صاحب علم اور صاحب عمل لوگ ہی حکمران بننے کے قابل ہیں

صاحب علم اور صاحب عمل لوگ ہی حکمران بننے کے قابل ہیں
صاحب علم اور صاحب عمل لوگ ہی حکمران بننے کے قابل ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف :ملک اشفاق
قسط: 13
 افلاطون نے فلسفے کی تعلیم میں امتحانوں اور آزمائشوں کا کڑا سلسلہ رکھا ہے۔ جو انسانی فطرت کو فلسفے کے مطابق ڈھال دیتا ہے اس سے کئی خامیاں دور ہو جاتی ہیں ان امتحانات میں سب سے بہترین کارکردگی دکھانے والے ریاست کے حکمراں بننے کے قابل ہوتے ہیں۔ اپنی زندگی کے اگلے 15 برسوں کو یہ لوگ ریاست کے انتظامی امور کے لیے وقف کر دیں اور اپنی قابلیت سے ریاست کو امن کا گہوارہ بنا دیں اور یہ زمانہ بھی ان کی آزمائشوں میں ہی شمار ہوگا جو اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرےگا وہ ہی بڑی ذمہ داریوں اور بڑے اعزاز کا مستحق ہوگا اس عرصے کے بعد یہ لوگ اپنا وقت غور و فکر میں صرف کریں اور کچھ وقت ریاست کے عملی فرائض انجام دینے میں اور آنے والی نسلوں کو ریاست کی خدمت اور حفاظت کےلئے تیار کرنے کےلئے وقف کر دیںگے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اور علم اس لیے نہیں ہے کہ اس سے خود مستفید ہوا جائے بلکہ اسے انسانیت کی فلاح و بہبود کےلئے استعمال کیا جائے۔ فلسفے اور علم سے انسان کے ذہن، صلاحیت، سیرت اور شخصیت کی بہترین تکمیل ہوتی ہے۔ مکمل شخصیت کا حامل فرد ہی اجتماعی فلاح و بہبود میں بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔
 افلاطون کے مطابق یہی صاحب علم اور صاحب عمل لوگ حکمران بننے کے قابل ہیں اور یہی لوگ اپنی فہم و فراست سے حکومت میں جہالت اور خود غرضی کا خاتمہ کر سکتے ہیں یہی لوگ بے لوث حکمران ثابت ہو سکتے ہیں ان کا مطمع نظر صرف انسانیت کی فلاح ہوتا ہے۔ یہ ایمانداری اور دیانت داری سے اپنے فرائض کو انجام دیتے ہیں کیونکہ ریاست کے انفرادی اور اجتماعی مقاصد ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ ان کے پیش نظروہ بہتر حکومت کر سکتے ہیں اور یہ حکومت کرنے کےلئے قانون اور بے جا رسم و رواج کی بندش سے آزاد ہوتے ہیں۔
 افلاطون نے حکومت کو مذہب، ادب و آرٹ پر فوقیت دی ہے۔ اس طرح ریاست کے بہت سے کام سمٹ گئے ہیں۔ عام طور پر ریاست کے خاص کاموں میں قانون بنانا اور اسے نافذ کرنا وغیرہ شامل ہوتا ہے لیکن افلاطون کو اپنی تعلیمات کے نتائج پر اس قدر اعتماد ہے کہ وہ حکومت کے دوسرے شعبوں یعنی طبیبوں و عدالتوں وکیلوں وغیرہ کی نسبت بہتر تعلیم کو ترجیح دیتا ہے اس کے مطابق بہتر تعلیم کی موجودگی میں جسمانی و روحانی امراض کی گنجائش نہیں رہتی۔ افلاطون علم کے ذریعے امراض اور ان کی علامات کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتا ہے۔ وہ ریاست کو ایک تعلیمی ادارہ قرار دیتا ہے جس کا اصل کام علم کی ترویج ہے کیونکہ علم کے ذریعے ہی ریاست میں خوشحالی اور ترقی لائی جا سکتی ہے اور ایک مثالی ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔ 
نظریہ اخلاقیات
پروٹاگورس نے جوانفرادی خیر کے متعلق نظریہ پیش کیا تھا اس کے بعد آنے والوں نے اس نظریہ کو پروٹاگورس کی طرح ہی حل کرنا چاہا لیکن اس میں کچھ زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی۔
 اگرچہ اجتماعی خیر ہی اہم ترین چیز ہے اس لیے سقراط کی کل تعلیم اور اس کی موت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اجتماعی خیر و فلاح ایسی غایت ہے جو انسانوں کو افادیت دینے کے علاوہ خیر کرنے والے کی بھی فلاح کرتی ہے۔ سقراط کی اسی اجتماعی خیر و فلاح کے حوالے سے افلاطون کو سقراط کا حقیقی جانشین تسلیم کیا جاتا ہے۔ افلاطون نے اجتماعی خیر کے تعلق کو انفرادی خیر سے مسبوط کرکے دیرینہ مسئلہ کو حل کیا۔ افلاطون، ارسطو اور دیگر یونانی فلاسفہ نے حقیقی علم کی غایت کو اخلاقیات کا جزولا ینفک بنا دیا۔ افلاطون کا کہنا ہے کہ خیر انسانی فطرت کا اہم ترین پہلو ہے بلکہ یہ انسان کی حقیقی فطرت ہے۔
 افلاطون کا نظریہ اخلاقیات کچھ تو انفرادی خیر سے بحث کرتا ہے اور زیادہ تر اجتماعی خیر سے، اس کے علاوہ انفرادی اور اجتماعی خیر کے باہمی تعلق سے بحث کرتا ہے۔ افلاطون نے اپنی معروف کتاب ” جمہوریہ“ میں خیر کے ان تینوں پہلوﺅں پر روشنی ڈالی ہے۔ لیکن افلاطون نے اپنی کتاب ”فلی بس“ میں زیادہ تر انفرادی خیر سے بحث کی ہے افلاطون کی ان دونوں کتابوں سے اخلاقیات کا ایک بہترین نظام مرتب کیا جا سکتا ہے۔فلسفہ اخلاق اور خیر کے حوالے سے افلاطون نے اپنے طرز بیان کو نہایت ادیبانہ رکھا ہے۔ کیونکہ خیر، نیکی اور اعلیٰ اخلاق کا تقاضہ ہے کہ ان کو بیان کرنے کےلئے بہترین الفاظ استعمال کئے جائیں۔( جاری ہے )
نوٹ : یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -