پاکستان مسلم لیگ (ن) متحدہ عرب امارات میں اب اتحاد و اتفاق کے آثار پیدا ہونے لگے

پاکستان مسلم لیگ (ن) متحدہ عرب امارات میں اب اتحاد و اتفاق کے آثار پیدا ہونے ...
 پاکستان مسلم لیگ (ن) متحدہ عرب امارات میں اب اتحاد و اتفاق کے آثار پیدا ہونے لگے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دبئی (طاہر منیر طاہر) پاکستان مسلم لیگ (ن) متحدہ عرب امارات جو ایک عرصہ سے انتشار اور نااتفاقی کا شکار چلی آرہی تھی اس میں اب اتحاد و اتفاق کے آثار پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے راہنما سینیٹر و ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم اعوان نے دبئی میں ایک تقریب کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) یو اے ای کے صدر غلام مصطفی مغل اور ان کے برادر حقیقی عبدالمجید مغل کے درمیان صلح کروادی۔ اس موقع پر پی ایم ایل این امارات کے اہم اراکین راجہ محمد بنگیال، راجہ عابد حسین، غلام محی الدین، محمد شہزاد بٹ، عامر سہیل گھمن، جان قادر اور مسلم لیگ (ن) امارات شعبہ خواتین کی صدر فرزانہ کوثر بھی موجود تھیں۔
صلح کے لیے تقریب کا اہتمام مسلم لیگ (ن) دبئی کے نائب صدر غلام محی الدین نے پاک صوفی ریسٹورنٹ پر سینیٹر عبدالقیوم اعوان کی خواہش پر کیا تھا۔ اس موقع پر دونوں حقیقی بھائیوں عبدالمجید مغل اور غلام مصطفی مغل کے گلے شکوے سننے کے بعد ہاتھ ملا کر صلح کروادی گئی جس پر تالیاں بجا کر اور داد و تحسین دی گئی اور صلح کے عمل کو سراہا گیا۔ اس موقع پر عبدالقیوم اعوان نے کہا کہ آج انہیں یہ ایک پاک فریضہ انجام دے کر بے حد خوشی ہورہی ہے کہ دو بھائی آپس میں مل بیٹھے ہیں اور تمام شکوے شکایات دور ہوگئے ہیں۔ ان کی صلح سے مسلم لیگ (ن) امارات پر بڑا خوش گوار اثر پڑے گا جس سے مسلم لیگ (ن) مزید مضبوط ہوگی۔ ویمن ونگ کی صدر فرزانہ کوثر نے اس موقع پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو فائدہ آپسی اتفاق میں ہے نفاق میں نہیں ہے لہٰذا ہم سب کو صلح صفائی کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیے کیونکہ اتحاد و اتفاق میں برکت ہے۔

 اس موقع پر دیگر متذکرہ رہنماﺅں نے بھی خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عبدالقیوم اعوان کی مثبت کوشش کو سراہا اور آپسی اختلافات ختم کرنے پر دونوں بھائیوں کو مبارکباد دی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی خاطر ایک ساتھ مل کر چلنے کا عزم کیا۔ مسلم لیگ (ن) امارات کے دیگر عہدیداران نے بھی یہ نیک کام سرانجام دینے پر عبدالقیوم اعوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا یہ وہ مشکل کام تھا جو ان کے ہاتھوں انجام پایا جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔