کرونا،شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات آگاہی کیلئے میدان میں آگئیں

کرونا،شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات آگاہی کیلئے میدان میں آگئیں

  



لاہور(فلم رپورٹر)کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی ہولناکیوں کودیکھتے ہوئے شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات میدان میں آگئیں آگاہی بارے ویڈیو پیغامات سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے شروع کردئیے۔ ثناء نے اپنے ویڈیو پیغام میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں حکومت کا لاک ڈاؤن بارے ساتھ دینا چاہیے کیونکہ وہ ہماری بقاء کے لئے ایسے سخت اقدامات کررہے ہیں۔دیا جٹ نے کہاکہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت اور درست ہے اس لئے حکومتی احکامات کی سختی سے پابندی کروائی جائے تاکہ کوئی بھی گھروں سے بلا ضرورت نہ نکل سکے۔ فیروزہ علی نے کہاکہ ہم حکومت کی طرف سے وضع کردہ احتیاطی تدابیر اپنانے سے اس سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں اس لیئے ہم ان پر سختی سے کاربندہوں۔نادیہ علی نے کہاکہ اس وقت ہمیں ایک قوم بننے کی سخت ضرورت ہے اگر ہم لاک ڈاؤن کے دوران گھروں سے نکلنے سے پرہیز کریں تو ہم اس وائرس کو چند دنوں میں ہی شکست دے سکتے ہیں۔ندا چوہدری نے کہاکہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہماری صحت اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیاہے اس لئے اس کی سختی سے پابندی کریں او رخدارا گھروں میں ہی رہیں۔ عینی طاہرہ نے کہاکہ ہم لاک ڈاؤن کو اس طرح حلق سے اتار سکتے ہیں کہ ہم سمجھیں کہ گرمی کی چھٹیاں ہو گئی ہیں اور ہم خود کو بچوں کے ساتھ مصروف کر سکتے ہیں بے جا سیروتفریح ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اس لئے گھرمیں ہی رہیں تو بہتر ہے۔ ماہرہ خان نے کہاکہ حکومت کے بار بار اپیل کرنے کے باوجود بھی لوگ باہر کا رخ کررہے ہیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے عوام کو سمجھنا چاہیے کہ اب رکنا ضروری ہوگیاہے وگرنہ ہمارے پاس پچھتانے کو بھی الفاظ نہیں ہوں گے۔

نادیہ خان نے کہاکہ اب ہم سب کو فیملی کی طرح مل بیٹھنا چاہیے کیونکہ عام دنوں میں ہم اپنی فیملی کو وقت نہیں دے پاتی مگر اب اتفاق سے ہم اکٹھے ہوئے ہیں تو گھر میں ہی وقت گزاریں اس سے ہم اس موذی بیماری سے بھی بچ سکیں گے۔مایا سونو خان نے کہاکہ ہمیں اس سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے اور لڑ ہم اس صورت میں سکتے ہیں جب ہم آرام سے گھر بیٹھیں اور اس کو موقع ہی نہ دیں کہ یہ ہم پر حملہ آور ہوسکے۔مہک نور نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کو شکست دینے میں برسرپیکار ہے جس میں حکومت،ڈاکٹرز اور ہماری آرمی بھی شامل ہے ہمیں گھر بیٹھ کر ان کا حوصلہ بڑھانا ہو گا تاکہ وہ پوری دلجوئی اور ولولے کے ساتھ اسے شکست دے سکیں۔

مزید : کلچر