کورونا وائرس اور فراغت

کورونا وائرس اور فراغت
کورونا وائرس اور فراغت

  

تحریر: اقراء طارق

تاریخ سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ پہلے بھی دنیا میں وبائیں پھوٹتی رہی ہیں اور بہت سے لوگ ان وباؤں کا شکار بھی ہوتے رہے ہیں۔ لیکن میری طرح بہت سے لوگ اپنی زندگی میں پہلی بار ایسے حالات دیکھ رہے ہیں جن کا اس وقت ہمیں سامنا ہے۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے سکول، بازار،مساجد ہر جگہ ویران پڑی ہے اور لوگ گھروں تک محدود ہو گئے ہیں۔ بہت سے لوگ بد حواسی کا شکار بھی ہو گئے ہیں کہ نہ جانے اب کیا ہو گا۔ نہ جانے حالات پھر سے نارمل ہو پائیں گے یا نہیں اور اس طرح کے دیگر بہت سے سوالات۔ انسان خود کو جتنا بھی نارمل ظاہر کر لےلیکن خوف و ہراس کا شکار ہونا ایک فطری بات ہے۔ اور اس وقت سب سے زیادہ اہم بات یہ ہےکہ ہم کسی طرح اپنے حواس پہ قابو رکھیں اور اس کا بہترین حل ہے اس وقت کو مثبت انداز سے گزارنا۔ 

پہلے ہر کوئی یہ کہہ رہا ہوتا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں۔ لیکن اب اس وبا اور اس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو فراغت میسر آگئی ہے۔ 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم اس فارغ وقت کو کیسے گزاریں۔

زندگی اور حالات بہت غیر یقینی صورت حال اختیار کر گئے ہیں۔ بلاشبہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ موت اپنے مقررہ وقت پر آ کر رہے گی۔ اور اس کے ساتھ ہی ایسے حالات میں بھی ہم خدا کی رحمت سے مایوس نہیں۔ لیکن پھر بھی اگر ہم چاہیں تو اس فراغت کا بہت اچھا استعمال کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور اعمال کی درستگی کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو از سر نو استوارکرنا چاہیے۔

اس وقت میں آپ قرآن پاک مکمل کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ ترجمے اور تفسیر کے ساتھ قرآن پاک پڑھیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اللہ پاک کے کلام کو سمجھنے میں زیادہ مدد ملے گی۔ مزید یہ کہ آپ قرآن مجید کی سورتیں یاد کر سکتے ہیں۔

فرض نمازوں کے ساتھ نوافل ادا کر سکتے ہیں۔ اور وہ تمام دعائیں جو بچپن میں ہمیں یاد کروائی جاتی ہیں اور عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم دنیاوی کاموں میں اتنے الجھ جاتے ہیں کہ دعائیں، سورتیں اور کلمے بھول جاتے ہیں۔ تو اب بہترین وقت ہے تمام بھولی ہوئی سورتیں اور دعائیں یاد کرنے کا۔

اس کے علاوہ آپ اچھی کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس میں دینی کتب بھی شامل ہیں جیسا کہ شریعت کے حوالے سے، سیرت طیبہ کے حوالے سے، اصحاب اور خلفائے راشدین کے حوالے سے اور دیگر ادبی کتب بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

یہ وقت فیملی کے ساتھ بھی بھرپور طریقے سے گزارا جا سکتا ہے۔ ان ڈور گیمز کھیلی جا سکتی ہیں۔ مل بیٹھ کے مختلف موضوعات پہ ڈاکومینٹریز دیکھ سکتے ہیں جس سے آپ کے نالج میں اضافہ ہو۔

اگر آپ لکھاری ہیں تو کوئی نئی تحریر لکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی ڈرائنگ اچھی ہے تو کچھ اچھا سا Draw کر سکتے ہیں۔ غرض کہ اس طرح سے آپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید پالش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ اس وقت میں بہت سی نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔

مزید برآں اگر آپ میں کسی صلاحیت کی کمی ہے تو آپ اس پہ کام کر کے اس میں خاطر خواہ بہتری لا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پہ بہت سے لوگوں کی رائٹنگ اچھی نہیں ہوتی تو وہ لوگ اپنی لکھائی پہ کام کر کے اسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کی اردو یا انگریزی اچھی نہیں ہوتی تو وہ ان دنوں گرامر کی مدد سے اس میں بہتری لا سکتے ہیں۔

اگر آپ کے گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ انھیں بھی اس کام میں اپنے ساتھ شریک کر سکتے ہیں اس طرح انھیں بھی خاطر خواہ فائدہ ہو گا اور وہ اس وقت کو ہر وقت کارٹون دیکھنے میں اور گیمز کھیلنے میں ضائع نہیں کریں گے۔

زندگی میں ہمیشہ آپ نے بہت سے کام سوچیں ہوں گے کہ اگر کبھی وقت ملا تو ضرور کروں گا یا کروں گی۔ تو سمجھ لیجیے یہ وہی وقت ہے اور جو بھی کرنا چاہتے ہیں کر ڈالیے۔ 

ایک اور اہم بات یہ کہ سوشل میڈیا نے اپنوں کے ساتھ رابطہ بہت سہل بنا دیا ہے۔ کوشش کریں اپنے تمام جاننے والوں کو ایک بار کال کر لیں ان کے ساتھ بات کر لیں۔ جو روٹھے ہیں انھیں منا لیں۔ 

کورونا وائرس دنیا پہ کسی عذاب کی طرح نازل ہوا ہے۔ ہم بے شک خدا کی ذات سے نا امید نہیں لیکن انسان علم غیب سےناواقف ہے۔ ہم نہیں جانتے آنے والے دنوں میں حالات کیسے ہو جائیں۔ اس لیے کوشش کریں اور اپنوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔

لیکن ایک بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ خود کو گھروں تک محدود رکھیں۔ نا اپنے لیے خطرہ بنیں اور نہ ہی دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالیں۔

اللہ پاک آپ کا،میرا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -