میرے شہر کے پراسرار لوگ!

میرے شہر کے پراسرار لوگ!
میرے شہر کے پراسرار لوگ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اندھا دھند شہروں میں سے ایک شہر گوجرانوالہ ہے اگر آپ لاہور یا دیگر قریبی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ نے یہ شہر کبھی نہ کبھی تو ضرور دیکھا ہوگا اگر نہیں بھی دیکھا تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں،میں آپ پریہ گھناؤنا الزام ہرگز نہیں  لگاؤں گا  کہ آپ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے، تقریبا پچاس لاکھ کی آبادی کے اس شہر کو پہلوانوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ سری پائے، مغز، لسی اور خشک میوہ جات پہلوانوں کی خوراک کا ایک اہم جز ہوتے ہیں مگر آجکل مہنگائی اپنے عروج پر ہے لہذا پہلوانوں کی تعداد میں بھی خاصی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ماہرین کے مطابق اگر ایسے ہی حالات رہے تو آئندہ چند برسوں میں ملک کو شدید پہلوانی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس پراسرار شہر کے کھانوں کے چرچے بھی ملک گیر ہیں یہاں کے پہلوانوں کی ایک پسندیدہ ڈش بکرا روسٹ ہے یہ بکرے سوائے لاہور کے ملک کے مختلف شہروں سے منگوائے جاتے ہیں اور لاہوری بکرے نہ منگوانے کی وجہ آپ جانتے ہی ہیں۔لاہوری بکروں میں لاہور یوں کے مطابق کچھ ریادہ فرق تو نہیں ہوتا،بس پچھلی ٹانگیں تھوڑی لمبی اور باریک ہوتی ہیں۔


چڑے یہاں کی ایک مشہور سوغات سمجھی جاتی  ہے اگر آپ کبھی گوجرانوالہ آئے ہیں تو چڑے تو ضرور کھائے ہی ہوں گے اگر نہیں بھی کھائے تو کوئی بات نہیں میں نے کھائے ہیں چڑے کھانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے میرے ایک پہلوان دوست نے بچپن میں ایک مرتبہ چڑے کھانے کی کوشش کی تھی جس کے بعد وہ شدید صدمے میں چلا گیا اور طبیعت اتنی بگڑ گئی کہ ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر جواب دے دیا کہ اینوں لاہور لے جا ان کو لاہور لے جائیں، کیونکہ وہ پہلوان تھا اس لئے دو ماہ تک بٹ کڑاہی پر دیسی مرغ سے اس کا علاج کیا گیا۔ مگر پھر بھی اپنی ذہنی تسلی کی خاطر میں نے بازار جاکر چڑے کھانے کا ارادہ کیا جس پر میرے والدین نے مجھے روکنے کی بے انتہا کوشش کی مگر میں نہ رکا اور اپنے ایک دیرینہ دوست کے ساتھ چڑے کھانے بازار جا پہنچا،مگر پھر مجھے یہ احساس ہوا کہ والدین ہمیشہ اولاد کا بھلاہی سوچتے ہیں۔ چڑے کھانے کے بعد یوں محسوس ہوا گویا میں نے چڑے نہیں بلکہ دھوکا کھا لیا ہو،میرا آپ کو برادرانہ مشورہ ہے کہ اگر کبھی زندگی میں آپ کے پاس چڑے اور دھوکا کھانے میں چوائس ہو تو بلاجھجک دھوکا کھانے کا انتخاب کیجئے کم از کم بندہ کسی کو یہ بتانے لائق ضرور ہوتا ہے کہ کچھ کھا کے آیا ہوں۔


 مزید یہ کہ گوجرانوالہ کی مٹی نے بہت بڑے اور"عظیم" نام پیدا کیے ہیں۔ فی الحال بڑے نام تو میرے ذہن میں نہیں ہیں مگر بہت سے ”عظیم“ نام جیسا کہ خواجہ محمد عظیم اور”رانا عظیم“ ضرور یاد ہیں۔جن کی عظمت کے قصے صرف وہ  ہی آپ کو سنا سکتے ہیں۔گوجرانوالہ کے لوگ انتہائی ”نفیس“ اور ”محب وطن“ ہوتے ہیں آپ حاجی نفیس صاحب ہی کو دیکھ لیجئے حاجی صاحب کوئی عام آدمی ہرگز نہیں ہیں وہ ایک منفرد انسان ہیں، جو کھانے کے ساتھ پانی کی جگہ سگریٹ پیتے ہیں، حاجی صاحب کی عمر کم و بیش 70سال ہو گی مگر آج بھی وہ محلے کے بگڑے ہوئے لڑکوں کو دعاؤں کی جگہ سگریٹ دیتے ہی نظر آتے ہیں، ایک بار مجھ جیسا کوئی کم عقل انہیں سگریٹ نوشی کے نقصانات بتانے بیٹھا تو اسے یہ کہہ کر جھاڑ دیا کہ وہ سگریٹ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اس پر ٹیکس ادا کر کے ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پیتے ہیں۔ گوجرانوالہ کی تاریخ میں حب الوطنی کی ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں مگر ان کا ذکر میں یہاں پر مناسب نہیں سمجھتا۔


 آپ جب کبھی گوجرانوالہ آئیں تو ہمیشہ خالی پیٹ اور خالی جیب آئیں کیونکہ یہاں آپ کو آتے ساتھ  سب سے پہلے چائے پانی کا پوچھا جائے گاگھروں میں بھی اور تھانوں میں بھی۔  گوجرانوالہ کے لوگوں کے بہت سے مسائل ہیں ایک سنجیدہ اور اہم مسئلہ جو ہر گھر کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ آج کھانے میں کیا پکے گا جمعہ کے روز اس مسئلہ پر باقاعدہ ایک کانفرنس منعقد کی جاتی ہے جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی اظہار رائے کا مکمل حق دیا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں مردوں کے خلاف کوئی عورت مارچ بھی نہیں ہوتے۔ یہاں پر ہمیشہ آدھے لوگوں کو کھانا کھانے اور آدھے کو پکانے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ یہاں لوگ کھانے کے لیے ہی جیتے ہیں اور اسی پر مرتے ہیں۔ گوجرانوالہ میں بہت سی تاریخی چیزیں بھی پائی جاتی ہیں جیسا کہ رانا صاحب اور ان کا باوا آدم کے زمانے کا پرانا گھر نہ تو آج تک اس گھر کو کچھ ہوا ہے اور نہ ہی رانا صاحب کو مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ طلبہ اور بچوں کو ہوا ہے جنہیں اب عجائب اور چڑیا گھر دیکھنے لاہور نہیں جانا پڑتا۔


گوجرانوالہ میں لوگوں کے لئے بہت سے باغ بھی ہیں جن میں سب سے مشہور" سبز باغ" ہیں جو  یہاں کے لوگوں کو ہر حکومت کی طرف سے جدید ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کے قیام کا کہ کر دکھائے جاتے ہیں اور موجودہ حکومت تو اس کا اعتراف بھی کر چکی ہے، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ "سبز باغ" لگانا اور دکھانا دونوں خان صاحب کے ویژن کا حصہ ہیں اسی لیے گوجرانوالہ کے لوگ سیاستدانوں اور صحافیوں پر بھی بہت شک کرتے ہیں سیاستدانوں کا تو پتہ نہیں البتہ صحافیوں پر شک کرنے کی وجہ صرف بلاوجہ کا شک ہے۔


 یہاں پر لوگ مہنگائی سے بہت پریشان ہیں،کیونکہ اب انہیں صبح ناشتے میں اپنی خالص لسی میں پانی زیادہ ملانا پڑتا ہے، موجودہ حکومت کی مہنگائی کا سب سے زیادہ شکار معروف قانون دان وقار حسین بٹ صاحب کے بیٹے اور ایک پرانے  دوست عاکف وقار بٹ پہلوان ہوئے ہیں، جن کا پہلوانی وزن ایک سو ستر کلو سے سیدھا ستر کلو پر آگیا ہے، جس پر دیگر پہلوان برادری نے ناقص حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے،میری بزدار صاحب سے ایک اور گزارش ہے کہ آپ نے اربوں کے۔ منصوبوں کا اعلان کر کے حاتم تائی کی قبر پر لات مارنے کی کوشش تو کر دی ہے کیا ہی ہوتا کہ آپ یہاں کے بچارے ریلوے پھاٹک ملازمیں کی کئی ماہ سے سرکاری خزانوں میں پھنسی چند لاکھ تنخواہوں کا بھی اعلان کر دیتے تو شاید  پہلوانوں کی آمد و رفت کے لیے یہاں کا  لاہوری پھاٹک بھی کھل جاتا……

مزید :

رائے -کالم -