" مجھے خود ڈی سی اور کمشنرز نے فون کر کے بتایا کہ بسیں اکٹھی کرنے کا ٹاسک ملا" مریم نواز نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

" مجھے خود ڈی سی اور کمشنرز نے فون کر کے بتایا کہ بسیں اکٹھی کرنے کا ٹاسک ملا" ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گوجرانوالہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ (ن ) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ "مجھے خود ڈی سی اور کمشنرز نے بتایا کہ 200  بسیں لانے کا ٹاسک دیا، ایک نے تو یہ بھی بتایا کہ بسیں اکٹھی کرلیں  لیکن بندے کیسے بھروں، مہنگائی مارچ کا اصل نام تو ردالفساد یا ردالشیطان ہونا چاہیے ، امر بالمعروف جلسے میں قومی وسائل استعمال کیے گئے، ٹیکس ادا کرنیوالوں کی کمائی جلسے کی نظر کی گئی ، سرکاری گاڑیاں ، وسائل اور ٹرنیں استعمال کی گئی ، یہ خاندانی مال تو نہیں۔

حمزہ شہباز کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ گوجرانوالہ سے اسلام آباد کے لیے 6 بجے روانہ ہوں گے ، ابھی ایک جلسہ سے خطاب کرنا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے جلسے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ " یہی پیسہ اشیائے خورونوش پر لگتا تو عوام  خوشحال ہوتی، گھی بھی لوگ قسطوں پر لینے پر مجبور ہیں، جن کے پاس حلال کا کمایا پیسہ ہے،  کس طرح لیتے ہیں، یہ وہی جانتے ہیں، جن کے پاس حکومتی ذرائع سے یا دوسرا پیسہ آتا ہے، انہیں مہنگائی نہیں لگتی،21  کروڑ لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے، ٹیکس کے پیسوں کے استعمال کا حساب دینا پڑے گا اور لیا جائے گا"۔

مریم نواز کاکہناتھاکہ "آپ کس نیکی کے لیے لوگوں کو بلا رہے ہیں، لوگوں کی گلیوں اور سڑکوں پر گاڑیاں پھر رہی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت ہے تو جلسے میں آئیں، یہ کیا طریقہ ہے؟ آج مذہب کارڈ استعمال کیا گیا۔ آپ مولانا کو بار بار ڈیزل کہتے ہیں، کوئی ایک شخص اگر ڈیزل کہلانے کا حقدار ہے تو وہ عمران خان ہے کیونکہ اس کے دور میں  قیمتیں بڑھی ہیں، آپ کہتے ہیں کہ  بلاول کو اردو نہیں آتی، وہ  اردو سیکھ سکا ہو یا نہیں لیکن آپ 75 سال میں تمیز نہیں سیکھ سکے،  آپ لوگوں کو چوہا کہتے ہیں، میرے خاندان نے ہمیں اس طرح کے القابات سے نوازنا نہیں سکھایا، 2018 کے سب سے بڑے چوہے آپ تھے جنہوں نے ووٹ کی پرچی کو کترا"۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -