فرضیت زکوۃ اور ٹیکس؟

فرضیت زکوۃ اور ٹیکس؟

  



زکوۃ”ٹیکس“نہیں بلکہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔

مفتی محمدیوسف طیبی فاضل مدینہ یونیورسٹی

اگر شریعت کی روشنی میں بغور دیکھا جائے تو زکوٰۃ بالکل ٹیکس نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کا اہم رکن ہے‘ جبکہ ٹیکس کی نوعیت کچھ اورہوتی ہے۔ٹیکس اکثر اوقات ظلم کے زمرے میں ہوتا ہے۔ آئیں ذرا دیکھتے ہیں کہ زکوٰۃ اور ٹیکس میں کیا فرق ہے۔

1۔ زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد فریضہ ہے۔ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے جس کا تارک واجب القتل ہے۔ صحابہ کرامؓ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسے شخص سے لڑائی کی جائے گی اور اگر وہ زکوٰۃ نہ دے تو اس کو قتل کیا جائے گا‘ اسی لئے عہد صدیق اکبر میں منکرین زکوٰۃ کے خلاف باقاعدہ قتال ہوا۔

جبکہ ٹیکس معروضی حالات میں وقتی طور پر لاگو کیا جا سکتا ہے‘ پھر اس سے حاصل ہونے والی رقم کو امانت داری کے ساتھ امت اسلامیہ کی حفاظت یا بہبود کے لئے خرچ کیا جائے لیکن اگر اس کے بغیر گزارہ چلتا ہو تو پھر ٹیکس لگانا ظلم قرار پاتا ہے۔

عہد نبوت میں ایک عورت نے بدکاری کرلی‘ اس نے خود کو سزا کے لئے پیش کردیا۔آپؐ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ اس کا خون حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر بھی گر گیا۔ انہوں نے اس عورت کے بارے برے الفاظ استعمال کئے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

خالد حوصلہ کرو۔ اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اس کو بھی بخش دیا جائے۔ (صحیح مسلم سنن ابی داؤد)

اس حدیث میں ٹیکس کلکٹر کے لئے صاحب ِ مَکس کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لغت حدیث کی معروف کتاب النہایہ فی غریب الاثر میں امام ابن اثیر مَکسْ کی وضاحت فرماتے ہیں

مَکسْ وہ ٹیکس ہے جو کلکٹر حاصل کرتا ہے۔ قاموس المحیط میں ہے جاہلیت میں منڈی میں آنے والے اور سودا بیچنے والے تاجروں سے جو رقم بٹوری جاتی تھی اس کو مَکسْ کہا جاتا تھا۔ قارئین کرام غور فرمائیں ایک ظلم اور زیادتی کو اسلام کے رکن کے ساتھ ملانا خود کتنی بڑی زیادتی ہے۔

2۔ زکوٰۃ کے فرض ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ 20 دینار سونا یا 200 درہم چاندی پر لاگو ہوتی ہے۔ اس سے کم مالیت پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی جبکہ ٹیکس ہرکس و ناکس پر کسی نہ کسی شکل میں لاگو ہوجاتا ہے۔ ایک غریب صابن کی ٹکیہ خریدتاہے تو اس پر بھی اصل قیمت کے ساتھ ٹیکس کا اضافہ لکھا ہوا ہوتا ہے۔ موبائل میں بیلنس ریچارج کرنے پر بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔2017ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ کل ٹیکس سالانہ 25000 بلین اکٹھا ہوتا ہے جو کہ فی کس 13900 روپے بنتا ہے

(Do we pay enough texes (pakistantoday.com.pk

3۔ زکوٰۃ اورعشر میں بھی فرق ہوتا ہے زکوٰۃ 2.5 فیصد قابل نصاب مال پر ہے جبکہ عشر 5 سے 10 فیصد ہے۔ اگر بارانی زمین ہو تو 10 فیصد اور بصورت دیگر 5 فیصد ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ ٹیکس ہوتا تو اس کا نصاب حکمرانوں پر چھوڑ دیا جاتا‘ جتنے فیصد سے تمہارا گزارا ہوتا ہے لاگو کرلیا کرو۔

4۔ پھر زکوٰۃ و عشر کے مصارف صرف آٹھ ہیں جن کا ذکر سورہ توبہ میں آیا ہے‘ اس کے علاوہ کسی مصرف میں اس کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے جبکہ ٹیکس کے دسیوں مصارف ہیں جہاں حکومت اس کو خرچ کرناچاہے اپنی مرضی سے کرسکتی ہے۔

جبکہ مصارف کا معاملہ بہت حساس اوراس سے بالکل مختلف ہے۔ رسول اللہ ﷺکے پاس زیاد بن حارث صدائی آکر تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کی تقسیم کے بارے میں کسی نبی یا غیر نبی کی صوابدید پر بھی راضی نہیں ہوا بلکہ اس کے مصارف خود بیان فرمائے ہیں۔ ا س لئے اگر آپ ان آٹھ میں شامل ہیں تو میں آپ کو زکوٰۃ سے فنڈ دوں گا۔ (سنن ابی داؤد 1630)

5۔ زکوٰۃ تو سال میں ایک دفعہ ادا کرنا فرض ہے جبکہ بعض ٹیکس روزانہ‘ بعض ماہانہ‘ بعض سالانہ اور بعض حسب موقع لاگو ہوتے ہیں۔

6۔ زکوٰۃ ہر قسم کی بچتوں پر لاگو ہوتی ہے یعنی سال کے بعد مسلمان اپنا حساب Audit کرتا ہے اخراجات اور آمدن کو بیلنس کرکے جو مال باقی بچتا ہے‘ اس پر زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔جبکہ ٹیکس میں بعض اموال کو چھوٹ دی جاتی ہے۔ مثلا ایکسپورٹ پر بجائے ٹیکس کے بعض اشیاء پر حکومت تعاون کرتی اورچھوٹ دیتی ہے۔ پرائیویٹ اسکول خوب کماتے ہیں جبکہ اسی طرح کمپیوٹر اور آئی ٹی کی مصنوعات ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں اگرچہ اس سے اربوں روپے کمالیئے جائیں‘ اس کے برعکس دس ہزار کمانے والا کئی قسم کے ٹیکس دے رہا ہوتاہے تو زکوٰۃ ”ٹیکس“کیسے ہوگئی۔

7۔ زکوٰۃ کے بارے میں فرمان نبوی ؐ ہے کہ توخذ من اغنیاء ھم فترد علی فقراء ھم کہ کسی علاقے کے صاحب حیثیت لوگوں سے لے کر انہیں کے فقراء میں تقسیم کر دی جائے۔ اگر کسی علاقے میں فقیر کم ہیں تو جو زکوٰۃ بچ جائے‘ وہ بیت المال میں جمع ہوجاتی ہے جبکہ ٹیکس غریبوں اور امیروں سے لے کر مختلف قسم کے شعبہ جات اورمدات میں خرچ کئے جاتے ہیں۔

8۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔خُذْ مِنْ أَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً (التوبہ 103)

اے نبی ﷺان کے مال سے زکوٰۃ قبول فرمائیں اور اس زکوٰۃ کے ساتھ ان کو پاک کردیں۔

جبکہ ٹیکس کا نظام سوائے ناگزیر قومی ضرورت کے ٹیکسوں کے‘ عموماً ظلم اور چوری کے مشابہ ہے۔ اس سے کیسے کوئی پاک ہوگا۔تو پھر اس مال کے ساتھ مزید عوام پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں۔ اس صورت میں ”ٹیکس“کانظام”زکوٰۃ“جسے اہم اسلامی،نبوی فریضہ کے قائم مقام ہرگز نہیں ہو سکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1