کورونا کی و باء، علماء کا رویہ اور علامہ ابو الحسنات کی یاد

کورونا کی و باء، علماء کا رویہ اور علامہ ابو الحسنات کی یاد
کورونا کی و باء، علماء کا رویہ اور علامہ ابو الحسنات کی یاد

  



کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،یورپ اور امریکہ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔اگرچہ یہ وباء چین سے پھوٹی، تاہم وہاں اس پر قابو پا لیا گیا اور عام زندگی لوٹنا شروع ہو گئی ہے، جبکہ دُنیا کے دیگر ممالک میں تیزی آ رہی ہے۔ اب تو امریکہ بھی بُری طرح متاثر ہونا شروع ہو چکا، پاکستانی شاید خوش قسمت تھے کہ یہاں اِکا دُکا مریض ہوئے تاہم بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی،کے مصداق بیرون ملک سے آنے والے حضرات کی وجہ سے یہاں بھی یہ وائرس داخل ہو گیا اور اب پھیلتا بھی جا رہا ہے،روز بروز تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔سلسلہ کراچی سے شروع ہوا تو دوسرے شہروں تک بھی پھیلتا چلا گیا۔لاہوریئے شاید زیادہ مطمئن تھے کہ یہاں سے اطلاع نہیں ملی تھی، لیکن اب حالات مختلف ہو گئے،یہاں بھی مریضوں کی تعداد بڑھ گئی اور قریباً80افراد زیر علاج ہیں۔لاہور والے دو روز پہلے تک مذاق اڑا رہے تھے،مگر اب ان کو بھی توجہ دینا پڑی ہے۔

آج جب یہ سطور پڑھی جا رہی ہیں تو جمعتہ المبارک کا روز ہے۔مساجد میں اذانیں بھی ہوں گی اور نمازیں بھی ادا کی جائیں گی،اس سلسلے میں بھی ہم روایتی مخمصے کا شکار ہوئے اور ہمارے علمائے کرام ایک فیصلے پر نہیں پہنچے،چنانچہ بعض مساجد میں تو مختصر دورانیہ ہو گا،تاہم کئی مساجد میں پوری نماز کی ادائیگی ہو گی۔اکثر مساجد کی انظامیہ نے قالین یادریاں اٹھوا کر فرش صاف کرائے ہیں، تاہم بعض مساجد کے خطیب اور مہتمم حضرات نے اس پر بھی عمل نہیں کیا اور معمول ہی کو برقرار رکھا ہے۔ایسا دراصل اِس لئے ہوا کہ ہمارے محترم علمائے کرام نے روایت برقرار رکھی ہے اور اس حوالے سے بھی اختلاف کیا، حتیٰ کہ دو روز قبل صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی درخواست پر جامع الازہر (مصر) نے فتویٰ بھی دیا کہ مسلمان ممالک کی حکومت ایسی وباء کی موجودگی میں نمازِ جمعہ کے اجتماع ساقط کرنے کا اختیار رکھتی ہے،اس حوالے سے گورنر ہاؤس(سندھ) میں تمام مسالک کے علمائے کرام کا اکٹھ اور پھر پریس کانفرنس ہوئی۔

حضرت علامہ منیب الرحمن اور مولانا تقی عثمانی کا نقطہ نظر ہے کہ مساجد میں بوڑھے اور بچے نہ آئیں۔قالین اٹھوا دیئے جائیں اور صفائی کے بعد جراثیم کش ادویات بھی چھڑکی جائیں اور جمعہ کی نماز باجماعت ہی کرائی جائے،جبکہ اکثر علماء خصوصاً علماء کونسل والوں نے حکومت کے موقف سے اتفاق کیا اور نمازِ جمعہ نہ کرانے کے حق میں فیصلہ دیا۔ یوں اختلافی رائے قائم ہے۔انہی حالات میں ہمیں یادِ ماضی نے گھیرا اور وہ زمانہ یاد آیا،جب ایسے اہم اور قومی امور پر تمام مسالک کے علمائے کرام اتفاق رائے پیدا کر لیتے تھے۔یہ اتفاق ہے کہ آج (2۔شعبان) اور جمعہ ہے۔ یہ دن او رتاریخ ہمارے بزرگ حضرت علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری کا یوم وفات ہے اور وہ ہمیں یاد بھی آ رہے ہیں، کہ ہم ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہر سال ان سطور کو ان سے موسم کرتے چلے آ رہے ہیں۔علامہ ابو الحسنات وہ بزرگ تھے،جن کی ذات پر تمام مسالک والوں نے زبردست اعتماد کا اظہار کیا اور جب مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی گئی تو متفقہ طور پر ان کو صدر چُن لیا گیا اور جب تک وہ حیات رہے۔ یہ اعزاز انہی کے پاس رہا اور انہی کی صدارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے1953ء میں ختم نبوت کا مطالبہ منوانے کے لئے تحریک چلائی۔ ہمیں یاد ہے ذرا ذرا کے مطابق علامہ ابو الحسنات بہت بھاری بھر کم شخصیت کے حامل تھے اور ان کو بہت احترام سے دیکھا جاتا تھا،ان کی رائے بھی مقدم جانی جاتی۔خود بھی نرم اور خوش گفتار اور بہت ہی اعتدال پسند تھے۔ دھیمے اور میٹھے لہجے میں بات کرتے اور دلیل سے مخاطب کو مناتے تھے۔ آج اگر وہ ہوتے تو یقینا یہ صورتِ حال پیدا نہ ہوتی اور قرآن و سنت کی روشنی میں درست فیصلہ کرتے اور پھر اس پر ڈٹ بھی جاتے،لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے تو وہ یاد بھی آ رہے ہیں۔

علامہ ابو الحسنات الور شریف سے آنے والے عالم باعمل حضرات دلدار علی شاہ کے صاحبزادے تھے اور والد کی وفات کے بعد جامع مسجد وزیر خان کے خطیب ہوئے تھے۔وہ نہ صرف بہترین واعظ اور حافظ قرآن تھے، بلکہ نہایت ہی سلجھے ہوئے انسان تھے، جو دلیل سے بات کرتے اور دلیل ہی سنتے تھی تھے۔ ان کو حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کی تصنیف کشف المحجوب کے اُردو ترجمے کا بھی شرف حاصل ہے، جسے ڈائریکٹر جنرل اوقاف پنجاب طاہر بخاری کی مخلصانہ محنت کے ساتھ محکمہ اوقاف نے شائع کیا۔علامہ ابو الحسنات مخلص اور بے ریا شخصیت تھے، جو چھوٹے بڑوں کے ساتھ پیار اور خلوص کے رشتے میں منسلک تھے۔انہوں نے درسِ قرآن سے بے شمار لاتعلق سے حضرات کو دین کی طرف مائل کیا،وہ بین المسالک رواداری اور آپس میں بھائی چارے کے قائل اور اس پر عمل پیرا بھی رہے۔مختلف مسائل کے حوالے سے ان کی تشریح سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کی تفسیر قرآن جو تفسیر الحسنات کے نام سے شائع ہوئی۔ بہت پسند کی گئی۔آج جمعیت علمائے پاکستان ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔علامہ ابو الحسنات اس کے بانی اور صدر ہیں،ان کی زندگی میں جماعت متحد رہی اور کوئی اختلاف نہ ہوا تھا۔ یقینا ان کی وفات اہل سنت و الجماعت کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوئی، ایسی شخصیات تاریخ میں خال خال ملتی ہیں۔ آج کے دور میں وہ ہوتے تو نہ صرف کوئی کنفیوژن نہ ہوتا، بلکہ توبہ کا سلسلہ بھی ہو جاتا اور اللہ تعالیٰ سے رحمت اور رحم کی دُعا بھی ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

مزید : رائے /کالم