کرونا وائرس، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کیلئے اقدامات کا حکم

کرونا وائرس، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کیلئے ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کرونا وائرس خدشات کے پیش نظرجیلوں میں بند قیدیوں کی ضمانت پررہائی کیلئے فوری اقدامات کا حکم جاری کردیا۔خواتین اور نوعمر قیدیوں سمیت معمولی سزا سے لیکر عمر قید تک کے مجرم و ملزم ضمانت کی اس غیر معمولی رعایت سے فائدہ اٹھانے کے مستحق ہونگے، تاہم دہشتگردی کے انڈرٹرائل ملزموں اور سزا یافتہ مجرموں پراس رعایت کا اطلاق نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس کی ہدایت پر ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ڈائریکٹر جنرل ملک مشتاق احمد اوجلہ نے تمام سیشن ججوں کو مراسلہ جاری کردیا،جس میں حکم دیا گیاہے کہ جیل حکام انڈر ٹرائل اورسزایافتہ قیدیوں کی ضمانتوں کیلئے فوری طور پر نئی درخواستیں دائر کریں گے،جن کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت ہوگی اورٹرائل کورٹ کسی قیدی کوضمانتی مچلکوں کے علاوہ شخصی ضمانت پر بھی رہا کرسکے گی،مرا سلہ میں قیدیوں کی 8نکاتی درجہ بندی کی گئی ہے،جن کے مطابق نہ صرف7سال تک قید کی سزا پانیوالے قیدی ضمانت کی درخواست دائر کر سکیں گے بلکہ ضمانت کی امتناعی شق کے تحت آنیوالے10سال سے زائد قید کی سزا والے مقدمات کے انڈر ٹرائل ملزموں کو بھی یہ رعایت حا صل ہوگی،مراسلہ میں کہا گیاہے کہ 7سال یا اس سے کم سزا کے مقدمات کے ملزموں اور مجرموں کی ضمانت کی درخواستیں سیشن کورٹس میں پیش کی جائیں گی جبکہ 7سال قیدسے لیکرعمر قید تک کی سزاؤں کے قیدیوں کی ضمانت کی درخواستیں جیل حکام براہ راست ہائیکورٹ کو بھجوا ئیں گے،مراسلہ میں مزید کہا گیاہے کہ 7سال سے لیکر عمر قید تک کے ایسے قیدی جو آدھی سزا کاٹ چکے ہیں وہ بھی ضمانت پر رہائی کے مستحق ہوں گے،مراسلہ میں خواتین اور نو عمر قیدیوں کو ضمانت کی ترجیحی درجہ بندی میں شامل کیا گیاہے،خوا وہ انڈر ٹرائل ملزم ہوں یا پھر سزا یافتہ قید ی،مراسلہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے قیدیوں کے حوالے سے دیگر احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں،اس ضمن میں جیل سپرنٹنڈ نٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رہا ہونیوالے قیدیوں کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر متعلقہ ڈی پی او کواطلاع دیں گے جو دو ہفتے تک رہا ہونیوالے قیدیوں کے عام لوگوں سے دوراورتنہائی میں رہنے کے عمل کو یقینی بنائیں گے،اس عمل کی کریمنل جسٹس کوآرڈی نیشن کمیٹی نگرانی کرے گی،مراسلہ میں یہ حکم بھی دیا گیاہے کہ جیلوں میں داخل ہونیوالے نئے قیدیوں کو بھی دو ہفتے تک مکمل تنہائی میں رکھا جائے، جس کے بعد اگر ان میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں تو متعلقہ جیل حکام انہیں دیگر قیدیوں کیساتھ رکھنے کے مجاز ہوں گے۔

قیدی رہائی حکم

مزید : صفحہ اول