واللہ خیرالمٰکرین

  واللہ خیرالمٰکرین
  واللہ خیرالمٰکرین

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان بھر کے عوام کوعمران خان کے سرپرائز کا انتظار ہے۔ ان کے حامی کسی انہونی کے منتظر ہیں۔ ان کا اب بھی یہی خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی نواز شریف اور زرداری سے ذاتی دشمنی ہے۔ اگر ایسا تھا بھی تو یہ معاملہ چند ایک افراد تک محدود تھا جو کسی کی باقیات کی شکل میں اکٹھے ہوکر عمران خان کو قابل قبول بنا رہے تھے اور جمہوریت کی نوک پر اس ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے ایک ایک کرکے ایوان وزیر اعظم تک پہنچنے کے لئے عمران خان کے راستے کی رکاوٹوں کو ہٹایا تھا،لیکن وہ بھول گئے تھے کہ اللہ سب سے بڑا  ہے اوروہ جب چاہے کہ کسی کے بڑھے ہوئے قد کو گھٹا سکتا ہے اور دراز چھوڑی ہوئی رسی کو کھینچنے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ اپنے اور اپنے نبیؐ کے نام پر بننے والے ملک کی حفاظت کرنا خوب جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بغض میں جلنے والے عناصر کی کھمپ ٹھپی جارہی ہے اور ان کے سینے پر دال مونگی جا رہی ہے۔ ان کی حالت دوسری جنگ عظیم کے ان بزدل سپاہیوں کی ہے جو ابھی تک یہ سمجھ کر برما کے جنگلوں میں چھپے ہوئے ہیں جنگ ابھی جاری ہے۔ 


2014سے لے کر اب تک اس ملک میں جو سیاسی اودھم مچایا گیا اس کے آخر میں آج جمہوریت دوبارہ سے توانا ہونے جا رہی ہے۔ گملوں میں لگی پنیری کو ایوان وزیر اعظم میں جا لگانے کی روش کو ایک بار پھرشکست ہوئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نوازحلقوں کو حیرانی ہو رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس قدر بے بس کیوں نظر آرہی ہے۔ یہاں تک کہ شیخ رشید نے یہ کہہ کر شہہ دینے کی کوشش کی ہے کہ فوج بھولی نہیں ہے کہ نواز شریف نے گالیاں دی تھیں۔ دوسری جانب عمران خان آصف زرداری کو اپنی بندوق کی شست پر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں زرداری سے اچھے کی توقع تھی۔ کیوں نہ ہوتی کہ 2020ء کے آخر میں بھی تو زرداری نے پی ڈی ایم کی تحریک کو بیچ منجدھار غرق کیا تھالیکن پھراللہ نے اپنی چال چلی اورنواز شریف کوسیاست سے آؤٹ کرنے والے اور انہیں سیاست سکھانے کادعویٰ کرنے والے آج خود سیاست سے آؤٹ ہوگئے ہیں اور ہر فیصلے پرنواز شریف کی تائید کے منتظر پائے جاتے ہیں۔ آج ان کی مخالفت میں چیخ چیخ کر بولنے والے اینکروں کے منہ بند ہو گئے ہیں اور ان کا حال وہی نظر آرہا ہے جو کبھی ہاتھی والوں کا ہواتھا۔ آ ج زرداری بھی نواز شریف سے پوچھ کر چلتے ہیں، شہباز شریف کی مفاہمت کی پالیسی ان کا مذاق بنی ہوئی ہے اور چودھری پرویز الٰہی پشت پر بندھے ہاتھوں کے ساتھ نواز شریف کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ مرحومہ کلثوم نواز اور مریم نواز کو ان کے صبر کا پھل ملنے والا ہے۔ انہوں نے جس جوانمردی سے اپنے خاندان کی اڑائی جانے والی بھد کو برداشت کیا تھا، اس کا انعام ملنے جا رہا ہے۔ کلثوم کے باؤ جی کا صبر ان کے دشمنوں پر الٹا پڑنے والا ہے۔ ان پر تنقید کے ڈونگرے برسانے والے آج ٹی وی سکرینوں پر چپ سادھے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ بے شک اللہ سب سے بہتر حکمت والا  ہے!
اسٹیلشمنٹ کا کندھااستعمال کرنے والے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس پر انہیں یقین نہیں آرہا ہے۔ وہ10لاکھ تو کیا 10کروڑ کی تعداد میں بھی اکٹھے ہو جائیں تو بھی ان کی د ال نہیں گلنے والی ہے۔ ان کے برے ارادے اہل پاکستان پر آشکار ہوچکے ہیں۔ وہ مکافات عمل کے کرب سے گزر رہے ہیں۔انہیں ذلت و رسوائی کا سامان باندھنا پڑا ہے۔ اب تو لگتا ہے کہ عمران خان کے اردگرد کھڑے حواری بھی ان سے مخلص نہیں ہیں۔ وہ بھی عمران خان کے تکبر اور انا کے ڈسے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ بھی انہیں دھوکہ دینا عین حق سمجھتے ہیں۔ اس وقت پروین شاکر یاد آرہی ہیں کہ 
عقب میں گہرا سمندرسامنے کھلا جنگل
کس انتہا پہ  مجھے میرا مہربان چھوڑ گیا 

ایک آصف زرداری ہی نہیں بلکہ حواری بھی عمران خان کونشان عبرت بنانے پر تلے نظر آتے ہیں اور ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کو شہ دینے والے بھی ننگے نظر آرہے ہیں اور وہ بھی ٹی وی سکرینوں  پر بیٹھے عمران خان کی ناکامی کا اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں اور نواز شریف کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں پاکستانیوں کی مایوسی دیدنی تھی کہ جو کچھ انتخابات کے نام پر اس ملک میں ہوا وہ ان کی برداشت سے باہر تھا۔ ان کے قیافے اور اندازے الٹ پڑگئے تھے اور فیصلہ سازوں کی کوتاہ نظری پرکڑھتے نظر آتے تھے لیکن آج فین فالونگ کافالودہ بنے دیکھنے کا وقت آن پہنچاہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سب سے طاقتور نظر آنے والا شخص تنہاہوتا جا رہاہے اور اپنے غرور اور تکبر کی سولی پر چڑھا ہواہے اور ہوس اقتدار نے اس کے اوسان خطا کئے ہوئے ہیں،وہ گھبرایا ہواہے۔ ایسا نہیں ہے کہ لوگ اس کے لئے خودسوزیوں پر تلے ہوئے ہیں، سڑکوں کو بند کرکے پہیہ جام کئے بیٹھے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پردیکھیں تو وہ قیمتی گاڑیوں میں ہلہ گلہ کرتے جھومتے جھامتے پریڈ گراؤنڈ کی جانب رواں دواں ’عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘ کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس ان کے پریڈ گراؤنڈ میں پہنچنے کی دیر ہے اسٹیبلشمنٹ بندوقیں اٹھائے ان کاہراول دستہ بن کر کھڑی ہوجائے گی۔انہیں اب بھی امید ہے کہ سپریم کورٹ سے ان کے لیڈر کے اقتدار کو دوام کا سرٹیفکیٹ مل جائے گا لیکن اب بہت دیرہوچکی ہے، یہ پہیہ الٹا گھومنے والا نہیں ہے، دیوار پر لکھے کو مٹایا نہیں جا سکتا ہے اور غلطیوں کو سدھارانہیں جا سکتاہے کہ فیصلہ کرنے والے فیصلہ لکھ کرقلم توڑ چکے ہیں، اب شکست کا مزا چکھناہوگا!

مزید :

رائے -کالم -