عمل خوف کا علاج ہے ۔۔۔۔ آج ہی اپنے آپ کو بہتر کرنے کی کوشش شروع کر دیں

عمل خوف کا علاج ہے ۔۔۔۔ آج ہی اپنے آپ کو بہتر کرنے کی کوشش شروع کر دیں
عمل خوف کا علاج ہے ۔۔۔۔ آج ہی اپنے آپ کو بہتر کرنے کی کوشش شروع کر دیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
قسط:23
دوسری جنگ عظیم میں بحریہ میں نئے بھرتی شدہ ملازمین کا امتحان ہوا کہ کونسے سپاہی تیرنا جانتے ہیں اور کون سے سپاہی تیرنا سیکھ رہے ہیں کیونکہ تیرنے والے سپاہی سمندر میں دوسروں کی جان بچا سکتے ہیں۔ جو لوگ تیرنا نہیں جانتے تھے ان کو اس جگہ کھڑا کر دیا گیا جو لوگ تیرنا جانتے تھے۔ یہ بھی تربیت کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ اب وہ نوجوان جو کہ تیرنا نہیں جانتے تھے وہ صحت مند بھی تھے لیکن اپنے سامنے پانی کو دیکھ کر خوف زدہ تھے جبکہ ان کی حفاظت کیلئے ماہر غوطہ خور بھی موجود تھے۔ ان میں سے کچھ تو باقاعدہ غمگین آہیں بھر رہے تھے۔ ان نوجوانوں کا خوف واقعی حقیقی تھا۔ وہ جب گہرے پانی کی جانب دیکھتے تو ان کا خوف مزید بڑھ جاتا پھر اچانک ان نوجوانوں کو پانی میں دھکا دے دیا گیا اور اس کے بعد ان کا خوف ختم ہو گیا۔ یہ طریقہ بحریہ میں بہت معروف ہے۔ اس میں خاص نقطہ یہ ہے کہ عملی طور پر کوئی کام کرنے سے اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے لیکن کسی کام کو کسی دوسرے وقت کیلئے اٹھا رکھنا خوف میں اضافے کا باعث بنتاہے۔
اس بات کو باور رکھیے۔ عمل خوف کا علاج ہے!
عمل خوف کا علاج کر سکتا ہے۔ کچھ دیر پہلے کی بات ہے کہ ایک کمپنی کا ایگزیکٹو اپنا مسئلہ لے کر میرے پاس آیا اس کی عمر 40کے قریب ہوگی۔ وہ کمپنی کے ایک ذمے دار عہدے پر فائز تھا۔اس نے پریشانی کے عالم میں بتایا کہ مجھے خوف ہے کہ یہ ملازمت مجھ سے چھن جائے گی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ بس میری ملازمت کے دن ختم ہو نے کو ہیں۔
میں نے پوچھا آپ کی ملازمت کیوں چھن جائے گی؟
اس نے کہا :کیونکہ حالات میرے خلاف جا رہے ہیں جبکہ میرے شعبے میں ایک سال پہلے سیلزفگر 7 فیصد تھے لیکن یہ کوئی بری بات نہیں تھی جبکہ سٹور کی کل بِکری 6 فیصد تھی۔ حال ہی میں نے2 بیوقوفانہ فیصلے کیے جس سے کمپنی ترقی کی بجائے گھاٹے کی طرف جانے لگی۔ایسا پہلے کبھی میں نے سوچا ہی نہیں تھا اب ان معاملات پر میری گرفت ختم ہو گئی ہے۔ میرے ماتحت اور خریدار بھی یہ بات جانتے ہیں۔ سیل والے لوگوں نے اس بات کو نوٹ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے دوسرے افسران بھی جانتے ہیں کہ میں غلط جا رہا ہوں۔ سمجھ لو کہ میں ڈوب رہا ہوں اور اب وہ لوگ میرے ڈوبنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
میں نے اس سے پوچھا: اب آپ اس مسئلے کو کیسے نپٹا رہے ہیں؟ آپ نے حالات کو بہتر کرنے کیلئے کیا کوششیں کررہے ہیں؟
اس نے کہا میں کچھ زیادہ نہیں کر پا رہا لیکن مجھے امید ہے کہ شاید کچھ بہتر ہو جائے۔
میں نے کہا کہ خلوص دل سے امید رکھنا بہت بڑی بات ہے۔ میں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کیا آپ اپنی امید کو عمل کا سہارا نہیں دو گے؟
اس نے کہا ہاں آپ بتائیں گے کہ کیسے؟
آپ کے مسئلے کے حل کیلئے2 طرح کا عمل ٹھیک رہے گا۔ پہلا کام یہ کہ آپ آج ہی اپنے آپ کو بہتر کرنے کی کوشش شروع کر دیں۔ اس میں کچھ مشکلات تو آئیں گی لیکن آپ کی سیل بڑھنے کی بجائے کم بھی نہ ہوگی، پھر بھی آپ نیا سٹاک فروخت کرنے کی پوری کوشش کریں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی سیل ضروربڑھے گی۔ اپنے منیجر سے بھی بات کریں شاید وہ بھی آپ کوکوئی بہتر تجویز دے سکے۔اپنے خریداروں کو دعوت پر بلاﺅ، تاکہ انہیں پتہ چلے کہ آپ ابھی ٹھیک ٹھاک ہیں۔
اس کی آنکھوں میں دوبارہ چمک پیدا ہوئی۔ اس نے پوچھا کہ دوسرا کام مجھے کیا کرنا ہو گا؟
دوسرا کام یہ ہے کہ اپنے دفتر کے قریبی دوستوں سے کہیں کہ مجھے ایک اور کمپنی میں اس سے بھی زیادہ اچھی ملازمت کی پیشکش ہوئی ہے اور میں اس پر غور کر رہا ہوں۔( جاری ہے )
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -