت کوئی ایسا قدم بھی نہیں اٹھا سکتی جس سے حکومت اور عوام آمنے سامنے آ کھڑے ہوں۔ ایسا عین ممکن ہے اگر عوام کو کرفیو لگا کر گھروں میں بند کر دیا گیا اور ان کے کھانے پینے کی ضروریات پوری نہ کی گئیں تو وہ جگہ جگہ کرفیو توڑ کر باہر آ جائیں گے۔ اس صورت میں انہیں کون سنبھالے گا۔

کرنے کا اہم کام تو یہ ہے کہ ہر علاقے اور محلے کے سر کردہ افراد اکٹھے ہوں، انتظامی کمیٹیاں بنائیں اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کریں۔ اشیائے خورونوش کی دکانیں کھلی رہنی چاہئیں تاہم گھر کا کوئی ایک فرد خریداری کرے اور باقی گھر میں رہیں۔ اگر ملک میں بلدیاتی نظام موجود ہوتا تو علاقے کے کونسلرز اس کام کا بیڑہ اٹھا سکتے تھے۔ وہ نہیں ہیں تو ارکان اسمبلی کو دلچسپی لے کر ہر وارڈ یا یونین کونسل کی سطح پر انتظامی کمیٹیاں بنانی چاہئیں وزیر اعظم عمران خان جس رضا کارانہ فورس کی بات کر رہے ہیں وہ اسی طرح تشکیل پا سکتی ہے۔ اس کا کام یہ ہو کہ اپنے علاقے میں لوگوں کی غیر ضروری نقل و حرکت اور کسی جگہ اکھٹے ہونے کو روکیں اور اس کے ساتھ ساتھ ضرورت مندوں کی امداد بھی کریں، جو حکومت کی طرف سے فراہم کی جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کا جو پہلا اجلاس ہوا وہ بدقسمتی سے انتشار کی نذر ہو گیا۔ وزیر اعظم عمران خان اگر اپنی بات کر کے چلے گئے تھے تو اسے ایشو بنانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کسی اجلاس سے اٹھ کر نہیں گئے تھے۔ ویڈیو لنک پر کانفرنس تو جاری رہنی چاہئے تھی کیونکہ پوری قوم اسے دیکھ رہی تھی۔ ایسے مواعق پر سیاست یا انا پرستی کی بجائے قومی سوچ اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت جو اختلاف سامنے آ رہا ہے وہ یہی ہے کہ وزیر اعظم کرفیو نہیں لگانا چاہتے جبکہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ حکومت کی یہی کمزور اور نیم دلانہ اقدامات کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں اس معاملے پر پوائنٹ سکورنگ کی بجائے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر کوئی فیصلہ ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں ایک پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی جا سکتی ہے، جس میں فوج، سول انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کے نمائندے بھی موجود ہوں، جو تمام نکات کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے تاکہ کرفیو کی صورت میں نتائج کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم پر نہ آئے۔

کوئی بھی کرفیو 24 یا زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹوں سے زیادہ پر محیط نہیں ہوتا۔ درمیان میں وقفہ دینا پڑتا ہے تاکہ لوگ اپنی ضروریات کی اشیاء خرید سکیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ سوال بڑا یا معانی ہے کہ جب کرفیو کا وقفہ دیں گے اور لوگ لمبی لمبی قطاروں میں اشیاء خریدیں گے تو اصل مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ اس صورت میں تو کرونا وائرس بڑھنے کے مواقع زیادہ ہو جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ 22 کروڑ لوگوں کو ان کے گھروں میں اشیائے فراہم کی جائیں۔ یہ بذاتِ خود ایک نا ممکن بات ہے کیونکہ نہ تو حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں اور نہ ہی کوئی طریقہئ کار کہ جس کے ذریعے غیر معینہ مدت تک یہ کام کیا جا سکے۔ کرفیو کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا پہیہ بھی روکنا پڑے گا۔ جس سے اشیاء کی ترسیل بھی رک جائے گیا ور ایک بہت بڑا غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ صورت حال بہت پیچدہ ہے۔ اتنی آسان نہیں کہ پورے ملک میں کرفیو لگانے کا اعلان کر دیا جائے اور مسئلہ حل ہو جائے۔ چادر چھوٹی اور پاؤں بڑے ہوں تو فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں اس وقت تقریباً 80 فیصد آبادی گھروں تک محدود ہو چکی ہے۔ صرف بیس فیصد ہیں جو حالات کی سنگینی کو سمجھ نہیں پا رہے یا ان کی ضروریات انہیں گھروں میں نہیں بیٹھنے دے رہیں صرف انہیں ہدف بنانے کی ضرورت ہے، یہ کام قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیاسی و سماجی شخصیات پورا زور لگائیں تو آسانی سے کر سکتی ہیں دنیا کی طرح ہمیں بھی کرونا وائرس کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، بڑے فیصلے بڑی سوچ و بچار کے بعد ہی ہونے چاہئیں۔

مزید : رائے /کالم