بدبودار کرونے اور جنت کی مہک

بدبودار کرونے اور جنت کی مہک
بدبودار کرونے اور جنت کی مہک

  



اس ہفتے علوم اجتماعیہ اور علوم طبعیہ کی ہر شاخ پر کرونے (الو) ہی کا بسیرا دیکھنے کو ملا،لیکن مجھے انجام گلستان کی فکر ذرہ برابر نہیں ہے، جس کسی کو اپنی فکر نہ ہو، اسے انجام گلستان سے کیا غرض. آپ شاید اسے خود غرضی قرار دیں، مرضی آپ کی، لیکن اس پوری کائنات کے حلقہ ہائے زنجیر کی کسی ایک کڑی پر میرا عمل دخل نہیں ہے۔ نہ میرے وجود سے باہر کے صبح و شام کی تقویم میں میرے کسی مشورے کا دخل ہے۔ چنانچہ اپنے علامہ مرحوم ہر کسی کے لئے موقع کی مناسبت سے کچھ نہ کچھ سہولت پیدا کر گئے ہیں:

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

ہیجان ساختہ اسیری اور اسی ہیجان کے پیدا کردہ خوف کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا ہر کسی کا موقوف ہو چکا ہے۔ یہ ہفتہ بھر گھر کے اندر رہ کر کچھ کرنا میرے لئے ایک منفرد تجربہ رہا۔ اس ایک ہفتے میں احباب کی شفقت نے مجھے طب چین، جرمن ہیلتھ کلینک، ہومیوپیتھی، ایلو پیتھی، حکمت، طب نبوی اور سنیاسیوں کے طریق علاج کا اچھا خاصا ماہر بنا دیا ہے۔ کلونجی کے خصائص تومیں نے خوب رٹ لئے ہیں۔ ایمان کچھ پہلے بھی اتنا کمزور نہیں تھا، لیکن حاسدان بدباطن اور افتراء پرداز بہرحال مجھے دنیا دار سمجھتے ہیں۔ چنانچہ یہ ان کے لئے سنہرا موقع تھا۔ پس جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ مجھے ان خیرخواہوں نے توکل، ایمان باللہ, آخرت اور اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتے کے نہ ہل پانے کے متعلق اتنا کچھ بتا دیا ہے کہ میرے پاس، کچھ نہیں تو، ایک سال کے کالم لکھنے کا مواد جمع ہوگیا ہے۔

ایک صاحب نے ازراہ مروت انگریزی کے باریک الفاظ میں لکھے ایک کتابچے سے نوازا جس میں کرونا سے بچاو کی احتیاطی تدابیر کا چالیس صفحات میں نہایت مختصر خلاصہ تھا۔ ایک حکیم صاحب نے کلونجی، کالا زیرہ، اطریفل کشنیزی اور پتا نہیں کیا کیا ہم وزن لے کر گھر میں دستیاب سب سے بڑے دیگچے میں ابالنے کو کہا۔ زبانی یہ بھی ہدایت کی کہ دیگچے میں چھ گلاس گنجائش والے کم ازکم پندرہ جگ پانی ہونا چاہیے۔ ان نازک مزاج اجزاء کو نہایت دھیمی آنچ پر ابالا جائے۔ چنانچہ ہم سب نے گھر میں سر جوڑ کر حساب کیا تو نہایت دھیمی آنچ پر اتنے پانی کے نصف جگ رہ جانے کے لئے ایک ہفتہ درکار تھا۔ ڈرتے ڈرتے حکیم جی کو کوئی متبادل نسخہ ارزان کرنے کو کہا تو انہوں نے برافروختہ ہوکر فون بند کر دیا۔ حکیم جی اب تک نالاں اور خفا ہیں۔

بعض احباب نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ کتابیں،مقالے اور کتابچے تصنیف کئے۔میں نیان سب میں نہایت مفید نکتے پائے۔آپ ان کے ناموں ہی سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان مفید جواہر پاروں میں حکیم لقمان اور حکیم جالینوس کی فکر سے کم کوئی ایک بھی نہیں ہے۔یو ں مجھے اس کرونے کی وجہ سے اندازہ ہوا کہ ہمارے اس خطے میں ایک سے ایک بڑھ کر اعلی پائے کا دماغ موجود ہے، لیکن قدردان دنیا سے ناپید ہو چکے ہیں۔ تحریروں کے نام ملاحظہ ہوں: "بازار حصص پرکرونا اور ڈینگی مچھر کے مضر اثرات" یا یہ کہ"کرونا کی افزائش کا درست ترین موسم" اسی طرح تحقیقی مقالے کا عنوان یوں تھا: "ایسٹ انڈیا کمپنی سے پہلے کرونا کی بے چارگی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل" ایک اور مفید تحریر کا عنوان یوں تھا: "کرونے کے پھیلاؤ میں لدھر، اودبلاؤ اور لگڑ بھگڑ کا شجرہ نسب اور عالمی کساد بازاری کا باہمی تعلق". ایک اور ازحد مفید کتابچے کا عنوان کچھ یوں تھا: "کیا کرونے کا پھیلاؤ روکنے کے لئے پٹواریوں، حلوائیوں اور مچھیروں سے کام لیا جاسکتا ہے" ایک نایاب مسودے میں کرونے کی خودی پر مفید بحث کے بعد اس کی بے خودی کا احوال پڑھنے کو ملا۔ فاضل مؤلف کا فرمان تھا کہ خودی وسرشاری کی کیفیت میں کرونا کاٹنے سے لاچار ہو جاتا ہے۔ یہ نالائقی تو وہ تب کرتا ہے جب وہ بے خودی کے عالم میں سرشار ہوکر جھوم رہا ہو۔ اس تحریر کو میں نے وزیر اعلی جناب بزدار صاحب کے لئے بہت مفید پایا۔ اگر قبلہ گاہی وزیراعلیٰ صاحب یہ کتابچہ کسی طور پڑھنے میں کامیاب ہوجائیں تو انہیں کرونے کے کاٹنے کا طریقہ، یقین کامل ہے، بخوبی معلوم ہو جائے گا۔

قارئین کرام! اس سے ملتی جلتی معلومات آپ کو روزانہ مل رہی ہوں گی۔ اس بحرانی کیفیت اور عالم اضطرار میں سب سے اہم کام حواس بحال رکھنا ہے۔ اس بحران کی شدت اور اس کے سنگین ہونے میں بظاہر ذرا شبہ نہیں ہے۔ ان ابتدائی دنوں میں اس پر کوئی اندازہ قائم کرنا یا اس کا تجزیہ کرنا خاصا قبل از وقت ہے۔ بہت بعد میں جب اس ہولناک تجربے کی دھول بیٹھ جائے گی، تب اس وقت کے تجزیہ نگار شاید کچھ کہنے کی حالت میں ہوں گے۔ گھر کے کسی ایک فرد کے اس وبائی مرض کی نذر ہو جانے کا مطلب اس کنبے کی پوری کائنات لٹ جانے کے مساوی ہوا کرتا ہے۔ اس کنبے کے لئے باقی تمام دنیا کا بچ جانا بے معنی ہوتا ہے۔ ہم سب کو خالق کائنات سے التجا کرنا چاہیے کہ وہ تمام دنیا میں آباد اپنی مخلوق کی حفاظت کرے۔ اس دعا کے بعد وہ تمام تدابیر اختیار کرنا بھی ہم سب کا فرض ہے جو علم طب کے ماہرین ہمیں بتائیں۔ دینی امور جیسے نماز باجماعت اور نماز جمعہ کے ضمن میں آپ کے سامنے ایک سے زیادہ آرا موجود ہوں گی۔ علماء کی یہ سب آراء درست ہیں۔ ان آراء میں اختلاف بہت سے دیگر عوامل کے تناظر میں ہوا کرتا ہے۔ ان میں سے جو رائے آپ کے حسب حال ہو، جس رائے پر آپ کا دل مطمئن ہوجائے، اس پر عمل کر گزریں۔ کوئی دوسرا اس کے برعکس کسی دوسرے کی پیروی کرے تو اسے کرنے دیں۔ وہ بھی اتنا ہی صحیح ہوگا جتنا آپ خود ہوں گے۔

احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے حواس مجتمع اور حوصلہ بلند رکھیں۔ مایوسی، افسردگی اور منفی احساسات کو قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔ کوئی حتمی رائے تو مستقبل کے پردے میں ملفوف ہے، لیکن میری ذاتی رائے اور قیاس کا ایک رخ یہ ہے کہ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مختلف النوع زمروں کے مابین چھینا جھپٹی اور کشمکش کا یہ نقطہ عروج ہے۔ ان سب زمروں پراس وقت کا بالادست گروہ ذرائع ابلاغ کی عالمی مشین کی مدد سے ہر طرف ایک نادیدہ وجود کا خوف اور ہیجان پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ اس کا مقصد کیا ہے؟ یہ فی الوقت ہم میں سے کسی کو پتا نہیں ہے,نہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ اس ہیجان، خوف اور نفسا نفسی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اپنے اس مفروضے کی تائید میں میں چند نکات آپ کے غور کے لئے پیش کئے دیتا ہوں۔ آج دنیا کے ہر حصے کے ذرائع ابلاغ انسان کے اپنے اس خود تراشیدہ مسئلہ کو یک رخا بیان کر کے ہر انسان کو موت، بے چارگی، اور ہیجان میں مبتلا کئے جارہے ہیں۔ مسلے کے جس تاریک رخ کا حجم انتہائی کم ہے، ذرائع ابلاغ میں دن رات اسی پر زور دیا جارہا ہے۔

مثلا آج بدھ کی شام تک دنیا بھر میں اس مرض کے کوئی 19000 افراد ہلاک شدگان ہیں۔ اور اس مرض کے کل متاثرین چار لاکھ 35 ہزار کے لگ بھگ ہیں۔ میں دنیا کے چیدہ چیدہ ذرائع ابلاغ اور اخبارات کو ہر روز دیکھتا پڑھتا ہوں۔ مجھے کسی ایک جگہ پر بھی یہ حوصلہ افزا اور نہایت حوصلہ افزا خبر دیکھنے، پڑھنے سننے کو کبھی نہیں ملی کہ ناظرین، قارئین، سامعین ان چار لاکھ 35 ہزار متاثرین میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ یعنی ایک لاکھ بارہ ہزار مریض بحسن و خوبی تندرست ہو کر اپنے معمولات زندگی سرانجام دے رہے ہیں، باقیوں کا علاج طبی عملہ نہایت تندہی سے کر رہا ہے، لہٰذا فکر مند نہ ہوں، حوصلہ رکھیں، اللہ بہتر کرے گا۔ اس کے برعکس ایک عشرہ قبل فرانس میں گرمی کی ایک شدید لہر آئی، جس سے دسیوں ہزار لوگ مر گئے تھے۔ کہیں کسی جگہ کوئی ہیجان پیدا ہونا تو درکنار، ذرائع ابلاغ میں اسے معمول کی جگہ دی گئی اور زندگی ویسے ہی رواں رہی۔ اسی فرانس میں آج کی تاریخ تک صرف ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ کرونا سے مرے تو دنیا بھر میں، بظاہر غوغا بے مقصد، لیکن، کسی نادیدہ مقصدیت بھرا غل مچا ہوا ہے، کیوں مچا ہوا ہے؟ فی الوقت کچھ کہنا دشوار ہے۔

میں اپنی بیچارگی کا اظہار ایک دفعہ پھر کرتا ہوں کہ اس غوغائے رقیباں سے فی الوقت کوئی نتیجہ نکالنا، ساختگان کرونا کا مقصد تلاش کرنا، یا کوئی تجزیہ کرنا میرے لئے ہی نہیں، ہر کسی کے لئے ناممکن ہے۔ اس لئے اس بحران میں ہم سب کا فرض ہے کہ استغفار، اور رجوع الی اللہ کا اہتمام کریں۔ ان دونوں کے اہتمام کا ایک طریقہ خالق کی اس مجبور مخلوق کا خیال رکھنا ہے، جسے اقوام متحدہ والے خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے والے افراد کہتے ہیں۔ یہ لوگ اس بحرانی کیفیت میں کیسے گزارا کرتے ہیں، یہ سمجھانا میرے لئے خاصا دشوار کام ہے۔ محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بس ایک حدیث سن لیں، بہت کچھ واضح ہوجائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ شخص جنت کی ہوا سے بھی محروم رہے گا، جس نے رات کو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا سویا ہو۔

گردوپیش ہی نہیں، پڑوسیوں ہی کی نہیں، ملازمین، رشتہ داروں اور اپنے دور پار کے متعلقین کا جائزہ لیں تو آپ کو متعدد ایسے افراد ملیں گے جو بھوک اور اس وائرس سے پیدا شدہ بے چارگی کے متاثرین ہیں جسے عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کے ہر کونے، ھر گوشے میں پہنچا دیا ہے۔ چنانچہ قارئین کرام کرونے کا علاج تلاش کرنے کی بجائے ان کمزور، لاغر اور ناتواں بچوں کا کھوج لگائیں جن کے کچن پر بھوک کا وائرس قابض ہوچکا ہے. یہ کام کرنے کے لئے نہ تو حکومت اور نہ حزب اختلاف جواب دہ ہیں۔ یہ کام ہم میں سے ہر ایک کے ذمے انفرادی طور پر ہے۔ یہ بتانا بھی لازم ہے کہ جنت کی ہوا، اس کی مہک، اس کی خوشبو تیزرفتارکرونا کے برعکس ستر سال کی مسافت کی دوری پر بھی نتھنوں میں جا گھستی ہے، لیکن ہولناک امر یہ ہے کہ پڑوسی کے صرف ایک رات بھوکا سونے پر ہمیں جنت سے کم از کم ستر سال کی دوری سے بھی زیادہ لامتناہی دوری سہنا پڑے گی۔ کتنی دوری اور کتنے عرصے کتنے عرصے تک کی دوری؟ محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ راز منکشف نہیں کیا۔ کیا ہم میں سے کوئی اس بیچارگی کا متحمل ہو سکتا ہے کہ جس کا وہاں کوئی اور حل اور مداوا بھی نہیں ہوگا، نہ کوئی متبادل ہوگا؟ لہٰذا اس سوال کا جواب ہم سب نے آج رات سے پہلے تلاش کرنا ہے. ورنہ جنت کی ہوا,جنت کی مہک، اس کی خوشبو ہم سے دور اور دور تر ہوتی چلی جائے گی۔ دور بہت دور۔۔۔۔۔!

مزید : رائے /کالم