مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی یلغار،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی یلغار،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام ...
مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی یلغار،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اورمظالم کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے جاری کوششوں کے تحت وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو پھر خطوط لکھے ہیں اور ان کی توجہ بھارتی جبرو تسلط اور ظالمانہ کارروائیوں کی طرف دلائی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری کو جنرل 5 اگست 2019 سے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم سے متعلق زمینی حقائق سے مسلسل آگاہ کرتے آئے ہیں جس سے جنوبی ایشیاکی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ 9 مارچ 2020کو بھجوائے گئے اپنے حالیہ خط میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک ہونے کے جھوٹے بھارتی بیانیہ کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کے کشمیری نوجوانوں کے لئے ڈی ریڈیکلائزیشن کیمپس قائم کرنے کے قابل مذمت بیان کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے 12 دسمبر2019کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کو اجاگر کیا اور زور دیا کہ بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرسکتا ہے۔

مزید برآں وزیر خارجہ نے بھارتی وزیراعظم کے پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سمیت بھارتی قیادت کے غیرذمہ دارانہ بیانات کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ وزیر خارجہ نے خاص طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی فتنہ پردازی اور شرانگیزی کو بے نقاب کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کشمیریوں کی جائیدادوں کو زبردستی غبن کرنے اور چھ ہزار ایکڑ غیرکشمیریوں کو الاٹ کرنے کی طرف دنیا کی توجہ دلائی جو عالمی قانون اور چوتھے جینیوا کنونشن کی صریحا اور کھلی خلاف ورزی ہے۔ وزیر خارجہ نے فروری 2020میں نئی دہلی میں مسلمانوں کو دانستہ ہدف بناکر قتل کرنے کی طرف دلائی اور زوردیا کہ یہ واقعات اکثریت کی بنیاد پر ایک متعصبانہ، نسلی برتری کے زعم اور ہندتوا کی انتہاپسندانہ سوچ کا واضح مظہر تھے۔

اپنے خط میں وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیامیں پائیدار امن و سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعہ کشمیر کا مستقل اور منصفانہ حل نہیں ہوگا۔ سلامتی کونسل کے پاس یہ معاملہ ہنوز موجود ہے اور سلامتی کونسل اپنی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں کشمیر کے عوام کو ان کا پیدائشی، ناقابل تنسیخ استصواب رائے کا حق دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ وزیرخارجہ کے خط پر عمل درآمد کے سلسلے میں پاکستان نے کورونا کی وباکے پیش نظر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کمیونیکیشن قدغنیں فوری اٹھانے اور محصور کشمیری عوام کو ادویات، ضروری اشیااور سامان کی فراہمی کا پر زور مطالبہ کیا۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -