کرکٹ میدان بھی سیاہ بادلوں کی لپیٹ میں آ گئے

کرکٹ میدان بھی سیاہ بادلوں کی لپیٹ میں آ گئے

  



لاہور(سپورٹس رپورٹر)کورونا وائرس کے سبب کرکٹ میدان بھی سیاہ بادلوں کی لپیٹ میں ا? گئے، مہلک وار رکنے کی امید پر کھیل کی عالمی برادری خود کو مستقبل کیلیے تیار کرے گی۔کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے میدان ویران اورکرکٹ بھی شدید متاثر ہوئی ہے، پاکستان کی پی ایس ایل لیگ مرحلے میں ہی ختم ہوگئی، ا?ئی پی ایل ملتوی ہوئی، ا?سٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ،بھارت سمیت مختلف ملکوں کی سیریز ادھوری رہ گئیں،دنیا بھر میں کسی سطح کی کرکٹ نہیں ہورہی، اس صورتحال میں عالمی کرکٹ برادری بھی مستقبل کیلیے فکر مند اور مختلف امکانات پر غور کرے گی۔جمعے کو آئی سی سی کی ویڈیو کانفرنس میں رکن ملکوں کے نمائندے صورتحال پر بات کریں گے، معلومات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ممکنہ اقدامات پر بات کی جائے گی،رواں سال اکتوبر، نومبر میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اور مختلف ملکوں کے مابین ا?ئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے میچز کا انعقاد خطرے میں ہے،اس ضمن میں متبادل بی اور سی پلان کا خاکہ پیش کیا جائے گا،اس طرح کی حکمت عملی اپنانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ متبادل انتظامات بھی ہوجائیں اور ممکنہ نقصان کی شرح بھی کم سے کم سطح پر رکھی جائے۔ذرائع کے مطابق ویڈیو کانفرنس میں صورتحال کی سنگینی کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا تاہم ایونٹس کے مستقبل کاکوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو گا۔

 ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ا?ئی سی سی بورڈ کے ایک رکن نے کہاکہ فی الحال دنیا بھر میں صورتحال بڑی خراب اور لاک ڈاو?ن کی کیفیت ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اکتوبر میں شروع ہونا ہے، ابھی بہتری کی امید پر ہم تھوڑا انتظار کرسکتے ہیں، جون تک کوئی حتمی فیصلہ ہوگا، ا?ئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل بھی جون 2021 میں ہونا ہے، اس سے قبل میچز کا موقع مل سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں، جون میں بھی مختلف ملکوں میں لاک ڈاو?ن کی صورتحال برقرار رہی تو پھر بی اور سی پلان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی باری ا?ئے گی، فی الحال ویڈیو کانفرنس کے دوران ارکان سے مشاورت اور متبادل پلانز پر بات ہوگی۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی