امید سحر

 امید سحر
 امید سحر

  

تحریر: سیدہ مہوش خالد

کرونا وائرس جس نے خطہ ارض پہ موجود ہر  با شعور انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔اس وباء نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ہر انسان دوسرے انسان سے خوف کھا رہا ہے۔ہر کوئی اک دوسرے سے میلوں دور جا کھڑا ہے۔جان ایلیا کا وہ شعر یاد آگیا۔ اب نہیں کوئی بات خطرے کے اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے پاکستان میں اس وائرس کے آنے کے بعد دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ آج میں اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑی ہوئی،ذہن میں سوالات تھے کہ کیا دوبارہ حالات معمول کے مطابق ہوں گے؟کیا دوبارہ سے  امن کا دور آئے گا؟ کیا دوبارہ میں اپنے اسٹوڈنٹس کو پہلے کی طرح شرارتوں میں مشغول دیکھ پاءوں گی؟

زہن اسی طرح کی سوچوں میں غرق تھا کہ میرے کانوں میں پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں آنے لگیں یہ آوازیں دل کو بہت سکون پہنچا رہی تھیں۔فضا میں اک پاکیزگی سی تھی جو دل کو بہت سکون پہنچا رہی تھیں ۔ان آوازوں کے تعاقب میں میں نے اک خوبصورت درخت کو ڈھونڈ لیا۔

اس درخت پر بہت خوبصورت پھول کھلے ہوئے تھے۔

اور پرندے ان درختوں پر چہچہا رہے تھے۔

آج سے پہلے تو یہ درخت مجھے اتنا خوبصورت نہیں لگا تھا؟

یہ پرندوں کی آوازیں تو نایاب ہو چکی تھیں؟

ابھی کچھ دن پہلے ہی تو میں نے امی جی سے کہا تھا کہ "امی جی اب آسمان پر پرندے نظر کیوں نہں آتے؟"

آج مجھے اپنے سارے سوالوں کے جواب مل چکے تھے۔

مجھے درخت بھی اک سبق دے گیا اس درخت کے پتے کبھی خشک ہو کر جھڑ چکے تھے یہ درخت صرف لکڑی کی مانند تھا جس پر اک بھی پتہ موجود نہیں تھا۔پھر اس پر پتے اگے اور سرسبز ہو گیا اور آج موسم بہار میں اتنے خوبصورت پھول کھلے تھے۔شاید انسانوں پر بھی آج خزاں کا وقت ہے لیکن خزاں کے بعد ہمیشہ بہار آیا کرتی ہے۔

آج سب انسان اپنے گھر کے پنجرے مین قید تھے آج انسانوں کا شور نہیں بلکہ پرندوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔کل تک انسانوں کے ڈر سے پرندے گھونسلوں سے باہر نہیں نکلتے تھے اور آج انسان انسان سے ڈر کر پنجروں میں قید ہو گئے۔آج انسان پنجروں میں ہیں اور پرندے آزاد ہیں۔ہمیں ان پرندوں سے دوستی کر لینی چاہئے۔

ہمیں ان پرندوں کو قید کرنے کی بجائے ان کو کھانے کے لئے دانا ڈالنا چاہئے۔پینے کے لئے پانی رکھنا چاہئے۔سنا ہے پرندے اللہ تعالی کا زکر کرتے ہیں۔ان پرندوں نے ہی کعبہ کا طواف بھی کیا جب طواف موقوف ہو چکا ہے۔

ہمیں اللہ سے خود بھی اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔اور پرندوں سے بھی دوستی کرنی چاہئے ہوسکتا ہے کہ یہ پرندے بھی ہمارے لئے دعا مانگیں اور امن کا دور واپس آ جائے۔ہیمں اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے کی بجائے گھروں میں رہ کر اللہ سے دعائیں کرنی چاہئیں۔اور سحر کی امید نہیں چھوڑنی چاہئے۔

تا کہ جب تاریخ لکھی جائے تو اس میں یہ لکھا جائے کہ اک قوم تھی جو مشکل حالات میں بھی مایوس نہیں ہوئی بلکہ امید کا دامن تھامے رکھا.

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -