میر صحافت کی گرفتاری

میر صحافت کی گرفتاری
میر صحافت کی گرفتاری

  



پوری دنیا میں کورونا جیسے موذی وائرس نے موت کے سائے پھیلا رکھے ہیں اور ان حالات میں بھی ہمارے ہاں دھرنا پارٹی اپنے 2014ء والے ایجنڈے کے تحت دندناتی پھر رہی ہے۔ اس دھرنے کے یوں تو کئی مقاصد تھے، بعض اندرونی اور کچھ بیرونی، بڑے اہداف میں جمہوریت، جوڈیشری اور جرنلزم کا مکو ٹھپنا تھا، بنیادی طور پر اختلافی آوازوں سے پاک ملک بنا کر چین، سعودی عرب اور شمالی کوریا کی طرح مختصر رولنگ ایلیٹ کا کنٹرول ہمیشہ کے لیے مضبوط بنانا تھا۔ اس پلان پر کام کرتے ہوئے پہلے منتخب سول حکومت کا چلنا ناممکن بنادیا گیا، آئے روز ریاستی سپانسرڈ احتجاج، کنٹرولڈ میڈیا سے گھٹیا پروپیگنڈا، کٹھ پتلی ججوں کا استعمال بہت بھونڈے طریقے سے کیا گیا۔ الیکشن 2018 ء سر پر آئے تو اندازہ ہوا کہ تمام حربوں کے باوجود جیت کا کوئی امکان نہیں۔ پھر اندھادھند طاقت استعمال کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ روند کر من چاہی پی ٹی آئی حکومت بنائی گئی۔

آج یہ عالم ہے کہ دو سال گزر جانے کے بعد نئی حکومت کی، جمہوریت کے خاتمے، عدلیہ کو مکمل طور پر باندی بنانے اور آزاد میڈیا کی گردن دبانے کی تمام کوششیں ناکامی سے دو چار ہوچکی ہیں، بڑے یقین کے ساتھ کہا جارہا تھا کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی کو اس طرح سے توڑا جائے گا کہ لوگ بھول جائیں گے کہ اس نام کی پارٹیاں ملک میں موجود بھی ہوتی تھیں یا نہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے فاضل جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرح ہٹایا جانا تھا۔ بعض اور جج صاحبان کے نام بھی سننے میں آرہے تھے،اسی طرح جنگ اور ڈان گروپ کو بند کرکے میڈیا کا مکمل صفایا کرنے کا منصوبہ بھی موجود تھا، لیکن ہوا کیا، تمام تر انتقامی کارروائیوں اور اپنی ہی بعض سنگین حماقتوں کے باوجود ن لیگ بغیر کچھ ہل جل کے پہلے سے بھی زیادہ بہتر پوزیشن پر ہے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی غیر معمولی کارکردگی کے باعث پیپلز پارٹی کا گراف مسلسل بلند ہورہا ہے۔ عالمی ادارے بھی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں،عدلیہ کا محاذ ہی دیکھ لیں جسٹس قاضی فائزعیسٰی کے کیس میں انصاف ہوتا نظر آرہا ہے۔

میڈیا کے فرنٹ پر جنگ اور ڈان گروپ اور دیگر غیر جانبدار میڈیا ہاؤسز تمام رکاوٹیں عبور کرکے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔مختلف اداروں سے نکلوائے جانے والے پروفیشنل صحافیوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے آواز حق بلند کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ پچھلے دو سالوں سے ایک طرف تو معاشی بحران بڑھ رہاہے تو دوسری جانب ایف اے ٹی ایف امتحان بنا ہوا ہے۔ بھارت نے عالمی برادری اور فریقین کی پروا کیے بغیر مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرلیا، افغانستان سے ممکنہ امریکی انخلاء یا پھر بہت کم تعداد میں فوجی اہلکاروں کی موجودگی اور آپریشنز میں نمایاں کمی پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب کرے گی، مختصر یہ کہ اندرونی حالات اچھے ہیں نہ بیرونی صورتحال خوشگوار ہے، ایسے میں 34سال پرانے پرائیویٹ سودے کی بنیاد پر گھڑا گیا بے بنیاد مقدمہ ملک و قوم کے لیے خیر کی خبر نہیں۔ کیس اس قدر بودا ہے کہ اب ”یار لوگوں“ کو کسی اور مقدمے کی تلاش ہے، اطلاعات ہیں کہ اب فرمائشی درخواست گزار وں کی جانب سے دی جانے والی کسی درخواست پر کوئی اور نیا، پرانا مقدمہ تلاش کیا جارہا ہے۔

اس تمام سے منصوبہ سازوں کو تو خیر کیا حاصل ہوگا مگر یہ طے ہے کہ میر شکیل الرحمن کو انتقام کا نشانہ بنا کر حکومت نے انہیں وہ مقام دے دیا ہے کہ انکا ذکر نصاب کی کتابوں میں ملے گا، ویسے تو اس حکومت نے آتے ہی ہر شعبے کا برا حال کردیا ہے، لیکن میڈیا کو خصوصی ہدف بنا کر نشانہ بنایا گیا اور اس حوالے سے چھپایا بھی کچھ نہیں۔ افسوس تو مالکان اور صحافیوں کی تنظیموں پر ہے جو اس کارروائی کا اصل مقصد جانتے ہوئے بھی حکومت کی کاسہ لیسی پر تلے ہوئے ہیں، میر صحافت کو نہیں میڈیا کو قید کیا گیا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ کس موقع پر کیا کارروائی کی گئی، تلخ بلکہ بھیانک حقیقت یہی ہے کہ طاقت کے نشے میں چور ٹولے نے ماضی میں بھی حالات کی نزاکت کا احساس کیے بغیر ایسے ایسے گل کھلائے کہ سب کو قیمت چکانا پڑی۔ یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ ایسے تمام منصوبے دھڑا دھڑ ناکامی سے دو چار ہو رہے ہیں وقت آگیا ہے کہ پالیسیوں کو ریورس گیئر لگا کر ماضی قریب میں کیے گئے سیاسی و انتظامی گناہوں کا کفارہ ادا کیا جائے۔ اقتدار کے تمام سٹیک ہولڈرز سر جوڑ کر بیٹھیں اور نیا لائحہ عمل سامنے لے کر آئیں۔ مکرر عرض ہے کہ ان کا اپنا کھیل چوپٹ ہوچکا، ضد پر اڑے رہنے میں نقصان ہی نقصان ہے، وہ بھی سب کا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی اتحادی جماعتوں سمیت ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں مطالبہ کررہی ہیں کہ میر شکیل الرحمن کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔

ملک بھر کے بڑے قانون دان جو وکلا تنظیموں کے الیکشن کے وقت ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتے ہیں کھل کرکہہ رہے ہیں کہ یہ کیس سرے سے جعلی اور بدنیتی پر مبنی ہے تمام مسالک کے علماء کرام اس حوالے سے ایک ہی رائے رکھتے ہیں۔ختم نبوت کے دفاع کے حوالے سے جنگ گروپ کی اصولی اور مثالی پالیسی کے باعث دینی حلقوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ صنعت کار،تاجر رہنما، مزدور لیڈر، ٹریڈ یونینزغرض کہ تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس حوالے سے غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔سو یہ بات طے ہوگئی کہ میر شکیل الرحمن کی رہائی قومی مطالبہ بن چکی ہے۔ بعض حلقے یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ حکومت کے ایماء پر نیب کے اس اقدام پر خود اسٹیبلشمنٹ بھی حیران رہ گئی ہے۔ کورونا وائرس کی اس عالمی آفت کے موقع پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاست کے تمام ستون مل کر کام کرتے مگر افسوس! اس انتہائی خطرناک چیلنج کے موقع پر بھی جھوٹی انا کو آگے رکھا گیا۔ قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کیا جارہاہے۔

شدید مالی بحران سے دو چار میڈیا انڈسٹری کو مزید مشکلا ت میں دھکیلا جارہاہے۔ حکومت ایک جانب تو لالی پاپ دے رہی ہے کہ میڈیا انڈسٹری کیلئے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے گا دوسری جانب اشتہارات کی مد میں 6 ارب کے واجبات عرصے سے دبا رکھے ہیں،حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ اگر میڈیا پر اسی طرح پابندیاں لگاتے رہے مالکان اور صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا تو پھر جعلی اور من گھڑت خبروں کا سیلاب آئے گا۔ پورے ملک میں پہلے ہی سے غیر یقینی کی فضا ہے۔ لوگ وسوسوں کا شکار ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا۔ کوئی تو ان حکمرانوں سے پوچھے کہ وہ22 کروڑعوام کیساتھ کرنا کیا چاہ رہے ہیں۔میڈیا آزاد ہے اور انشاء اللہ آزاد ہی رہے گا۔ میڈیا کوآئین میں دی گئی آزادیوں کے مطابق قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔سب سے بہتر تو یہی ہے کہ تاریخ سے خود ہی سبق سیکھ لیا جائے، ورنہ غلطیوں کے مداوے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

مزید : رائے /کالم