ایک سیاست سو د ستانے 

 ایک سیاست سو د ستانے 
 ایک سیاست سو د ستانے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 موجوہ حالات میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو یقین سے کہہ سکے آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔ صورتِ حال اس قدر الجھی ہوئی ہے، کہ محبوب کی لٹ بھی شرمانے لگی ہے۔ بس جھوٹ کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور دعوؤں کا جمعہ بازار جاری ہے۔ اوپر سے کپتان کی شعلہ بیانی ہے، وہ آئے روز کچھ نیا لے کر آ جاتے ہیں، آج کل انہوں نے تین چوہوں کی گردان شروع کر رکھی ہے۔ غالباً انہیں بچپن میں پڑھی ہوئی وہ نظم یاد آ رہی ہے جو تین چوہوں کے شکار سے متعلق ہے جو آخر میں خود شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بات تو واضح ہو چکی ہے عمران خان اپنے مخالفین کو لتاڑنے سے باز نہیں آ سکتے۔ وہ خود کہتے ہیں میں ڈیزل کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا مگر عوام کی وجہ سے زبان پر آ جاتا ہے۔ ہماری سیاست کے ڈھنگ نرالے ہیں۔ اس میں شعبدہ بازی زیادہ ہے۔ اس دور میں تو سیاست کا چلن گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہا ہے۔ اس وقت کتنے ہی فریق ہیں جو اپنی اپنی چال چل رہے ہیں، صاف لگ رہا ہے کہ ہر فریق اپنے داؤ پر ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی بات تو چھوڑیئے آپس میں عدم اعتماد کا عالم یہ ہے کہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ نجانے کون کہاں راستہ بدل جائے، والی صورتِ حال ہے ایک میلہ حکومت کے اتحادیوں نے لگا رکھا ہے۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں، حکومت میں بیٹھے ہیں لیکن پھر بھی کہتے ہیں ہم حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ وقت آنے پر کریں گے۔ ہرجائی محبوب کی طرح ان اتحادیوں نے حکومت اور اپوزیشن کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے۔ پتہ نہیں کیا کچھ مانگ رہے ہیں جو انہیں مل نہیں رہا۔ تاہم ان کی وجہ سے ملک میں بے یقینی ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔


شکر ہے کپتان نے اپنا رخ ابھی اپنے اتحادیوں کی طرف نہیں کیا۔ جس طرح وہ بلا ثبوت یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہمارے ارکانِ اسمبلی کو 20 کروڑ روپے دے کر خریدا گیا ہے، اسی طرح وہ اتحادیوں پر بھی الزام لگا سکتے ہیں کہ وہ مال بنانے کے لئے اپوزیشن سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ اگر حکومت کے اتحادی اپوزیشن کی طرف گئے تو وزیر اعظم عمران خان کی توپوں کا رخ ان کی طرف بھی ہو جائے گا۔ آج کپتان اسلام آباد میں ایک بڑا میچ کھیلنے جا رہے ہیں انہوں نے اسے حکومت کے حق میں ریفرنڈم قرار دیا ہے۔ جس طرح ملک بھر سے قافلوں کا رخ اسلام آباد کی طرف ہے، اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک بڑا جلسہ ہوگا۔ اس جلسے میں کپتان نے سرپرائز دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ خوش فہمی میں رہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان اس جلسے میں مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں تاکہ ملک میں نئے انتخابات ہوں اور وہ پہلے سے بڑے مینڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آئیں۔ یہ ایک آپشن تو ہے مگر کپتان اسے شاید ہی استعمال کریں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ان کے بڑے بڑے جلسے ان کی انتخابی مہم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسا ٹمپو بنا رہے ہیں کہ اقتدار سے جانا بھی پڑے تو عوام کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ابھی موجود ہے۔ اسلام آباد کا جلسہ بھی ان کی اس مقبولیت کو ثابت کر دے گا۔ مگر اس وقت لاکھوں کے جلسے کی نہیں بلکہ ان 172 ارکان کی ہے، جو عمران خان کے ساتھ نہ رہے تو انہیں گھر جانا پڑے گا۔ کیا ان جلسوں کے دباؤ کی وجہ سے ان کا ساتھ چھوڑنے والے واپس آ جائیں گے؟ کیا اتحادی ان جلسوں کا حجم دیکھ کر اپوزیشن کی طرف جانے کا اپنا فیصلہ بدل دیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف اسی دن ملے گا جب تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی۔

اس بے یقینی کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے والے مافیاز کی چاندی ہو چکی ہے۔ حکومت کو کچھ خبر ہے اور نہ پروا اور نہ کسی ادارے کو غرض کہ اس دوران غریبوں پر کیا بیت رہی ہے۔ ابھی کل ہی محکمہ شماریات نے مہنگائی کے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی میں دس فیصد مزید اضافہ ہو گیا ہے، گھی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آٹا، دالیں اور مرغی کا گوشت بھی روزانہ کے تناسب سے مہنگا ہو رہا ہے۔ اُدھر ڈالر مہنگا کرنے والوں نے ات مچا رکھی ہے اور اس کی قیمت بڑھتی، روپے کی گرتی جا رہی ہے۔ ابھی چند روز بعد ماہ رمضان شروع ہونے والا ہے ہمارے تاجر اس موقع پر چھریاں چاقو تیز کر لیتے ہیں کل میں اپنے پھل فروش کے پاس گیا، اس نے مجھے کہا بابو جی آپ کے پاس ڈیپ فریزر ہے؟ میں نے کہا ہاں موجود ہے، کہنے لگا، سیب، امرود، کیلے اور خربوزے ابھی سے خرید کر رکھ لیں رمضان میں انہیں آگ لگ جائے گی۔ میں نے اس کے ہمدردانہ مشورے کا شکریہ ادا کیا اور سوچنے لگا یہ قیمتوں کو آگ لگانے والے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں سنتے ہیں جب یورپ میں کرسمس میں آتا ہے تو قیمتیں آدھی کر دی جاتی ہیں، ہمارے ہاں قیمتیں رمضان شریف اور عید پر دوگنا بلکہ تین گنا کر کے ثواب دارین حاصل کیا جاتا ہے اس بار تو حکومت کو اپنی پڑی ہوئی ہے، ویسے بھی وزیر اعظم کہہ چکے ہیں انہیں آلو ٹماٹر کی قیمتوں سے کوئی غرض نہیں وہ تو قوم کو اٹھانے آئے ہیں اس لئے جیسے بسوں میں لکھا ہوتا ہے سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے۔ اسی طرح اس بار مہنگائی سے بچنے کا بندوبست بھی عوام کو خود ہی کرنا پڑے گا۔ اب آپ پوچھیں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے روزہ پانی سے افطار کریں اور سحری میں دو سوکھی روٹیاں کھا کر حکومت کو دعائیں دیں کہ اس نے کم از کم پانی اور سوکھی روٹی کی سہولت تو دی ہوئی ہے۔ یہ بھی چھین لے تو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -