وزیراعظم کا طبی عملہ کیلئے خصوصی حفاظتی لباس کی ہنگامی تیار ی کا حکم

      وزیراعظم کا طبی عملہ کیلئے خصوصی حفاظتی لباس کی ہنگامی تیار ی کا حکم

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم عمران خان نے کرونا سے بچاؤ کیلئے خصوصی حفاظتی لباس کی ہنگامی تیاری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرز،نرسز اور طبی عملہ کے لئے حفاظتی لباس ہنگامی طور پر تیار کیا جائے۔ جمعرات کو وزیر اعظم نے حفاظتی لباس، ماسک و دیگر سامان کی تیاری کا ہدف این ڈی ایم اے کو دیدیا،حفاظتی لباس کے لئے عالمی کمپنیوں سے بھی رابطے کر لئے گئے۔وزیراعظم سے چینی کمپنی چیلنج کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔وفد میں کمپنی کی سی ای او، یان چن، چینی سفیر یاو جینگ اور چیئرمین این ڈی ایم اے شریک تھے۔ چینی کمپنی نے وزیر اعظم کو حفاظتی سامان کی تیاری میں مدد کی پیش کش کرتے ہوئے پاکستان کو طبی عملہ کے لئے 15 ہزار حفاظتی سوٹ عطیہ کردئیے۔چینی کمپنی نے میڈیکل عملے کے حفاظتی سوٹ کی تیاری کے سلسلے میں 7 ہزار میٹر کپڑا بھی عطیہ کیا جبکہ پاکستان واہ آرڈیننس فیکٹری 25 ہزار حفاظتی ماسک روزانہ خود تیار کرے گی۔ انتظامات مکمل کرلئے گئے،این ڈی ایم اے کی سرپرستی میں سینی ٹائزر مقامی طور تیاری کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ طبی عملہ انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہے، سہولتیں اور ضروریات پوری کریں گے، حکومت پاکستان اپنے ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل سمیت متعلقہ اسٹاف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

حفاظتی لباس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان سے فوکل پرسن برائے پناہ گاہ نسیم الرحمن نے ملاقات کی جس میں کروناوائرس کی وباء کے تناظر میں بے سہارا اور نادار لوگوں کیلئے پناہ گاہوں میں کیے جانیوالے خصوصی انتظامات پر گفتگو کی گئی۔ پی ایم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے اس موقع پرکہا بے سہارا لوگوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری اور ہماری اولین ترجیح ہے۔ مشکل حالات میں ہماری سو چ اور توجہ کا مرکز یہ بے سہارا افراد ہوتے ہیں، جتنے مشکل حالات ہوں گے، میری توجہ ان بے سہارا لوگوں کیلئے اتنی ہی رفتار سے بڑھے گی۔ پناہ گاہوں میں بے سہارا اور نادار افراد کیلئے کھانے پینے اور صحت کی سہولیات کی فراہمی پر بھرپور توجہ، مخیر حضرات کو اس کار خیر میں حصہ دار بنا کر پناہ گاہوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی بھرپورکوشش کی جائے، پناہ گاہوں کے نظم و نسق میں بہتری اور ان کی تعداد میں اضا فہ اسی وقت پائیدار ہوگا جب مخیر حضرات مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

حفاظتی لباس

مزید : صفحہ اول