کورونا وائرس: اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں!

کورونا وائرس: اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں!
کورونا وائرس: اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں!

  



یہ مقولہ جو میں نے کالم کا عنوان بنایا ہے نجانے کتنی بار ہم نے سنا اور پھر بھلا دیا۔ قرآنِ کریم میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ ہم ظالم کی رسی دراز کر دیتے ہیں لیکن اس کا روزِ حساب مقرر ہے۔ موت تو ایک روز سب کو آنی ہے لیکن اتنی کثرت سے اور اتنے تھوک کے حساب سے آنی ہے اس کا ذکر بھی قرآن حکیم میں موجود ہے کہ اللہ نے عاد و ثمود کی بستیوں کو کس طرح ایک ہی وار میں نشانِ عبرت بنا دیا۔ اللہ اور بندے کا معاملہ یہ ہے کہ بندا ظلم کو اُسارتا رہتا ہے اور اللہ ڈھاتا رہتا ہے……

ملٹری ہسٹری کا طالب علم ہونے کے ناتے مجھے زمانہ ء قدیم، زمانہ متوسط اور زمانہء جدید کی جنگوں اور ان میں استعمال ہونے والے اسلحہ و بارود اور متحارب فریقین کے درمیان مرنے مارنے کی چالوں کا تھوڑا بہت اندازہ ہے۔ عصرِ جدید جوں جوں آگے بڑھا ہے اور انسان نے 21ویں صدی میں قدم رکھا ہے دیکھا گیا ہے کہ عسکری اور اقتصادی اعتبار سے طاقتور ملک مرورِ ایام سے اور بھی طاقتور ہوتے گئے ہیں۔ لیکن ان کو یہ طاقت، کمزور ملکوں پر ستم ڈھانے کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ نتیجتاً طاقتور مزید طاقتور ہوتا گیا اور کمزور دن بدن، عہد بہ عہد مزید کمزور ہوتا چلا گیا ہے…… یہ فقرہ نجانے کتنی بار میڈیا پر دہرایا گیا ہے……

اس اصول کی رو سے 1990ء تک دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں دو طاقتیں سپرپاورز ہو کے سامنے آئیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تشکیل دی، عالمی عدالتِ انصاف بنائی اور بزعمِ خود دنیا کے 200ملکوں کی باہمی تاجدار بن گئیں۔ پھر 1991ء میں سوویت یونین نے سپرپاور بننے سے ”توبہ“ کر لی۔ یہ سپرپاور اپنی رضا مندی سے پیچھے ہٹی تھی، اس کو کسی جنگ میں شکست نہیں ہوئی تھی لیکن اس زد و خورد میں جو دوسری پاور ناقابلِ شکست ہو کر ابھری اس نے باور کر لیا کہ وہی واحد سپریم پاور ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ لیکن قرآن تو بار بار کہتا ہے کہ اللہ دونوں جہانوں کی واحد سپریم پاور ہے۔ ہم نے آج دیکھ لیا ہے کہ صرف تین عشروں (1990ء تا 2020ء) کے اندر اندر یہ واحد سپریم پاور جسے امریکہ کہا جاتا ہے اللہ کی ایک حقیر ترین مخلوق کے سامنے کس طرح عاجز آ گئی ہے!

امریکی تاریخ کا مطالعہ کیجئے…… اس نے 18ویں صدی میں قابض انگریزوں (برٹش) کو اپنے ہاں سے نکال دیا اور پھر 19ویں صدی میں چار برس تک (1861ء تا 1865ء) خانہ جنگی تو دیکھی لیکن کسی اور ملک کو امریکہ پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ منرو ڈاکٹرین کا مطالعہ کیجئے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی جو طاقت امریکہ کی آبی یا فضائی یا بری سرحدوں کے نزدیک بھی بھٹکے گی، اس کو برباد کرکے رکھ دیا جائے گا۔ 20ویں صدی کی دونوں عالمی جنگیں اس بات کی گواہ ہیں کہ امریکہ پر باہر کی کسی بھی طاقت نے حملہ نہیں کیا۔ امریکی فضائیہ نے پہلے جرمنی اور بعد میں جاپان پر فضائی اور جوہری بمباری کرکے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن ان محوری طاقتوں میں سے کسی کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ امریکہ کی Main Land پر کوئی ایک بم بھی گرا سکتی، کوئی ایک سپاہی بھی اس کی سرزمین پر بھیج سکتی اور کوئی ایک بحری جنگی جہاز بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کو عبور کرکے امریکہ کے سواحل کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکتا۔ امریکہ دسمبر 2019ء سے پہلے تک بلا شبہ دنیا کا اکیلا فرعون بنا ہوا تھا۔

اس نے مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان کے مسلمانوں پر 2001ء کے بعد جس طرح عرصہء حیات تنگ کیا، وہ آپ کے سامنے ہے، اس نے سعودی ائر فورس کو فروخت کئے گئے اپنی جنگی بمباروں سے یمن کے حوثی قبائل کے نہتے شہریوں پر جو بے حساب مظالم ڈھائے وہ ہم سب نے دیکھے۔ اس کی مردم آزار اور حریص نگاہیں آج بھی دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں پر گڑی ہوئی ہیں۔ لیکن اس کو معلوم نہ تھا کہ 2020ء کا سورج طلوع ہو گا تو اللہ کریم کی ایک خفیف ترین اور کمزور ترین مخلوق اس کی تینوں سرحدوں (بحری، بری اور فضائی) کو خاطر میں نہیں لائے گی اور اس کی Main Land پر حملہ آور ہو کر بڑے بڑے امریکی طاقتوروں کو لرزہ براندام کر دے گی…… میں اس کرونا وائرس کو امریکہ پر حملہ آور ہو کر ایک ہزار سے زیادہ (1032) امریکیوں کو ہلاک کرنے اور تقریباً ستر ہزار (67,063) کو بستر مرگ پر دراز دیکھ کر یہی سوچتا ہوں …… خدا ظالم انسانوں کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ: ”تم بھاگ کر میرے عذاب سے کہاں جا چھپو گے؟“…… سبحان اللہ! اب وہاں مساجد میں ”اللہ ہو“ کی تسبیحات پڑھی جا رہی ہیں اور خدائے برتر کی طرف سے قرآن حکیم میں نازل شدہ آیات کی تلاوتیں کی جا رہی ہیں:

تفو بر تو اے چرخِ گرداں تفو

ملٹری ہسٹری کے تناظر میں، میں ایک اور حقیقت بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو یہ ہے کہ مسلمانوں نے 7ویں صدی عیسوی میں جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر چار دانگ عالم میں اسلامی فتوحات کے ڈنکے بجائے۔

ہزاروں لڑائیاں (Battles) اور سینکڑوں جنگیں (Wars) لڑیں۔ خود آنحضورﷺ کے مدنی دور میں درجنوں غزوات و سریات لڑے گئے لیکن سن ایک ہجری سے لے کر آج سن 1441 ہجری تک کے برسوں میں ان جنگوں میں جتنے فوجی اور سویلین مارے گئے ان کا ٹوٹل کر لیجئے اور دوسری طرف جب بارود کا دور شروع ہوا اور عنانِ جنگ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر غیر مسلموں کے ہاتھ میں آئی تو ان لڑائیوں اور جنگوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والی مخلوق خدا کا میزان کر لیجئے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کا دور کتنا عافیت آمیز اور امن کوش تھا!…… ان بارودی جنگوں میں یورپ کی سفید فام اقوام کی تاریخ بھی دیکھ لیجئے…… امریکہ، برطانیہ، روس، سپین، پرتگال، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی وغیرہ نے ایشیاء اور افریقہ کے مسلمان ممالک پر جور و جبر کے جو پہاڑ توڑے وہ کوئی زیادہ دیر اور دور کی بات نہیں۔ پرتگال، سپین، اٹلی اور برطانیہ نے تو مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں بربریت کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ان مسلم کش معرکوں کی تفصیلات عصرِ جدید کے مغربی مصنفین کی تاریخوں میں بھی درج ہیں۔ ان کو پڑھ لیجئے اور کرونا وائرس نے ان ممالک پر حملہ کرکے ان کو مکافات عمل کا جو درس دیا ہے وہ بھی دیکھ لیجئے اور اس مقولے کو پھر سے یاد کر لیجئے کہ اس کے ہاں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔

اب میں آپ کی توجہ اپنے مشرقی ہمسائے کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ گزشتہ برس 5اگست کو کشمیر پر جو ترک تازیاں کی گئیں اور ان سے بھی پہلے مودی نے انڈیا کے مسلمانوں پر ”گاؤ کَشی“ کی آڑ میں جو مظالم ڈھائے ان پر پاکستان نے کس کس طرح آواز نہیں اٹھائی۔ لیکن عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں جوکچھ کہا اس پر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے کیا ردعمل ظاہر کیا؟ جموں اور کشمیر کے مسلمانوں پر مودی کے احکامات پر انڈین آرمی اور اس کی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے اپنی قہاری کے جو مناظر تخلیق کئے ان کا جواب تو قہارِ کائنات اور رب العالمین نے آخر دینا ہی تھا اور مجھے یقین ہے کہ وہ ”اور بھی“ دے گا۔ اہل یورپ کو مسلمانانِ عالم پر ظلم و ستم توڑنے کی سزا یوں دی گئی کہ آج یورپ کورونا کا ایپی سنٹر ہے اور اہلِ امریکہ کو بھی یہ چتاؤنی دی جا رہی ہے کہ اس کا اگلا ایپی سنٹر امریکہ ہو گا…… مسلمانانِ عالم کو بھی اس وائرس نے ”بہت تنگ“ کیا ہوا ہے (بالخصوص ایران کو) اس لئے ہم مسلمانوں کو بھی گریبان میں منہ ڈال کر سوچنا ہو گا کہ آخر ہم نے کن احکاماتِ خداوندی کو پسِ پشت ڈال کر تادیب و سزا کے یہ مناظر دیکھے ہیں …… ان کا سکیل اگرچہ کم ہے لیکن اس تھوڑا کہے کو زیادہ جانیئے اور اس خط کو تار سمجھئے!

مزید : رائے /کالم